سیاست و حالات حاضرہ

کیجریوال کا مسلمانوں کو لالی پاپ

تحریر محمد زاہد علی مرکزی کالپی شریف
چئیرمین تحریک علمائے بندیل کھنڈ
رکن روشن مستقبل دہلی


بہت مشہور محاورہ ہے "نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی” آج کل ایسا ہی کچھ دیکھنے کو مل رہا ہے، پنجاب کی سیاسی اٹھا پٹک اور گووا، اتر پردیش میں ہونے والے اسمبلی الیکشن کو دیکھتے ہوئے دہلی کے وزیر اعلیٰ کو اب مسلمان یاد آنے لگے ہیں، انھوں نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ اگر عام آدمی پارٹی گوا میں حکومت بناتی ہے تو ان کی پارٹی کی حکومت ہندوؤں کے لیے ایودھیا اور عیسائیوں کے لیے ویلنکنی کی مفت یاترا کا انتظام کرے گی۔ (دہلوی میں یہ اسکیم پہلے ہی سے لاگو ہے لیکن صرف ہندوؤں کے لیے ہے) اس کے ساتھ ہی حکومت مسلمانوں کے لیے اجمیر شریف اور سائی بابا کی عقیدت رکھنے والوں کے لیے شرڈی مندر تک مفت سفر کا انتظام کرے گی۔
دہلی کے وزیر اعلیٰ شاید یہ بھول چکے ہیں کہ دہلی فسادات میں آپ کی مشفقانہ خموشی دنیا کو چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ آپ کہاں کھڑے ہیں اور آپ کو کلین چٹ نہیں دی جا سکتی، جس طرح آپ کے کیمرے صرف مسلمانوں کو ہی پہچان رہے تھے وہ بھی ناقابل فراموش ہے، وہیں آپ کی پارٹی کے ممبر طاہر حسین کو بھی آپ نے اکیلا چھوڑ دیا تھا کیونکہ انھوں نے مسلمانوں کو بچانے کا کام کیا تھا، وزیر اعلیٰ صاحب دہلی کی مسلم آبادی کا 12 فیصد ووٹ لینے کے بعد آپ نے جو سلوک مسلمانانِ دہلی کے ساتھ کیا ہے اسے اتنی جلدی نہیں بھولا جا سکتا، آپ کا یہ بیان سن کر مجھے کسی کا شعر یاد آگیا

وہ جس نے قتل کیا ہے مجھے اندھیرے میں
اسی کے گھر میرے حق میں قرآن خوانی ہے
آپ اجمیر شریف بھیج کر مسلمانوں کے ہمدرد بننا چاہتے ہیں وہ درد ہم کیسے بھول سکتے ہیں جب ہماری مسجدیں جل رہی تھیں، ان پر بھگوا جھنڈا لہرایا جا رہا تھا، مزارات توڑے جا رہے تھے اور آپ چین کی ننید سو رہے تھے، وہ
جن کے گھر جل گیے کاروبار ختم ہوگیے اور بچے جیلوں میں قید و بند کی مشقتیں برداشت کر رہے ہوں انھیں "اجمیر” بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے – اگر ان کے ساتھ انصاف کرنا چاہتے ہیں تو اپنی غلطی تسلیم کریے اور جیلوں میں بند بے گناہوں کو رہا کرائیے، آپ کن وعدوں کو لے کر آئے تھے اور کیا کرنے لگے کبھی اس پر تنہائی میں غور فرمائیے گا –
آپ کی مہربانیوں میں وقف کی زمینوں میں بھی خوب ہیر پھیر ہو رہی ہے، وقف منتری کو بھی آپ ہٹا چکے تھے اور ائمہ و مؤذنین سے کیے گئے اپنے وعدے سے بھی قانونی داؤں پیچ لگا کر مکر گئے تھے کہ یہ دہلی دنگے ہوے اور مسلم ووٹ بینک کو بیلنس کرنے کے لیے آپ کو امانت اللہ خان صاحب کو لانا پڑا – 11 ماہ تک تنخواہیں رکی رہیں وقف کے کام منجمد ہوگیے، دہلی کی ہی کئی مساجد میں جمعہ تک نہیں ہو پارہا ہے، کئی مساجد شدت پسندوں کی شدت کا شکار ہیں ۔ تو کہیں محکمہ آثار قدیمہ اپنے چوکیداروں کو کھڑا کر کے نماز پڑھنے والوں کو روکنے کی خدمات انجام دلوا رہا ہے، یقینا اس میں آپ ہی قصوروار نہیں ہیں لیکن آپ کو کلین چٹ بھی نہیں دی جا سکتی -کیوں کہ ع ہمیں رہزنوں سے غرض نہیں تری رہبری کا سوال ہے –
پارلیمنٹ ریکارڈ کے مطابق دہلی میں مساجد کی تعداد‘‘ ۱۹۹۲ء کی ایک سروے رپورٹ میں دو ہزار ہے ، (آپ کے ریکارڈ میں بھی رجسٹرڈ اور پرائیویٹ ائمہ اور مؤذنین کی تعداد 2200 ہے ) جن میں سے ۵۳؍ مساجد محکمہ آثار قدیمہ کے زیر انتظام اور پانچ سو مساجد دہلی وقف بورڈ کے زیر انتظام ہیں –
لیکن نیوز 18 اردو، کے حوالے سے 15 جنوری 2021 کی ایک خبر کے مطابق دہلی وقف بورڈ کے تحت مساجد کے اماموں اور مؤذنوں کی تعداد تقریبا 230 ہے۔ یعنی مساجد کی تعداد بھی یہی ہے – 1992 ء کی رپورٹ کے مطابق بقیہ 270 مساجد 2021 آتے آتے کہاں چلی گئیں؟ یا وقف بورڈ اور سرکاروں کے گھپلوں میں ختم ہوگئیں؟ یا وقف بورڈ نے توجہ نہ دی، وقف کی کمیاں بہت ہیں لیکن اس میں شفافیت لانا بھی حکومتی ذمہ داری ہے –
وزیر اعلی صاحب یہ اجمیر والا لالی پاپ دے کر قوم مسلم کو بے وقوف مت بنائیے، اب حالات بھی بدل چکے ہیں وقت بھی بدل چکا ہے، ہم ہی کیا ساری دنیا آپ کی کرم فرمائیاں دیکھ چکی ہے، جن طاقتوں کو آپ نے اپنا سمجھا تھا انکی راہ چلے تھے، انھیں نے دہلی کے گورنر کو مزید طاقتور بنا کر آپ کو لاچار کر دیا ہے -چونکہ اب دہلی میں آپ کے پاس برائے نام اختیارات ہی بچے ہیں اس لیے آپ دہلی سے باہر نکل کر زمین تلاش رہے ہیں لیکن جو شبیہ دہلی دنگوں سے آپ نے بنا لی ہے وہ شاید ہی کبھی قوم مسلم کے ذہنوں سے نکل سکے – پہلے ہمارے پاس کانگریس یا عام آدمی پارٹی کے علاوہ کوئی تیسرا راستہ نہیں تھا، اب ہمارے پاس راستہ ہے اور بارہ فیصد ووٹ بھی ہے، آپ نے جو کیا ہے اس کا بدلہ صرف دہلی ہی نہیں پورے ملک میں آپ کو چکانا پڑے گا۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button