سیاست و حالات حاضرہ مذہبی مضامین

اسلام اور دہشت گردی

ازقلم: محمد ایوب مصباحی
متعلم :درجۂ فضیلت، جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ یو پی
سکونت : بہرائچ شریف

اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے۔ اسلام کا مقصد اولیں دنیا سے ظلم و بربریت کا خاتمہ کرکے اسے عدل وانصاف سے بھرنا ہے۔ جیسا کہ اسکے نام ہی سے ظاہر ہے۔ اس لیے اسلام ہر ایسی کوشش کی تائید کرتا ہے جو قیام امن کے لیے کی جائے۔ اور ہر ایسے عمل سے نفرت کرتا ہے جو فتنہ وفساد کا باعث ہو۔ ارشاد ربانی ہے "والله یدعو الی دار السلام” جبکہ فسادیوں کی مذمت میں متعدد بار یہ ارشاد فرمایا "ان الله لایحب المفسدین۔ اس مفہوم کی سینکڑوں آیتیں قرآن پاک میں موجود ہیں۔اسلام میں صرف مسلم معاشرہ کے اندر کسی بھی اختلاف کو ختم کرنے کے سلسلے میں تشدد سے کنارہ کشی کا حکم نہیں دیا گیا ہے، بلکہ بین الاقوامی سطح یا ایک خطے یا سرزمین پر رہنے والے مختلف مذاہب وادیان کے لوگوں کے ساتھ بھی اعلیٰ درجے کے حسنِ اخلاق کی ہدایت دی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ ’’جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں کی اور تمہیں جلا وطن نہیں کیا ان کے ساتھ سلوک واحسان کرنے اور منصفانہ بھلے برتاؤ کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ تعالیٰ تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘ (الممتحنہ آیت ۸)
دہشت گردی اور تشدد کے سلسلے میں اسلام کا موقف بالکل صاف اور واضح ہے کہ اسلام قتل ناحق کا مخالف ہے، جس کی وعید قرآن کریم کچھ اس طرح بیان کرتا ہے: جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جِلالیا اس نے گویا سب لوگوں کو جلالیا۔ (المائدۃ، آیت ۳۲)

مندرجہ ذیل باتیں اقوام ِعالم میں نفرت ، دشمنی ، لڑائی جھگڑے اور فتنے و فساد و خونریزی کا سبب بنتی ہیں ، جن کی وجہ سے ملکی یا بین الاقوامی طور پر بدامنی پھیلتی ہے ،امن و سکون برباد ہوتا ہے اور بے سکونی و بے چینی اپنے ڈیرے ڈال دیتی ہے ۔ (۱) اپنا مذہب، عقیدہ، نظام فکر و طرز معاشرت وغیرہ دوسروں پر جبرا مسلط کرنا۔
(۲) دوسروں کے مال پر ناجائز قبضہ کرنا (۳) عدم مساوات۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام اس حوالے سے کیا تعلیم دیتا ہے ؟
اول کی مذمت میں قرآن پاک میں ہے۔ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ(یونس، آیت ۹۹)
اور” لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ (البقرہ آیت ۲۵۶)
دوم سے منع کرتے ہوئے فرمایا :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ۔
اور سوم کے بابت فرمایا۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ۔
اور فتنہ کی سر کوبی کے لیے فرمایا: الفتنة اشد من القتل.
دہشت گردی تو بہت بڑی بات ہے جو چیزیں آپسی رنجش کا سبب بن سکتی ہیں، اسلام ان سے بھی سختی سے روکتا ہے چنانچہ ارشاد ربانی ہے:”یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ” اس آیت میں گمان کرنے اور عیب جوئی کرنے پر سختی سے پابندی لگادی گئی اور غیبت سے شدت کے ساتھ منع فرمایا گیا چغل خوری کی وعید بیان فرمائی :لا یدخل الجنة نمام وغیرہ۔
مگر ان سب کے باوجود آج اسلام پر یہ الزام لگتا ہے کہ وہ تلوار سے پھیلا ہے مگر اس کی حیثیت تار عنکبوت سے زیادہ کچھ نہیں۔ کیوں کہ ایمان نام ہے تصدیق بالقلب اور اقرار بللسان کا اور اکراہ میں تصدیق حاصل نہیں ہوسکتی ۔

اخیر میں انسانی عظمت کے بیان میں حضور ﷺ کا ارشاد ملاحظہ ہو۔ الخلق عيال الله ، فأحب الخلق إلى الله من أحسن إلى عياله.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے