حضور غوث اعظم

سیدنا غوث اعظم اولیاے کرام کے سردار اور امت کے ہادی

مقربان بارگاہ الٰہی،اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کے بندوں کے لئے بہت بڑی نعمت ہیں،انہی مقربان بارگاہ الٰہی میں ایک کامل ہستی سیدنا غوث اعظمؓ کی ذات مبارک ہے،جنہیں اللہ تعالیٰ نے بڑی شان و عظمت سے نوازا ہے۔ دنیائے ولایت میں جو مقام و مرتبہ سیدنا غوث اعظمؓ کو حاصل ہے،وہ کسی اور کو نہیں،اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بے شمار عمدہ صفات اور خوبیوں کو جماعت اولیاء میں تقسیم کیا جائے تو وہ سب مالامال ہوجائیں، مخلوق کے قلوب میں آپؓ کی عظمت وہیبت کے نقوش بٹھادئے گئے اور اولیاء کرام کو آپؓ کے دائرۂ حکم وسایہئ قدم میں دے دیا۔آپؓ کی نسبت سے سلسلہ قادریہ کو ایسی بزرگی عطا کی کہ یہ سلسلہ سارے سلاسل طریقت کا مرجع ہوگیا۔

سیدنا غوث اعظمؓ ؓ ؓ نجیب الطرفین،شریف الجانبین اورثابت النسب سید،جامع حسب ولقب ہیں۔نام نامی عبدالقادر، کنیت ابومحمد اور محی الدین،محبوب سبحانی، غوث الثقلین اور غوث اعظم آپ ؓ کے خاص القاب ہیں۔محققین امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آپؓ مادرزادپیدائشی ولی ہیں،مختلف سلاسل طریقت کے اکابرین کا آپ کے دربار عالی میں خراج عقیدت آپ کے بلند مقام ومرتبہ کی ابدی گواہی ہے،اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو روئے زمین کی سلطانی عطا کردی، یہ سلطانی وقتی اور عارضی نہیں بلکہ دائمی اور پائیدار ہے،آپ غوث اعظم ہیں کیونکہ بالاتفاق آپ مقام غوثیت کبریٰ پر فائز ہیں،یہ ولایت کا اعلیٰ و ارفع درجہ ہے، جس کے فیض روحانی اور قیادت و سیادت باطنی کا سلسلہ ہمیشہ باقی رہتا ہے اسی لئے تمام اولیاء کا مرجع سیدنا غوث اعظمؓ کی ذات ہے۔حضرت مجدد الف ثانی ؒ اس منصب خاص سے متعلق فرماتے ہیں، سیدنا شیخ عبدالقادرگیلانی ؓ سے لے سیدنا امام مہدی ؑ تک کوئی ولی ایسا نہیں جو آپ کا محتاج نہیں۔جس کی ولایت پر آپؓ اور سیدنا علی المرتضیٰ ؓ کی مہر ثبت نہ ہو حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ مقدسہ میں مقبولیت اور منظوری کا شرف حاصل نہیں کرسکتی۔ آپؓ کا وجود مقدس مادیت پرستی کے زمانہ میں اسلام کا ایک بڑا کرشمہ رہا۔ مخلوق الٰہی میں آپ ؓ کی مقبولیت کے مناظر عام تھے،آپ ؓکے مریدین وتربیت یافتہ اصحاب کے اخلاق اور ان کی زندگیاں،اسلام کی صداقت کی دلیل اور اس حقیقت کا اظہار تھا کہ اسلام ہی سچا مذہب ہے۔سیدنا غوث اعظم ؓ کی ناقابل فراموش علمی وروحانی خدمات کا ایک مضبوط حوالہ یہ ہے کہ آپؓ کی تبلیغ کی بدولت لاکھوں غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہوئے،آپؓ کی تصانیف کا اسلام کی تبلیغ وتائید میں بنیادی کردار ہے،آپؓ تیرہ علوم میں وعظ فرماتے حاضرین آپ کے ارشادات میں اپنے زخم کا مرہم، مرض کی دوا اور اپنے سوالات و شبہات کے جوابات پاتے اور تاثیر اورعام نفع کی بڑی وجہ یہ تھی کہ آپ زبان مبارک سے جو فرماتے، وہ دل سے نکلتا تھا،اس لیے دل پر اثر کرتا تھا۔کوئی مجلس ایسی نہیں ہوتی کہ جس میں بہ کثرت یہودی اور عیسائی اسلام قبول نہ کرتے ہوں اور رہزن، خونی اور جرائم پیشہ توبہ سے مشرف نہ ہوتے ہوں،آپؓ کی محفل وعظ میں ستر ستر ہزار افراد ہوتے تھے، دوران وعظ نزدیک والا جیسی آواز سنتا، آخر والا بھی وہی آواز سنتا تھا،آپؓ نے چالیس سال تک استقامت کے ساتھ وعظ و نصیحت فرمایا،پندرہ سال تک رات بھر میں ایک قرآن ختم فرمایا، ہر روز ایک ہزار نفل ادا فرماتے۔حضرت سیدنا احمد کبیر رفاعیؒ نے فرمایا۔ شیخ عبدالقادرگیلانیؓ وہ ہیں کہ شریعت کا سمندر ان کے دائیں ہاتھ ہے اور حقیقت کا سمندر ان کے بائیں ہاتھ جس میں سے چاہیں پانی لیں۔ ہمارے اس وقت میں شیخ عبدالقادر گیلانیؓ کا کوئی ثانی نہیں۔مولانا ممشاد پاشاہ نے مزید کہا کہ سیدنا غوث اعظمؓ کی حیات مبارک بندگان خدا کا تعلق خداسے بناتے گزری۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم زبانی و قلبی عقیدت کے ساتھ ساتھ عملی طورپر بھی سیدنا غوث اعظمؓ کے تعلیمات پر عمل پیرا ہوجائیں۔

از افادات: (مولانا) سید محمد علی قادری الہاشمی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے