ربیع الاولنبی کریمﷺ

"عیدِ میلاد” سببِ وجودِ کُل کائناتﷺ کی شان ہے

ازقلم: حسین قریشی
بلڈانہ مہاراشٹر


ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایسے آخرالزماں نبی ہے۔ جن کا تذکرہ سب سے پہلے ہوا۔ جن کے نور کو خالقِ کائنات اللہ ربّ العالمین نے کائنات سے پہلے بنایا۔ آپ کی تشریف آوری کے لئے کُل کائنات کی تخلیق ہوئی۔ اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ اللہ عزوجل نے درجہ بدرجہ روحِ زمیں پر توریت ، انجیل اور زبور کے ساتھ ساتھ تمام صحیفوں میں کیا۔ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصافِ نبوت، عظمت ، معجزات اور برتری کو بتایا۔
تاکہ دنیا سببِ وجودِ کائینات کی شان و شوکت ،عظمت اور بلند مرتبے کو جان سکے اسے پہچان سکے۔ یہ سچائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت و جہنم، انساں وجن، فلک ملک، زمیں زماں، شجر حجر، شمس و قمر، مکیں مکاں اور حور وملک سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے پیدا کیا ہے۔ مشہور و معروف نعت خواں محترم نظمی صاحب نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہا۔ کہ
شمس و قمر، شجر حجر، حور و ملک زمیں فلک
انسان و جن سبھی میں ہے انوارِ مصتفٰی فقط
رسولِ کریم پیارے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر ایک ادا کو اللہ عزوجل نے قرآن کریم میں جگہ جگہ بیان کیا ہے۔ اللہ ربّ العالمین خود پیارے آقا رحمت اللعالمین پر درود وسلام پڑھتا ہے۔ اس بات سے سرورِکونین کی عظمت و مرتبے کو سمجھاجا سکتا ہے۔ سرکارصلی اللہ علیہ وسلم کی محبت صحابہ اکرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دلوں میں ذہنوں میں پیوست تھی۔ جس کی بناء پر ان کے اعمال میں جان تھی۔ ان کا ایمان کامل و مضبوط تھا۔ اس کا اندازہ ہمیں مختلف واقعات سے ہوتا ہے۔ ہمیں بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی پکی محبت رکھنی چاہیے۔ جس کی اصل دلیل اللہ عزوجل اور پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات پر عمل کرنا ہے۔ ایسی محبت ، عظمت اور عقیدت جس کے قول و فعل میں تضاد ہو یعنی صرف زبانی دعویٰ کرنے سے اصل محبت و عقیدت کی برکات کا حصول نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ ہمیں قرآن و حدیث پر مکمل طور پرنہایت ہی احترام و خلوص کے ساتھ، نبی کی محبت میں ڈوب کر عمل کرنا چاہیے۔ یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت ہے۔ جو ہمیں دونوں جہانوں میں کامیابیاں و خوشیاں عطا کرینگی۔ اللہ ربّ العزت نے جگہ جگہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان و شوکت کو بیان کیا ہے۔ جب کبھی کسی صحابی یا منافق یا کافر کے عمل سے رسولِ اکرم نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی گستخانہ عمل ، فعل یا قول نکلا۔ تب اللہ عزوجل نے قرآنی آیات نازل فرمائی۔ اور اپنے محبوب کی عظمت و مرتبے کو بیان کرتے ہوئے اس قول و فعل سے باز رہنے کی تلقین کی۔ چنانچہ ایک آیات کا شانِ نزول یہ ہےکہ ” جب نبیَ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ اکرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو واضح و نصیحت کرتے تو صحابہ اکرام میں سے کوئی دوبارہ کہنے کی درخواست کرنے کے لئے کہتے ” راعنا یا رسول اللہ۔” تب نبی اکرم نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ آرشاد فرماتے۔ ‘راعنا’ کے عربی زبان میں ایک اور معنی ‘چرواہا’ کے بھی ہوتے ہے۔ چنانچہ یہودی منافق لوگوں کو جب اس بات کا علم ہوا کہ مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو راعنا کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ اس بات سے وہ لوگ خوش ہوئے اور وہ آپس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں خوستاخی کرنے لگے۔ یہ بات اللہ عزوجل کو پسند نہ آئی اس لیے اللہ تعالٰی نے فوراً ایک آیت نازل فرمائی۔ جس کا مفہوم ہے کو ” اے مسلمانوں تم راعنا نہ کہا کرو۔ تم کہو ‘اَنظُر٘نا’ اور کیا ہی اچھا ہوتا تم اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بغور سماعت کرتے۔” اس طرح کئی آیات سے اللہ ربّ العزت نے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ومرتبہ، شان و شوکت ، ادب و احترام اور اعلیٰ مقام کی نصیحت فرمائی ہے۔ جو ایمان کا اہم جزو ہے۔ اسی بات کو شاعر نے اس انداز میں پیش کیا کہ

محمد کی محبت دینِ حق کی شرطِ اول ہے۔
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نہ مکمل ہے۔
میرے عزیز ساتھیوں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو بیان کرنا کسی کے بس میں نہیں۔ دنیا میں جتنے بھی حضرات نے پیارے آقا صل اللہ علیہ وسلم کی شان و شوکت، عظمت و مرتبے، آپ کے اخلاقِ کریمہ، آپکی خصوصیات، آپ کے معجزات کو بیان کرنے کے لئے قلم اٹھایا۔ تو وہ تمام تحریر کرتے کرتے تھک گئے اور سبھی نے بس یہ ایک جملے پر اپنے قلم کو سکونت دے دی کہ ” بعد از خدا بزرگ تو ہے قصہ مختصر ۔۔۔۔۔۔‌۔‌
عیدِ میلاد کے پر اثر خوشی کے موقع پر چند آیات پیش کرتا ہوں۔ جس سے ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و بلند مرتبہ سے آگاہی ہوتی ہے۔ ایک جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے عظیم ہونے کی گواہی خود اللہ تعالیٰ نے دے دی۔
وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ.
’’اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں (یعنی آدابِ قرآنی سے مزّین اور اَخلاقِ اِلٰہیہ سے متّصف ہیں)‘‘۔
اور احسانات اور رحمتوں کا عالم یہ ہے کہ سارے جہانوں کے لیے ان کا وجود سراپا رحمت ہے جیسا کہ سورۃ انبیاء میں ارشاد ربانی ہے:
وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ.
(الانبیاء)
اور بالمومنین روف الرحیم تو ہیں ہی اس سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے خود مومنوں کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کو اپنا سب سے بڑ ااحسان قرار دے دیا۔
لَقَدْ مَنَّ اللهُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلاً.
(آل عمران )
تحقیق اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا کہ ان میں سے ہی اپنا رسول مبعوث فرمایا ایسی صورت کہ جس کی وجہ سے انسان بے ساختہ کسی سے والہانہ محبت و عشق کرنے لگ جاتا ہے اور بے خود و دیوانہ ہوکر کسی پر دل و جان سے فدا ہوجاتا ہے اس کے حسین و جمال پیکر دلربا کو دیکھ کر بندہ بے ساختہ اس پر فریفتہ ہوجاتا ہے اور اگر اس پہلو یا اس زاویہ نگاہ کے مطابق سراپا مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نگاہ ڈالی جائے تو یہاں پر حسن وجمال کی تمام تر رعنائیاں اور خوبصورتی کے تمام تر معیار حسن مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نثار نظر آتے ہیں۔ حضرت حسان بن ثابتؓ حضور علیہ السلام کے حسن سراپا کے بارے میں اپنے نعتیہ کلام میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں:

واحسن منک لم ترقط عینی
واجمل منک لم تلد النساء
خلقت مبرا من کل عیب
کانک قد خلقت کما تشآء

سردست ہمارا منشاء اس بات کا کھوج لگانا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شمائل مبارکہ کے باب میں جو احادیث کا عظیم ذخیرہ موجود ہے قرآن اس کی تائید میں کیا صادر کرتا ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ ذکر مصطفی اور سیرت مطہرہ اور شمائل و فضائل کے باب میں قرآن سے بڑھ کر زیادہ مستند اور معتبر ذریعہ کوئی نہیں چنانچہ قرآن نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سراپا مبارک اور حسن مجسم کا بیان ایسے دلآویز انداز سے کیا ہے کہ عاشقان جمال مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے سن کر وجد میں آجاتے ہیں اور ان کے دل میں عشق و محبت کے ایسے چراغ روشن ہوجاتے ہیں جنہیں حوادث زمانہ کی کوئی آندھی بجھا نہیں سکتی۔

قرآن اور سراپا مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیان:
قرآن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود مسعود کو سراپا نور قرار دیتا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

قَدْ جَآئَکُمْ مِّنَ اللهِ نُوْرٌ وَّکِتٰبٌ مُّبِیْنٌ.
’’بےشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور (یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگیا ہے اور ایک روشن کتاب (یعنی قرآن مجید)‘‘۔
تمام مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہاں نور سے مراد ذات مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔
حسن سراپا مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سراج منیر قرار دینا۔

یٰـٓاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّـآ اَرْسَلْنٰـکَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا. وَّ دَاعِیًا اِلَی اللهِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا.

’’اے نبِیّ (مکرّم!) بے شک ہم نے آپ کو (حق اور خَلق کا) مشاہدہ کرنے والا اور (حُسنِ آخرت کی) خوشخبری دینے والا اور (عذابِ آخرت کا) ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اس کے اِذن سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور منوّر کرنے والا آفتاب (بنا کر بھیجا ہے)‘‘۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن سراپا کو سراج منیر قرار دیا جانا ایک قرآنی استعارہ ہے۔ سراج لغت میں آفتاب یا چراغ کو کہتے ہیں اور منیر اسے کہتے ہیں جو دوسروں کو روشن کردے۔ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود نہ صرف خود روشن و منور ہے بلکہ چاروں طرف روشنی بھی بانٹ رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کی قسم کھائی ہے کہ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پوری زندگی کی قسم کھائی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
لَعَمْرُکَ اِنَّهُمْ لَفِیْ سَکْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ.
’’(اے حبیبِ مکرّم!) آپ کی عمرِ مبارک کی قَسم، بے شک یہ لوگ (بھی قومِ لوط کی طرح) اپنی بدمستی میں سرگرداں پھر رہے ہیں‘‘۔
جس اللہ نے کسی نبی پیغمبر کی پوری زندگی کی قسم یوں نہیں کھائی یہ منفرد مقام و مرتبہ صرف حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ستودہ صفات کو حاصل ہے کہ آپ کی پوری زندگی کی قسم کھائی جارہی ہے۔
چہرہ انور اور گیسوئے عنبریں کی قسم:
قرآن مجید کے صفحات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسد اطہر کے اعضاء مبارک یعنی چہرہ انور گیسوئے مبارک اور چشمان مقدس کے ذکر تک سے معمور ہیں۔
وَالضُّحٰی. وَالَّیْلِ اِذَا سَجٰی. مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰی.
’’قَسم ہے چاشت کے وقت کی (جب آفتاب بلند ہو کر اپنا نور پھیلاتا ہے)۔ اور قَسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے۔ آپ کے رب نے (جب سے آپ کو منتخب فرمایا ہے) آپ کو نہیں چھوڑا اور نہ ہی (جب سے آپ کو محبوب بنایا ہے) ناراض ہوا ہے‘‘۔
یہاں تشبیہ کے پیرائے میں چاشت کی طرح چمکتے ہوئے چہرہ زیبا کا ذکر والضحیٰ کہہ کر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شانوں کو سیاہ رات کی طرح چھائی ہوئی زلفوں کا ذکر واللیل کہہ کر کہا گیا ہے۔
حضور ﷺ کی چشمان مقدس کا بیان:
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے آقا دو جہاں کی مبارک آنکھوں کا بھی ذکر کیا ہے:
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی.
’’اُن کی آنکھ نہ کسی اور طرف مائل ہوئی اور نہ حد سے بڑھی (جس کو تکنا تھا اسی پر جمی رہی)‘‘۔
قرآن و سنت آیات الہٰیہ کے باب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمال بصارت کا ذکر ان الفاظ میں کرتا ہے:
لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰ یٰتِ رَبِّهِ الْکُبْرٰی.
’’بےشک انہوں نے (معراج کی شب) اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں‘‘۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک کا بیان:
قرآن مجید نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک کا بھی ذکر کیا ہے:

اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ
’’کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ (انوارِ علم و حکمت اور معرفت کے لیے) کشادہ نہیں فرما دیا‘‘۔
منصب نبوت اور عظیم پیغمبرانہ مشن کی ذمہ داریوں کا بوجھ جو آپ کی پشت مبارک پر تھا جسے رب العزت نے کمال لطف و شفقت سے ہلکا کردیا تھا۔

گفتار مصطفی ﷺ کا ذکر:
قرآن مجید حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بول چال، گفتگو اور ذہن مبارک کا ذکر بھی کرتا ہے:

اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ.
’’بے شک یہ (قرآن) بزرگی و عظمت والے رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا (منزّل من اللہ) فرمان ہے، (جسے وہ رسالتاً اور نیابتاً بیان فرماتے ہیں)‘‘۔

یہ کتنی عظیم بات ہے کہ خدا نے اپنے کلام کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام سے تعبیر فرمایا پھر قرآن نے ذہن انسانی سے اس خلیجان کو رفع کرنے کے لیے انسان ہونے کے ناطے اس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام کو انسانی کلام پر محمول نہ کرلیا جائے۔ واشگاف انداز میں اعلان کردیا کہ میرا رسول خواہش نفس سے ایک لفظ بھی زبان پر نہیں لاتا بلکہ جوکہتا ہے اللہ کی طرف سے وحی ہوتا ہے۔

وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰی. اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی.

’’اور وہ (اپنی) خواہش سے کلام نہیں کرتے۔ اُن کا ارشاد سَراسَر وحی ہوتا ہے جو انہیں کی جاتی ہے‘‘۔
بس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لب سے جو کلام ہوتا ہے وہ وحی الہٰی ہے، بس اتنا فرق ضرور ہے کہ اگر وہ وحی جبرائیل امین علیہ السلام کے توسط سے قلب مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اترے تو اسے قرآن کہا جاتا ہے اور وہ وحی جلی اور وحی متلو کہلاتی ہے جبکہ دوسری وحی خفی اور غیر متلو کہلاتی ہے اور اسے حدیث کا درجہ حاصل ہے۔

فعلِ مصطفی ﷺ فعلِ خدا ہے:
جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر بات از روئے قرآن اور وحی الہٰی ہوتی ہے اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فعل کو بھی فعل خداوندی قرار دیا جاتا ہے۔ جیسے ارشاد ہوتا ہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللهَط یَدُ اللهِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ.

’’(اے حبیب!) بے شک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر (آپ کے ہاتھ کی صورت میں) اللہ کا ہاتھ ہے‘‘۔

اس آیت میں بیعت رضوان کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے حالانکہ صحابہؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دس اقدس پر بیعت کی تھی۔

قلبِ مصطفی ﷺ اور قرآن:
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کمال بصارت کے ذکر کے بعد قرآن آپ کے قلب انور کا ذکر بھی کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی.
’’(اُن کے) دل نے اُس کے خلاف نہیں جانا جو (اُن کی) آنکھوں نے دیکھا‘‘۔
حضور ﷺ کے دست اقدس کا بیان:
قرآن مجید میں اللہ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں کا ذکر اس شان سے کیا ہے کہ دست مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا دست اقدس قرار دے دیا۔
یَدُ اللهِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ.
’’ان کے ہاتھوں پر (آپ کے ہاتھ کی صورت میں) اللہ کا ہاتھ ہے‘‘۔
حضور ﷺ کے سینہ اقدس کا بیان:
اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ اقدس کا ذکر کرتے ہوئے آپ کو شرح صدر کی دولت عنایت فرمادی۔
اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ.
’’کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ (انوارِ علم و حکمت اور معرفت کے لیے) کشادہ نہیں فرما دیا‘‘۔
فرمایا حضرت موسیٰؑ نے اللہ تعالیٰ سے شرح صدر کی دعا کی جسے قرآن نے بیان کیا۔ رب شرح لی صدری۔ اور مقام مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ہے کہ خود اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کے شرح صدری کا اعلان فرمادیتے ہیں اور فرمایا لک تمہارے لیے کھولا تاکہ تو راضی ہوجائے اور کتنا کشادہ کیا انشرح صدر مقصد اور وسعت کا تعین نہیں فرمایا پس مفہوم کچھ یوں ہوگیا اے محبوب ہم نے آپ کا سینہ اس قدر کھول دیا کہ ارض و سماء کی ساری وسعتیں اس میں سماگئی ہیں۔ میں نے تمام اسرار و رموزکے خزانے آپ کے سینے میں سمودیئے ہیں۔

آپؐ کی ہر ادا باری تعالیٰ کی خصوصی توجہ کا مرکز ہے نگاہ مصطفیؐ اور حضور کے تکنے کا ذکر:
اللہ تعالیٰ نے چہرہ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر اتنی شان کے ساتھ کیا کہ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک کو تکتے رہنا اور اپنی نگاہوں میں رکھنا اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ جیسا کہ قبلہ کی تبدیلی کے واقع سے معلوم ہوتا ہے۔

قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْهِکَ فِی السَّمَآءِج فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰهَا.

’’(اے حبیب) بے شک ہم نے آپ کے چہرہ کا آسمان کی طرف بار بار اٹھتا دیکھ لیا۔ پس بے شک ہم آپ کو اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس کو آپ پسند کرتے ہیں‘‘۔

دوسرے مقام پر قرآن نے واضح کردیا ہے کہ آپ کا ہر عمل اور ہر ادا رب العزت کی توجہ کا مرکز ہے۔
حضورؐ کے قیام و رکوع اور نشست و برخاست کا ذکر:

الَّذِیْ یَرٰکَ حِیْنَ تَقُوْمُ. وَتَقَلُّبَکَ فِی السّٰجِدِیْنَ.

’’جو آپ کو (رات کی تنہائیوں میں بھی) دیکھتا ہے جب آپ (نمازِ تہجد کے لیے) قیام کرتے ہیں اور سجدہ گزاروں میں (بھی) آپ کا پلٹنا دیکھتا (رہتا) ہے‘‘۔
یعنی اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم لمحہ لمحہ آپ کو تکتے رہتے ہیں آپ کو اپنی نگاہوں میں رکھتے ہیں آپ کی زندگی کا کوئی لمحہ ایسا نہیں جو ہماری خصوصی نوازشات سے سرفراز نہ ہو یہاں تک کہ جب تو اٹھتا بیٹھتا ہے تو ہم تیری نشست و برخاست کو بھی دیکھتے ہیں۔

حضور ﷺ کی آواز کا ذکر:
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کی بارگاہ کے آداب بجا لانے کی تعلیم فرمائی تو حکم دیا خبردار تمہاری آوازیں میرے نبی کی آواز سے اونچی نہ ہونے پائیں۔

یٰـٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ.

’’اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبئ مکرّم ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سے بلند مت کیا کرو‘‘۔
(الحجرات)
آنحضور ﷺ کو مخاطب کرنے کا ذکر:
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو مخاطب کرنے کا ادب بھی سکھایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عام انسان سمجھ کر انہیں بلند آواز سے نہ پکاریں۔
وَلَا تَجْهَرُوْا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَهْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ.
’’اور اُن کے ساتھ اِس طرح بلند آواز سے بات (بھی) نہ کیا کرو جیسے تم ایک دوسرے سے بلند آواز کے ساتھ کرتے ہو‘‘۔
(الحجرات )
الغرض ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مختلف انداز میں کبھی تمثیل و تشبیہ سے کبھی رمزو اشارہ سے کبھی کنایہ مجاز سے اور کبھی صراحت وضاحت سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن سراپا اور نور مجسم کا ذکر کرتا ہے تاکہ آپ کے حسن و جمال کے تذکرے سے اہل ایمان کے دلوں میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے عشق و محبت کا داعیہ پیدا ہو تاکہ محبوب کی تقلید و اتباع سے مشام جاں لذت و حلاوت کی چاشنی محسوس کرتے ہیں۔ بے شک یہ عظمت بلا شرکت غیرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حصے میں آئی ہے کہ آپ جیسا حسین وجمیل، سراپا نور اللہ نے نہ پیدا کیا ہے نہ کرے گا۔
نبیوں میں نبی ا یسے کہ ختم الانبیاء ٹھہرے
حسینوں میں حسین ایسے کہ محبوب خدا ٹھہرے
عیدِ میلاد وہ دن ہے۔ جب اللہ ربّ العزت نے سببِ وجودِ کائینات کو روحِ زمین پر جلوہ گر فرمایا ہے۔ اس دن جنت کو خوب سجایا جاتا ہے۔ فرشتے درود و سلام پیش کرتے ہیں۔ اس دن جائز طریقوں سے خوشیاں منانا چاہیے۔ کیونکہ اس دن اللہ ربّ العالمین بھی خوش ہوتا ہے۔ اللہ ربّ العزت کا رحمتوں کا دریا جوش میں ہوتا ہے۔ اہلِ اسلام محفلِ نعت اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ، مقام اور مرتبے کو بیان کرتے ہوئے حق سبحانہ وتعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اس لئے ہمیں بھی اس دن خوشیوں کا اظہار کرنا چاہیے۔ تاکہ ہماری دنیا اور آخرت سنور جائیں۔ اور ہمیں قیامت کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہوجائے۔ اللہ عزوجل ہم تمام کو حضور صلی االلہ علیہ وسلم کی عظمت و مرتبے کو چھونے کی توفیق عطا فرمائے آمین

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button