غزل

غزل: تسلی دے کے بہلایا گیا ہے

نتیجہ فکر: ناطق مصباحی

               

تسلی دے کے بہلایا گیا ہے
وہ گنگا جل میں نہلایا گیا ہے

غریبی کے سبب وہ پڑھ نہ پایا
اسےدھوکہ سے بہلایا گیا ھے

غریبوں کی حمایت سے قیادت
غریبوں کو ہی تڑپایا گیا ھے

وہ روزی روٹی کا طالب ہوکیسے
حقیقت میں وہ بہلایا گیا ھے

کسانوں کے لئے سازش کا پھندا
وہ بچتاکیسےالجھا گیا ھے

وہ دھوکہ کھا کے بھی ساکت ھے ناطق
غلط باتوں کو سمجھایا گیا ھے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے