شیخ عبدالقادر جیلانی کے والد گرامی کو "جنگی دوست” کیوں کہا جاتا ہے؟

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)
از قلم : محمد ہاشم اعظمی مصباحی
نوادہ مبارکپور اعظم گڑھ یوپی۔
مکرمی! روحانی زندگی کے فضائل و کمالات اولیا کرام کے نفوس میں اپنی شان کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ اس لئے اولیاء کرام کے حالات و واقعات کا مطالعہ شخصیت سازی میں تیر بہ ہدف نسخہ کیمیا ہوتاہے۔ اولیا کرام صاحب فضل و کمال ہونے کے ساتھ کشور علم و عمل بھی ہوتے ہیں خوف خدا، اللہ کی رضا، اندیشہ آخرت، تقویٰ وطہارت ان کی حیات فانی کا وظیفہ اور حیات سرمدی کا نسخہ ہوتا ہے ۔انھیں اوصاف حمیدہ کی بدولت مخلوق خدا ان کی طرف کھنچی چلی آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے ان نیک بندوں میں بلا کی جاذبیت، غضب کی دل کشی اور مقناطیسی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ یہی وہ پاک نفوس ہیں جنھیں اللہ کی راہ میں فنا ہوکر بھی بقا ملتی ہے.انھیں ذوات قدسیہ کے سرخیلِ اعظم کا نام سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہے آپ علوم و فنون کے ہر شعبے میں کامل و اکمل تھے اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات ولایت میں آپ کو وہ درجہ کمال عطا فرمایا تھاجو کسی ولی کو نہیں عطا ہوا آپ رضی اللہ عنہ کا خاندان صَالِحِین کا خاندان تھا آپ کے داداجان ، ناناجان ، والد ماجد ، والدهٔ محترمہ ، پُھوپھی جان ، بھائی اور تمام صَاحبزادگان سب کے سب مُتَّقِی و پرہیزگار تھے.اسی وجہ سے لوگ آپ کے خَاندان کو اشراف کا گھرانہ کہتے تھے۔غوث پاک رضی اللہ تعالٰی عنہ کے والدِ مُحترم کا اِسمِ گِرامی ”سَیِّد مُوسیٰ” کُنّيَّت ”اَبُوصَالِح” اورلقَب ”جَنگی دوست” تھا آپ جیلان شریف کے اکابر مَشائِخ کِرام میں سے تھے۔
”جَنگی دوست” کی وجہ تسمیہ: آپ رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ کالقَب جَنگی دوست ہونے کی کئی وجہیں بیان کی جاتی ہیں آپ خَالِصَۃً اللّٰه کی رضا کے لیے نَفس کُشِی اور رِیَاضَت و مُجَاهِدَه میں یَکتَائے روزگار تھے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے پیکر تھے اس معاملہ میں اپنی جَان تک کی بھی پَروا نہ کرتے تھے.
چنانچہ ریاض الحیات میں ہے کہ آپ نے مجاہدہ نفس میں ایک سال تک اکل و شرب بالرغبت سے خود کو روک لیا تھا ایک سال کے بعد ایک شخص نے عمدہ کھانا اور ٹھنڈا پانی پیش کیا آپ نے اس کا ہدیہ قبول تو فرمالیا مگر فوراً فقراء کے درمیان اس کھانے کو تقسیم فرمادیا اور نفس سے مخاطب ہو کرفرمایا ابھی تیرے اندرکھانے کی خواہش زندہ ہے تیرے لئے تو جو کی روٹی اور گرم پانی ہی بس ہے اسی کیفیت میں حضرت خضر علیہ السلام تشریف لائے اور فرمایا آپ پر سلام ہو اللہ تعالی نے آپ کے قلب کو۔جنگی۔ اورآپ کو اپنا دوست بنا لیا ہے اور مجھے حکم دیا ہےکہ میں آپ کے ساتھ افطار کروں جبھی سے آپ کا لقب جنگی دوست ہوگیا۔
دوسری وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ ایک دن آپ جامع مسجد کو جا رہے تھے کہ خَلِیفَۂ وَقت کے چَند مُلازِم شَرَاب کے مَٹکے نہایت ہی اِحتیاط سے سَروں پر اُٹھائے جا رہے تھے آپ نے جب اُن کی طرف دیکھا تو جَلال آگیا اور اُن مَٹکوں کوتوڑ دیا۔ آپ کے رُعب و دبدبہ اور عظمت و بُزرگی کے سامنے کسی ملازم کو دَم مَارنے کی جُرأت نہ ہوسکی ملازمین نے خَلِیفَۂ وَقت سے شکایت کی اور آپ کے خِلاف خليفہ کو خوب اُكسايا خَليفہ نے حکم دیا : ”سَیّد مُوسیٰ (رَضِىَ اللّٰهُ عَنهُ) کو فَوراً میرے دَربار میں پیش کرو۔” چُنانچہ آپ کو دَربار میں پیش کیا گیا.خَلیفَہ غَیظ و غَضَب كے عَالَم ميں للکار کرکہتا ہے : ”آپ کو میرے مُلازمین سے اُلجهنے کی جُرأت كيسے ہوئی؟”آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:”میں مُحتَسِب ہوں اس لئے میں نے اپنا فرضِ مَنصَبِی اَدَا کیا۔” خلیفہ نے کہا: ”آپ کس کے حُکم سے مُحتَسِب مُقَرَّر کئے گئے ہیں؟” آپ نے رُعب دَار لہجَہ میں جواب دیا: ”جس کے حُکم سے تم حُکومَت کر رہے ہو۔” آپ کے اس جرات مندانہ اِرشاد سے خَلیفہ پر ایسی ہیبت و رِقَّت طاری ہُوئی کہ گھُٹنوں پر سَر رَکھ کر بَیٹھ گیا اورتھوڑی دیر کے بعد عَرض کیا: ”حُضُورِ وَالا ! اَمر بِالمَعرُوف اور نَہِی عَنِ المُنکر کے عِلاوَہ مَٹکوں کو توڑنے میں کیا حِکمَت تھى؟” آپ نے اِرشَاد فرمایا: ”تمہارے حَال پر شَفقَت کرنا نِیز تُجھ کو دُنیا اور آخرَت کی رُسوَائِی اور ذِلَّت سے بَچَانا۔” خَلِیفَہ پر آپ کی اس حِکمت بھری گفتگو کا بہت گہرا اثر ہوا مُتأثّر ہوکر آپ کی خِدمَتِ اَقدَس میں عَرض گُزَار ہوا: ”عَالیجاہ! آپ میری طرف سے بھی مُحتَسِب کے عُہدَہ پر مَامُور ہیں۔” آپ نے اپنے مُتَوَکّلانہ انداز میں فرمایا: ”جب میں حَق تَعَالیٰ کی طرف سے مَامُور ہوں تو پھر مجھے خَلق کی طرف سے مَامُور ہونے کی کیا حَاجَت ہے۔” اُسی دِن سے آپ ”جَنگی دوست” کے لقب سے مشہور ہوگئے(سِیرتِ غَوثُ الثَّقلین، ص۵۲)
الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

سنو میرے دل کی صدا غوث اعظم

نتیجہ فکر: محمد اشرفؔ رضا قادریمدیر اعلی سہ ماہی امین شریعت سنو میرے دل کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔