انڈین مسلم اور حالاتِ حاضرہ (1)

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)
تحریر: محمد عباس الازہری

انڈیا میں موجود تمام اقلیتی طبقات میں سب سے زیادہ مسلمان ہیں جو تقریبا ہر شعبے میں پیچھے ہیں اور روز بروز مزید پسماندگی کی طرف بڑھ رہے ہیں اور یہ بھی واضح رہے اس میں سنی یعنی صوفی ( سنی ,بریلوی ) وہابی ( دیوبندی ,اہل حدیث ) شیعہ وغیرہ تمام مکاتبِ فکر کے لوگ شامل ہیں سب کی چھوٹی بڑی تنظیمیں ہیں ان میں زیادہ کاغذی ہیں اور جو ان کے قائدین و رہنما ہیں ان میں زیادہ تر خود غرض ,ذاتی مفادات کو مقدم رکھنے والے , نام و نمود کے دلدادہ ہیں الا ماشاء اللہ تعالی ! اور اس وقت پرچار و تشہیر میں زیادہ تر وقت صرف کرتے ہیں ,مسلم لیڈر کو کسی بھی پارٹی سے ٹکٹ چاہیے اور جیتنے کے بعد قوم و ملت کے بجائے ذاتی مفادات مقدم رکھتے ہیں اور ایسے ہی مذہبی رہنما بھی ہیں جو مساجد و مدارس اور خانقاہوں میں اپنے اپنے حصے کا کام کر رہے ہیں لیکن ان میں زیادہ تر اپنے حصے کا مطلب "ذاتی مفادات” کو مقدم رکھتے ہیں جیسے ادھر کچھ سالوں سے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائعِ ابلاغ پر کھلم کھلا محسنِ انسانیت رحمت عالم حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخیاں کی جا رہی ہیں لیکن مصلحت کی چادر اوڑھ کر زیاہ تر سوئے ہیں اور جو بول رہے ہیں وہ بے سروسامانی کے عالم میں ہیں اور کچھ لوگ اس میں ریا کاری ,پرچار و تشہیر کو شامل کر لیے ہیں ,سیاست کی اگر بات کی جائے تو ٢٠ فیصد مسلم طبقہ مکاتبِ فکر کے ساتھ کئی پارٹیوں میں بنٹا ہوا ہے اور اس وقت جہاں ایک طرف مسلم ” سیکولر طبقہ ” سے نفرت کرنے لگا ہے کیونکہ سیکولر طبقہ ان کے مسائل پر کھلم کر بول نہیں پا رہا ہے یا خاموش تماشائی بنا ہوا ہے وہیں دوسری طرف انتہا پسند ,ہندو راشٹر کی مانگ کرنے والے بھی "سیکولر طبقہ”کے خلاف محاذ کھولے ہیں سیکولر طبقہ موجودہ حالات کے پیشِ نظر ٨٠ فیصد کو ناراض نہیں کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی ٢٠ فیصد مسلم طبقہ کو چھوڑنا چاہتا ہے !مزید برآں سیکولر طبقہ بھی کئی خانوں میں تقسیم ہے اور ٨٠ فیصد میں شامل ذات پات کو ختم کرکے مذہب کے نام پر زیادہ تر متحد ہو چکے ہیں اب ذات پات کی سیاست کے بجائے "ہندو مسلم ” پر انتخابات لڑے جا رہے ہیں اس لیے ہر کوئی اپنا آپ کو سب سے بڑا مذہبی لیڈر کے طور پر تعارف کرا رہا ہے اور اب "ترقی ,وکاس اور منہگائی ” کی بات کا کوئی معنی نہیں رہ گیا ہے اور اب "سیاست کو تجارت ” اور ” تجارت کو سیاست "کا نام دے سکتے ہیں اور میڈیا کو "ٹی آ ر پی ” اور اشتہارات سے مطلب ہے اور میڈیا جمہوریت کا چوتھا ستون نہیں بلکہ اہل سیاست و تجارت کے لیے ستون ہے ۔جاری ۔۔۔۔۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

یوپی الیکشن: نہیں ہے کسی کو بھی سیاست کے معیار کو گرنے کی فکر !!

تحریر: جاوید اختر بھارتی اترپردیش میں الیکشن کی ہوا چلنے لگی ، بیان بازی ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔