نتیجہ فکر: محمد جیش خان نوری امجدی مہراجگنج یوپی
کرم اتنا برائے سیدہ، خیر الوری کرنا
سر محشر مجھے نوری ردا اپنی عطا کرنا
گلاب و مشک عنبر سے ذرا لب کو دھلا کرنا
پھر اس کے بعد میں ذکر حبیب کبریا کرنا
ملا ہے درس مجھکو سیدی احمد رضا خاں سے
رسول پاک کی حرمت پہ تن من دھن فدا کرنا
یہی پیغام رب ہے اور یہی درس نبوت ہے
یتیموں اور غریبوں کا ہمیشہ تم بھلا کرنا
شفا پانا اگر تم چاہتے ہو کل بلاؤں سے
تو دل سے ہرگھڑی صل علی صل علی کرنا
شفاعت پائےگا تو حشر میں شاہ دوعالم کی
مگر الفت میں ان کی، زندگی اپنی جیا کرنا
رسول اللہ کی جو شان میں کرتا ہے گستاخی
ہمیشہ اس سے دوری تم بنا کر ہی رہا کرنا
نظر تیری پڑے جب گنبد خضری پہ اے نوری
کبھی نعتیں پڑھا کرنا کبھی اس کو تکا کرنا