تحریر: سراج احمد نوری منظری
صحافتی ترجمان تحریک فروغ اسلام و صدر شعبہ نشر واشاعت شاخ بریلی شریف
میڈیا ایک ایسا ادارہ ہے جس کو جمہوریت کا چوتھا خمبا کہا جاتا ہے اور جو کسی بھی جمہوری ملک کی عوام کی ترجمانی کرتا ہے اور عوام کے مسایل کو حکومت وقت کے ایوان تک پہونچانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے ملک میں ہونے والے کرپشن اسکیم اور سیاسی غنڈہ گردی وغیرہ سے عوام الناس کو آگاہ و متنبہ کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ جو ایڈمنسٹریشن کو اپنی جوتی کورٹ اور قانون کو اپنی لونڈی سمجھتے ہیں وہ بھی میڈیا سے خوف کھاتے ہیں اور میڈیا کے نام سے سہمے سہمے سے نظر آتے ہیں لیکن جمہوریت کے اس چوتھے ستون کے رکھوالے ہی سیاست کی منڈی میں اپنے ضمیروں کو نیلام کردیں تو پھر اس ملک کی جمہوریت و سیاست خطرے میں پڑ جاتی ہے
دور حاضر میں ایسے ہی کچھ حالات دنیا کے سب سے بڑے جمہوری اور مختلف مزاہب و تہزیب اپنے دامن میں سمیٹنے والے ملک ہندوستان کی میڈیا کے ہیں جس کی رپورٹنگ کا انداز نیوز ریڈنگ کا طریقہ اور اخبارات کی سرخیاں کچھ یوں ہی بیان کرتی نظر آ رہی ہے کہ انہوں نے بھی اپنے دلوں کی آوازوں کو سننا بند کر دیا ہے اور اپنے ضمیروں کی بولی سیاست کی منڈی میں لگوا چکے ہیں
ابھی جس طرح ہندوستان کے حالات خاص کر ترپورہ کے بنے ہوئے ہیں جس طرح اقلیت اور خاص کر مسلمانوں پر جگہ جگہ ظلم و تشدد کیا جا رہا ہے اور بات اب ظلم و تشدد سے نکل کر قتل وقتال کی منزل تک پہنچ گئی ہے لیکن پھر بھی میڈیا کو جو کردار ادا کرنا چاہیے اس سے ابھی کوسوں دور ہے نہ کتنے بے بے قصور مسلمانوں کو شہید کر دیا
ستم بالائے ستم یہ ہے کہ جو لوگ خاص کر بانی تحریک فروغ اسلام حضرت قمر غنی عثمانی و دیگر ذمہداران تحریک فروغ اسلام اپنے مظلوم بھائیوں کی خیر خواہی کے لئے ترپورہ پہنچے تو ترپورہ کے پرشاسن نے مدد کرنے بجائے جھوٹی ایف آئی آر درج کرکے گرفتار کر لیا اور اس سے بھی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عدالت جسے انصاف کا گھر کہا جاتا ہے وہاں سے بھی انصاف نہیں ملا اور ضمانت خارج کردی گئی اور ارباب حکومت و میڈیا اس پر بھی خاموش رہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ زعفرانی حکومت اور اس کے عناصر کے ارادے اسلام و مسلمین کے حق میں بہتر نہیں ہیں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی حفاظت فرمائے