یومِ آزادی کی تقاریب سےیکجہتی کاپیغام ملا

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

تحریر : محمدتوحیدرضابنگلور

ملک بھرمیں بروزِاتوار2021بڑے جوش وخروش کےساتھ میں 75ویں یومِ آزادی کی تقاریب کاانعقادکیاگیا شہیدانِ جنگِ آزادی کی بارگاہ میں خراجِ تحسین پیش کیاگیا مسلم ہندوسکھ عیسائی سب کے سب ہندوستانی پرچم کشائی کرتے ہوئےجنگِ آزادی میں سرگرم قائدینِ جنگِ آزادی کی تعریفوں کےپل باندھ دیئے ہندوستان مختلف ریاستوں مختلف علاقوں مختلف دیہاتوں مختلف زبانوں مختلف طور طریقوں اورمختلف الفاظ کا وسیع ذخیرہ ہے جہاں اپنی خوش آہنگ آوازوں،اور مختلف زبانوں سے آشنہ ہندوستانی راشٹریہ (قومی)ترانہ کےساتھ ڈاکٹراقبال صاحب کالکھاہوا ترانہ ۔
سارے جہاں سے اچھاہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
یہ ترانہ بھی بیک زباں ہوکر سب گنگناتے اورحُب الوطنی کاثبوت دیتے ہیں۔جنگِ آزادی ہویا 26 جنوری ہردھرم ہرمذہب کےماننے والوں میں یکجہتی دیکھائی دیتی ہے سبہوں کے چہروں پرخوشی کےآثار نمایاں ہوتے ہیں سب کی دکانیں بندہوتی ہیں سب اپنی سواریوں پرملکی پرچم لگاکرفخرمحسوس کرتےہیں کہ ہم ہندوستانی ہیں آپس میں ایک دوسرے کو یومِ آزادی کی مبارکبادی پیش کرتےہیں انگریزوں کے تسلط سے آزادی کےبعدملک میں مسلم ہندو سکھ عیسائی ہردھرم کےماننے اوراپنے اپنے مذہب پرقائم رہ نےاوراپنے اپنے مذہب پر چلنے اوریکجہتی کوبرقراررکھنے کے لئے قانون نافذ کیاگیاجسے بھارت کا آئین کہاجاتاہے اب سب باشندگانِ ہندکوآزادی کے ساتھ اپنے اپنے مذہب پرچلنے کا برابرکاحق ہے اسی لئے توہندوستان میں جگہ جگہ مساجد ہیں توجگہ جگہ مندربھی ہیں چرچ اورگردوارہ بھی ہیں سیاست میں حصہ لینے کا سب کو حق ہے توسب کواپنے اپنے ہنرکےمطابق تجارت کرنے کابھی حق ہے سب مذاہب والے شہیدانِ جنگِ آزادی کاتذکرہ کرکہ یہ عہدکرتے ہیں کہ ہم مُلک کے لیےضرورت پڑھنے پراپنا تن من دھن قربان کرکہ اپنے ملک کی حفاظت کریں گے ملکیوں پرتلوار نہیں ملکیوں پرظاہری فانی طاقت کااستعمال نہیں ملکیوں کاقتلِ عام نہیں بلکہ ہم عہد کرتے ہیں جوبھی ملکِ ہندوستان پربُری نظر ڈالے ہم اس سے اپنی جان پر کھیل کر ملک کی اور ملکیوں کی حفاظت کریں گے یہاں تک تویکجہتی کاپیغام دیکھائی دیتا ہے
پَرمخصوص شددپسند طبقہ یومِ آزادی منانے کے بعداپنے اپنےگھروں کی طرف پلٹےتودلوں میں ہندوراشٹر ماب لنچنگ ایک دوسرے کی عداوت بغض وحسد تکبر کسی کی حق تلفی وغیرہا سے لیس ہوجاتے ہیں سبہوں نے ڈاکٹر اقبال صاحب کے کلام کو تو پڑھا کہ۔
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا ۔
مرحوم ڈاکٹر اقبال صاحب نے پہلے ہی اپنے خوبصورت اشعار میں کہاکہ مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا۔یاد رکھیں کہ مذہبی لوگ دوقسم کے ہوتے ہیں ایک روشن فکراوردوسرے شدت پسند۔روشن فکر رکھنے والوں سے ملک میں امن قائم رہتا ہے اوردوسرا شددپسندطبقہ۔ شددپسندطبقہ نےکتنے گھربرباد کردئے کتنوں کی جان لےلی پھر ڈاکٹر اقبال نےکہا ہندوستانیوں ہم سب ملکی ہیں ہندی ہیں ہم وطن ہیں اورہندوستان کسی کی جاگیر نہیں ہےبلکہ ہندوستان ہم سب کاملک ہے سب کوبرابرکاحق حاصل ہے کوئی کرائے دار نہیں ہے اس یومِ آزادی سے یہ پیغام ملاکہ ہم اتحاد کے ساتھ ایک دوسرے کاخیال کرتے ہوئے ملن ساری سے پُرسکون زندگی گذاریں خود بھی آزادی سے رہیں دوسروں کو بھی آزادی سے رہنے دیں کسی کی آزادی پرغلط نظر نہ ڈالیں اللہ تعالیٰ ملکیوں میں یکجہتی قائم رکھنے کاذوق وشوق عطاکرے اور دشمنوں کی شرارتوں سے ملک وملکیوں کو محفوظ رکھے آمین

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

ہمیشہ باقی رہے جمہوریت ہندوستان کی!

تحریر: جاوید اختر بھارتی یہ حقیقت ہے کہ علماء کرام کی بدولت ہی بھارت انگریزوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔