مضامین و مقالات

ابّا جان!!

تحریر: غلام مصطفیٰ نعیمی

عرصہ ہوا ایک شعر سنا تھا؛
دنیا میں آئے ہو تو کچھ ایسا کر جاؤ مہربان
کہ ہر گلی کوچے سے آواز آئے ابّا جان ابّا جان

آج کئی سال بعد یوپی میں "ابّا جان” سرخیوں میں ہے۔ نیوز چینل سے لیکر ایوان اسمبلی تک ‘ابا جان’ ہی کا شور ہے۔

پچھلے دنوں سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے خود کو بی جے پی والوں سے بڑا ہندو قرار دیا۔اس بیان پر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے رام مندر کے بہانے ملائم سنگھ کو اکھلیش کا ابّا جان کہہ کر اعتراض جتایا۔بس اسی بات پر اکھلیش بھیّا ہتھے سے اکھڑ گیے، مانو کسی راہ چلتے کو ان کا باپ کہہ دیا گیا ہو۔انہوں نے نہایت غصے میں جواب دیا کہ ہمارے "پِتا جی” کو کچھ کہا تو ہم بھی ان کے پِتا جی کو کچھ کہہ دیں گے۔اکھلیش کی ناراضگی سے بے پرواہ یوگی آدتیہ ناتھ نے اسمبلی میں ایک بار پھر یہی لفظ دہرایا،حسب امید سماج وادی لیڈران غصے میں آگیے اور احتجاج وہنگامہ شروع ہوگیا۔

معاشرتی اعتبار سے لفظ ابا جان مسلم تہذیب کی نمائندگی کرتا ہے۔ہندو سماج میں باپ کو پِتا جی کہا جاتا ہے۔آدتیہ ناتھ نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ لفظ ابا جان کا استعمال کیا۔کیوں کہ یوگی کی منشا اس لفظ کے سہارے ہندو ووٹروں کو یہ میسج دینا تھا کہ اکھلیش ایک مسلم پرست لیڈر ہے اس لیے نہایت چابک دستی سے ملائم کا ذکر کرتے ہوئے لفظ ابا جان استعمال کیا حالانکہ یوگی آدتیہ ناتھ خالص ہندی میں بات کرتے ہیں لیکن سیاسی مفاد سادھنے کے لیے خالص اردو لفظ استعمال کیا تاکہ ہندو ووٹوں کو پولرائز کیا جاسکے۔یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنا داؤں چل دیا اور اکھلیش یادو اس چال میں بری طرح پھنس گیے۔اب یہ طے ہوگیا کہ آنے والے وقت میں "ابا جان” سیاسی مدعا ضرور بنایا جائے گا۔بی جے پی جو چاہتی تھی وہ مسیج چلا گیا مگر مزے کی بات ہے کہ سماج وادیوں کو ابھی تک کچھ نہیں سوجھا ہے بس ایک سُر میں "ابّا جان” کی مخالفت کیے جا رہے ہیں۔اب وزیر اعلیٰ سمیت سارے بی جے پی لیڈر پوچھ رہے ہیں کہ ابا جان میں ایسا کیا ہے کہ اکھلیش اتنا برا مان رہے ہیں؟

اصل وجہ یہ ہے!

مسلمانوں کے تئیں یوگی آدتیہ ناتھ اور بی جے پی کا ایجنڈا ایک دم صاف اور کھلا ہے لیکن اکھلیش اس لفظ سے اتنا کیوں چڑھ رہے ہیں؟
سیدھا جواب یہ ہے کہ اکھلیش مسلم حامی نہیں دکھنا چاہتے کہ کہیں ہندو ووٹر ناراض نہ ہوجائے بس اسی سوچ کے تحت ‘ابا جان’ کی مخالفت کی جارہی ہے۔بی جے پی نے کمزور نس پکڑ لی ہے اب وہ سماج وادیوں پر سوار ہوکر پوچھ رہے ہیں کہ اکھلیش مسلم ووٹ تو چاہتے ہیں لیکن اردو لفظ سے چڑھ رہے ہیں،ابا جان اچھا لفظ ہے کوئی گالی تھوڑی ہے جو اکھلیش اتنا برا مان رہے ہیں؟ اس بات کا اکھلیش سمیت کسی سماج وادی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اکھلیش یا تو یوگی کے بیان کو نظر انداز کرتے یا یوگی حکومت کے خراب نظم و نسق پر بات کرتے لیکن اکھلیش میاں(معذرت…اکھلیش راجا) یوگی کی کمزور نس پکڑنے کی بجائے اپنی کمزوری دکھا بیٹھے اب ہر طرف ابا جان ابا جان کی صدائیں گونج رہی ہیں اور بی جے پی والوں کے تیور سے لگتا ہے کہ ابا جان الیکشن تک یوپی میں ڈیرا جمائے رہیں گے۔

اس ہنگامے سے ایک بار پھر یہ بات ظاہر ہوگئی کہ سیکولر لیڈر، شدت پسند ہندوؤں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے، اس لیے ہر اس چیز سے بچتے ہیں جس سے مسلم حامی ہونے کا الزام آسکے۔انہیں مسلم ووٹ تو چاہیے مگر مسلم حامی کسی طور پر نہیں دکھنا چاہتے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان سیکولروں کی عزت صرف مسلم ووٹروں کی بدولت ہی بچی ہوئی ہے ورنہ ہندو ووٹر انہیں کب کا دھتکار چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے