ازقلم:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
سماج میں پیش آرہے سماجی و اخلاقی برائیوں کے تعلق سے ویسے تو قلمکار،صحافی اور مولوی مسلسل خطاب کررہے ہیں،لکھ رہے ہیںا ور جہاں بھی موقع ملے وہاں لوگوں کو کم ازکم سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں۔لیکن سماجی برائیوں کا خاتمہ نہ تو صرف صحافی کے قلم سے نہ ہی مولوی کے بیان سے ہوگا،بلکہ ان برائیوں کو دورکرنے کیلئے سماجی کے ہر فرد کوآگے آناہوگا۔عموماً ہر ماں باپ کو اُن کے بچے پیارے ہوتے ہیں، بھلے ہی وہ ماں باپ کی آنکھوں کے سامنے کسی کا قتل کرکے آئے ہوں تو تب بھی ماں باپ یہی کہتے ہیں کہ وہ تو نادان ہے قتل کر بیٹھاہے،ویسے وہ دل کا بہت اچھاہے،اسے تو صرف صحبت کا اثراہواہے۔اس طرح سے ہر ماں باپ کی زبانی اپنے بچوں کی تعریف ہی نکلتی ہے۔سوال یہ ہے کہ سب بچے اچھے ہیں اور سب بچوں کو صحبت کااثر ہورہاہے تو بُرے بچے کون ہیں؟۔بڑے بڑے فلمی اداکاروں کے بچوں کو ہی لیں،کہ کس طرح سے اُن کے بچے شراب نوشی،نشہ بازی اور عیاشی میں اُتر آئے ہیں،جب یہ بچے اورماں باپ سرِعام اپنے آپ کو فیشن کی آڑمیں بدکرداری کو چھپا رہے ہیں تو عام بچوں کا کیاہے۔دراصل سماج میں بڑے لوگوں کے بچوں کی برائیاں دکھائی نہیں دیتی،اس لئے ان کی باتوں پر غور فکر کرنے کے بجائے اپنے بچوں کی صحیح تربیت پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔جہاں تک ہم نے دیکھا ہے جو بچے مغرب کے بعد گھروں سے باہر نکلنے کے عادی ہوتے ہیں وہی بچے جلد بُری عادتوں کا شکار ہوجاتے ہیں،لیکن والدین یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے بچے دن بھرکی مصروفیات اور تھکائوٹ کی وجہ سے گھر سےباہر کچھ لمحے بتارہے ہیں۔دُنیا جانتی ہے کہ بُرائیوں کی شروعات اندھیروں سے ہی ہوتی ہے اور اندھیروں میں ختم ہوتے ہیں۔اس لئے بچوں کو مغرب کے بعد گھروں سے باہر بھیجنے سے گریز کیاجائے تو یقیناً اس کے مثبت اثرات سامنے آئینگے۔آج قوم کا بڑا سرمایہ جسے ہم نوجوان کے نام سے جانتے ہیں وہ دکانوں کے پاس گھنٹوں تک کھڑے ہوکر وقت گذاری کرتاہے، کئی تعلیم یافتہ نوجوان دکانوں کے پاس وقت ضائع کرنے کا فیشن سمجھ بیٹھے ہیں،یہیں سے یہ نوجوان سگریٹ نوشی اور نشہ بازی میں مبتلا ہونے لگتےہیں۔جب سگریٹ کو یہ نوجوان بُرا ماننے نہیں لگتے ہیں تو جلدہی انہیں گانجہ ،افیم و دیگر منشیات میں ملوث ہونا پڑجاتاہے،اس پر نوجوانوں کو کچھ کہنے کی سکت ہی نہیں باقی رہتی۔ہر ماں باپ کے اپنے بچے بہترین بچے ہیں،لیکن کیا موجودہ دورمیںماں باپ اپنے بچوں کی نگرانی کررہے ہیں،یہ بھی بڑی بات ہے؟۔ماں باپ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے جوان بچوں سے سوال کرینگے تو ان کے بچے ناراض ہوجائینگے، ہم تو کہتے ہیں کہ انہیں ناراض ہونے دیں ،کیونکہ ان ناراضگی وقتی طو رپر ہوتی ہے لیکن بربادی عمربھرکیلئے ہوتی ہے۔ہمارابچہ کہاں جارہا ہے،کس سے مل رہاہے،کون دوست اس کے ساتھ ہیں،کونسے کینٹین یا ہوٹل میں کھڑا ہوا ہوتاہے،وہ جیب خرچ کے پیسے کہاں صرف کررہاہے،ان سب باتوں کو پوچھنا موجودہ وقت کے بنیادی سوالات ہیں۔جب تک ماں باپ اپنے بچوں کے تئیں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتے اُس وقت تک بچوں کا تحفظ ممکن نہیں ہے۔جب شاہ رخ خان ہی اپنے بیٹے کو بربادہونےسے نہیں روک سکاتو ہم اور آپ اپنے بچوں کے تئیں لاپرواہ ہو کر کیسے تباہی کے راستے سے روک سکے گیں۔جبکہ شاہ رخ خان کا بیٹا آرین خان ہمیشہ سخت سیکوریٹی میں، چار دیوارکے درمیان اور گلی محلےکے بچوں کے ساتھ نہ کھیلنے والانوجوان تھا،جب وہی ڈرگس کا عاد ی بن گیاہےتو ہمارے بچے کھلے پرندے ہیں،اُن پر کتنے منفی اثرات ہونگے،ا س پرغور کرنے کی ضرورت ہے۔