مضامین و مقالات

دربار اعظم میں اہل حق واہل باطل کی کیفیات

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ

(1)اصحاب مراتب گرچہ بلند درجات پر فائز المرام ہوں,لیکن تمام اہل حق دربار اعظم میں آمنا وصدقنا کہتے ہوئے سرنگوں نظر آتے ہیں۔ہم دربار اعظم کے گداگر ودریوزہ گر ہیں۔ہم اصحاب درجات کی شخصیت پر نظر نہیں کرتے,بلکہ ان کی کیفیت پر نظر رکھتے ہیں۔

(2)علمائے حق میں جو اصحاب تفردات ہیں,وہ ہمارے سامنے دلائل کے انبار لگا سکتے ہیں,لیکن ان شاء اللہ تعالی جب ان کے لئے حق واضح ہو جائے گا,تب وہ رجعت قہقہری کرتے ہوئے دربار اعظم میں سر جھکائے ہوئے آمنا وصدقنا کہتے نظر آئیں گے۔اسی لئے ہم نے دلیل کا مطالبہ ہی نہیں کیا,بلکہ اہل حق کی تصدیق وتائید طلب کی ہے,تاکہ اہل تفردات کے لئے حق واضح ہو سکے۔مناظرہ ومباحثہ کے مواقع ومقامات الگ ہیں اور حل مسائل کی صورتیں الگ ہیں۔

(3)جب لوح وقلم لے کر میدان میں ہم اترے ہیں تو یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم بتوفیق الہی وبعطائے مصطفوی مختلف فیہ مسائل میں صحیح صورت کو روز روشن کی طرح واضح کریں۔ان شاء اللہ تعالی حسب قوت ہم ضرور کوشش کریں گے۔السعی منی والتکمیل من اللہ تعالی۔

حقائق کو لوح وقرطاس پر رقم کر دینا بھی کمال ہے,لیکن تدابیر کے ذریعہ حقائق کی طرف راغب کر دینا کمال در کمال ہے۔

ایصال الی المطلوب رب تعالی ہی کا منصب عظیم ہے,لیکن ارائۃ الطریق کی مختلف صورتیں ہیں۔

(4)یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ سرحد پر جنگ ہو رہی ہو اور کوئی بے سر وسامان سپاہی سرحد پر جنگ کے واسطے جانا چاہتا ہو,اس کے پاس ساز وسامان نہ ہو تو ملک کا بادشاہ اسے ساز وسامان فراہم کرتا ہے۔

اسی طرح پیغمبر ملت بیضا حبیب کبریا حضور اقدس تاجدار کائنات علیہ التحیۃ والثنا اپنے غلاموں کی دستگیری فرماتے ہیں۔ہمارے حبیب علیہ الصلوۃ والتسلیم کو اللہ تعالی نے دنیا میں سکونت کا اختیار عطا فرمایا تھا۔آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے قرب خداوندی کو پسند فرمایا,لیکن اسلام کائناتی مذہب ہے۔کسی قوم یا ملک کے ساتھ خاص نہیں۔حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اپنے غلاموں کے ذریعہ اپنے دین کی نشر واشاعت اور اس کا تحفظ فرماتے ہیں۔

(5)ہم شخصیات پر نظر نہیں کرتے,بلکہ کیفیات پر نظر رکھتے ہیں۔چوں کہ دربار اعظم سے علمائے حق کی تعظیم کا حکم نافذ العمل ہے,اس لئے ہم کسی اہل حق کی شخصیت پر انگشت نمائی نہیں کر سکتے۔

(6)بشر غیر معصوم ابلیس کی چالوں اور نفس امارہ کی فریب بازیوں میں مبتلا ہو سکتا ہے,لہذا شیطانی چالوں کو بیکار کرنے اور نفس امارہ کی فریب بازیوں کو نیست ونابود کرنے کے واسطے ہمیں کچھ حکمت عملی اپنانی پڑتی ہے۔وہ شخصیات پر تنقید نہیں۔

(7)جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تمام علمائے حق نفس امارہ کی دغابازیوں اور تلبیس ابلیس سے بالکل محفوظ ہیں جیسے حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ تلبیس ابلیس اور نفس امارہ کی سرکشی سے محفوظ تھے تو یہ ان حضرات کا حسن ظن ہے۔اللہ تعالی ان کے حسن ظن کو سلامت رکھے:(آمین)

ماہر معالج مرض کا اصلی سبب دریافت کر کے اس سبب کو دور کرتا ہے,تاکہ مرض کی جڑ اکھڑ جائے اور مریض کو اس مرض سے نجات مل جائے۔

حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے مریدین ومتوسلین میں زمین وآسمان سے بھی زیادہ فرق ہے۔وہ فضل الہی اور عطائے خداوندی سے دستگیر کائنات ہیں۔ہم سب لوگ ان کی دستگیری کے محتاج ہیں۔

یہ ضرور عرض ہے کہ حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ ہم سب محتاجوں کی دستگیری فرمائیں,تاکہ سواد اعظم اہل سنت وجماعت کے مختلف فیہ مسائل حل ہو جائیں اور عوام وخواص اضطرابی کیفیت سے باہر آئیں۔

ع/ گر قبول افتد زہے عز وشرف

دربار الہی میں اہل باطل کی کیفیت:

(1)شیطان معلم ملائکہ تھا۔وہ عالم نہیں,بلکہ بحر العلوم تھا۔حکم الہی ہوا کہ حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو سجدہ کرو تو شیطان آمنا وصدقنا کہنے کی بجائے دلیل پیش کرنے لگا اور درک اسفل میں جا گرا۔

مذہب اسلام میں وہی عقیدہ حق ہے جس پر سواد اعظم ہو۔

تمام کے تمام ملائکہ حکم الہی سن کر سجدہ میں چلے گئے۔شیطان اپنی دلیل پیش کر رہا ہے۔یہ بھی نہیں سمجھ سکا کہ اللہ تعالی کے قطعی حکم بالمقابل دلیل بے فائدہ ہے۔اسے دیکھنا چاہئے کہ ملائکہ عظام کا صرف سواد اعظم نہیں,بلکہ تمام کے تمام ملائکہ کرام حکم الہی پر سجدہ ریز ہیں۔

شیطان کی دلیل بھی نامقبول ٹھہری اور وہ دربار الہی سے مردود ہو کر کافر ومستحق جہنم بھی قرار پایا۔اب وہ جہنم میں دلیل کی بانسری بجاتا رہے۔

(2)ذو الخویصرہ تمیمی کو دیکھو۔حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر اعتراض کر بیٹھا۔جو رسول ونبی علیہ الصلوۃ والسلام کائنات عالم کو عدل وانصاف کی تعلیم دینے کے واسطے من جانب اللہ مبعوث فرمائے گئے۔ان کو کہتا ہے:(اعدل یا محمد)

یہی شخص دربار اعظم کے بے ادبوں کا مورث اعلی ہے۔

(3)منافقین کے لئے دربار خداوندی سے حکم کفر آیا تو دلیل پیش کرنے لگے کہ ہم لوگوں نے استہزا کیا تھا۔ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو علم غیب نہیں۔اللہ تعالی نے یہ دلیل قبول نہیں فرمائی۔

دربار الہی ودربار مصطفوی میں آمنا وصدقنا کہنے کا حکم ہے۔دلیل پیش کرنے کی اجازت نہیں۔منافقین کا یہ واقعہ غزوہ تبوک کے موقع پر پیش آیا تھا۔

ارشاد الہی نازل ہوا:(لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُؕ-قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ::لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْؕ-الایہ)(سورہ توبہ:آیت 65-66)

(4)اہل حق اور اہل باطل میں یہی فرق ہے کہ اہل حق کا باطن اور ان کا قلب دربار الہی ودربار مصطفوی میں آمنا وصدقنا کی صدائیں بلند کرتا رہتا ہے:فتدبروا یا اولی الابصار

(5)خاتمہ کا اعتبار ہے۔حسن آخرت کے لئے ایمان پر خاتمہ لازم ہے۔کوئی کسی مصیبت میں مبتلا ہو تو ان کی دستگیری کی جائے۔ہرگز ورغلانے یا غلط راہ پر ڈالنے کی کوشش نہ ہو۔

روایت ہے کہ تھانوی اپنے کفریہ عقائد سے توبہ کرنا چاہتا تھا,لیکن دربھنگوی اور دیگر معتقدین نے کہا کہ ہم تاویل کریں گے۔

جاؤ! اب جہنم میں تاویل کا ڈھول بجاتے رہو۔تمہاری تاویلات باطلہ نے خلیل بجنوری کو بھی مدہوش کر دیا تھا۔وہ بھی مست ہو کرجھومتا ہوا تمہارے قافلے میں شریک ہو چکا ہے۔

دربار اعظم سے(المرء مع من احب)کا حکم نافذ ہو چکا ہے۔دربار اعظم کے گستاخوں کی طرف کیوں جاتے ہو۔آ جاؤ دیار حبیب کی طرف(علیہ الصلوۃ والسلام)دونوں جہاں کے حسںنات وبرکات تو یہاں ہیں۔ارشاد مبارک(انما انا قاسم واللہ یعطی)سے واضح کہ سب کچھ یہاں سے ملے گا۔کیا ہے جو یہاں نہیں!!!

بخدا خدا کا یہی ہے در
نہیں اور کوئی مفر مقر

جووہاں سے ہو یہیں آ کے ہو
جو یہاں نہیں وہ وہاں نہیں

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:23:اکتوبر 2021

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے