علمی سطح کو مضبوط کرنے کے طریقے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)
تحریر: مظہر قادری (کوڈرما) جھارکھنڈ

علمی سطح کو مضبوط کرنے کے کتنے طریقے ہیں ۔۔۔۔۔۔

علمی سطح کو بلند کرنے کے دو ہی طریقے ہیں یعنی مطالعہ و مشاہدہ اور تجربہ

مطالعے و مشاہدے کے ذریعے انسان دوسروں کا دریافت کردہ علم حاصل کرتا ہے
اور تجربے کے ذریعے اس میں اپنی طرف سے اضافہ کرتا ہے۔ اہل علم کی صحبت اختیار کیجئے اور زیادہ سے زیادہ مطالعہ کیجئے اور حاصل کردہ علم کو عملی تجربے کی کسوٹی پر پرکھیے۔ اسی سے ذہنی پختگی کے ساتھ ساتھ علمی سطح بھی بلند ہوگی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے رب سے علم میں اضافے کی دعا کیا کرتے تھے۔ ذہانت اور علم کے ساتھ ایک فتنہ بھی وابستہ ہے اور وہ غرور و تکبر کا فتنہ ہے۔ جو انسان زیادہ ذہین ہو یا پھر بڑا عالم ہو، بالعموم دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتا ہے اور کسی اور کی بات کو قبول کرنے کی زحمت نہیں کرتا خواہ وہ بات حق ہی کیوں نہ ہو۔ جب بھی ایساخیال آئے تو فوراً اللہ تعالیٰ سے توبہ کیجئے اور یہ سوچئے کہ یہ ذہانت اور علم کس کا عطا کردہ ہے؟ اگر تو اسے آپ نے خود ہی پیدا کیا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ جس نے اسے عطا فرمایا ہے وہ اسے چھین بھی سکتا ہے۔
طرز فکر اور مکتب فکر
ہر انسان ایک مخصوص طریقے سے سوچتا ہے۔ وہ بعض چیزوں کو ترجیح دیتا ہے اور بعض کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف علوم میں مکاتب فکر (Schools of Thought) وجود میں آتے ہیں۔ کسی بھی علمی میدان میں جب کوئی غیر معمولی شخصیت پیدا ہوتی ہے تو وہ اس میں ایسے اضافے کر دیتی ہے جس کی مثال عام لوگوں میں نہیں ملتی۔ جن لوگوں کی طرزفکر اس طرز فکر سے میچ ہو جاتی ہے، وہ اس غیر معمولی شخصیت کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔ اس طرح ایک مکتب فکر وجود پذیر ہوتاہے۔
اس کی ایک بڑی مثال امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مکتب فکر ہے۔ امام صاحب ایک اعلیٰ درجے کے ذہین و فطین شخص تھے۔ دین کو سمجھنے میں انہیں جو مقام حاصل ہے، وہ بہت کم افراد کو نصیب ہوا۔ انہوں نے دین کو جس طرح سمجھا اور دین کو سمجھنے کے جو اصول وضع کئے ، انہیں اس وقت کے ذہین ترین افراد کی تائید حاصل ہوئی۔ امام صاحب نے چن چن کر اپنے گرد ذہین ترین لوگوں کو اکٹھا کیا اور اسلامی قانون کی تدوین سازی کا کام شروع کیا۔
اس مقصد کے لئے انہوں نے اپنے وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی کو وقف کردیا۔ انہوں نے اپنے قریبی شاگردوں کے گھر کا خرچ تک بھی اٹھا کر انہیں معاشی فکروں سے بے نیاز کردیا۔ اُن کی اِن کاوشوں سے نتیجے میں فقہ اسلامی کا ایک عظیم ذخیرہ وجود میں آیا جو کچھ عرصے میں دنیا کی سب سے بڑی مملکت کا قانون بن گیا اور تقریباً ایک ہزار سال تک رائج رہا۔
مالکی، شافعی ، حنبلی ، ظاہری اور دیگر مکاتب فکر بھی اسی طرح وجود پذیر ہوئے۔دوسرے علوم مثلاً نفسیات، معاشیات وغیرہ میں بھی ہمیں ایسی مثالیں ملتی ہیں ۔ علم معاشیات میں ایڈم سمتھ، مارشل ، مارکس اور کینز غیر معمولی شخصیات ہیں جنہوں نے اپنے اپنے مکاتب فکر تشکیل دیے۔ اسی طرح علم نفسیات میں ولیم جیمز، واٹسن، فرائڈ اور ماسلو کے مکاتب فکر زیادہ مشہور ہیں۔ یہی حال دوسرے علوم کا ہے۔ علم کی دنیا میں اپنے طرز فکر کو زیادہ اپیل کرنے والے مکتب فکر کو اختیار کرنا اور اس سے وابستہ ہونا کوئی بری بات نہیں سمجھی جاتی۔ ہر مکتب فکر کے اہل علم دوسرے مکاتب فکر کا احترام کرتے ہیں اور یہ روایت قدیم دور سے آج تک چلی آ رہی ہے۔ امام ابوحنیفہ اور امام مالک علیہما الرحمۃ کے مابین جس درجے کا احترام پایا جاتا تھا ، اس کی مثالیں عام لوگوں میں بہت کم ملتی ہیں۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ معاملہ اہل علم و دانش کی سطح سے اتر کر عوامی سطح پر اتر آتا ہے۔ جب کسی مکتب فکر پر کوتاہ قامت اور عامیانہ سوچ رکھنے والوں کا اقتدار قائم ہو جاتا ہے یعنی دوسرے لفظوں میں انہیں اپنے ظرف سے زیادہ مقام مل جاتا ہے تو پھر وہ اپنے علاوہ دوسرے کو حقیر اور غلط سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کے نزدیک اپنے مکتب فکر کی ہر بات درست اور دوسرے کی ہر بات غلط ہو جاتی ہے۔ ان کا سارا زور اپنے نقطہ نظر کی حمایت میں الٹے سیدھے دلائل فراہم کرنے میں لگ جاتا ہے ، ایک دوسرے سے حسد بغض کی شکل اختیار کرجاتا ہے جو آگے چل کر نفرت کی شکل اختیار کر جاتا ہے اور پھر مکتب فکرسے مسلک ، مسلک سے فرقہ اور فرقے سے نیا مذہب جنم لیتا ہے۔ اپنے طرز فکر اور مزاج کو اپیل کرنے والے کسی مکتب فکر سے تعلق قائم کرنا کوئی برائی نہیں۔ ہاں جہاں معاملہ مکتب فکر سے بڑھ کر مسلک ، گروہ بندی اور فرقے کی شکل اختیار کرچکا ہو وہاں اس سے اجتناب کرنا نہایت ضروری ہے۔ اگرانسان یہ سمجھ بیٹھے کہ میرے مکتب فکر کے سوا دنیا میں کہیں حق نہیں پایا جاتا اور اسی پر جامد ہو کر اپنے ذہن کے دروازے ہر نئی فکر اور ہر نئی سوچ کے لئے بند کرلے، توپھر اس کے لئے ہدایت کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور وہ نفرت اور تعصب کی آگ ہی میں جلتا رہتا ہے۔ اس موقع پر امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ارشاد بڑا معنی خیز ہے، ’’ دین کے اصولی و بنیادی معاملات میں تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں اور ہمارا مخالف غلطی پر ہے ، لیکن اجتہادی اور فروعی مسائل میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگرچہ ہم نے اپنے تئیں درست رائے اختیار کی ہے لیکن اس بات کا امکان موجود ہے کہ ہم غلط ہوں اور ہمارا مخالف صحیح ہو۔‘‘ جو لوگ اپنی شخصیت کی ایک آئیڈیل سطح تک تراش خراش کرنا چاہیں، ان کے لئے لازم ہے کہ وہ خود میں وسعت نظری کو فروغ دیں اور تنگ نظری سے بچیں ورنہ ان کی شخصیت نامکمل رہ جائے گی۔والدین اور اساتذہ کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے زیر تربیت افراد میں حتی الامکان ہر قسم کے تعصب اور تنگ نظری کو پیدا ہونے سے بچائیں۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

مدارس کا تعلیمی انحطاط— ایک لمحہ فکریہ!

ازقلم: شیخ نشاط اختر بلاشبہ مدارس دینِ اسلام کے وہ عظیم قلعے ہیں جہاں سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔