حضور غوث اعظم

حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بحیثیت استاذ

تحریر: نعیم الدین فیضی برکاتی
اعزازی ایڈیٹر:ہماری آواز( مہراج گنج)
پرنسپل:دارالعلوم برکات غریب نواز کٹنی(ایم۔پی۔)
9792642810
mohdnaeemb@gmail.com

بیان وتدریس کے ذریعے نئی نسل کے اندرعلم کی لازوال اور بیش قیمتی دولت منتقل کی جاتی ہے۔جس کی بدولت عقائد و اعمال میں پختگی اور بہتری آتی ہے،اخلاق وکردار نکھرتے ہیں،معاشرے سے جہالت کے اندھیرے دور ہوتے ہیں۔اسی لیے متقی،پرہیزگار اورماہر استاذ کی زیر تربیت و نگرانی میںرہنے والے طلبہ جس بھی میدان میںقدم رکھتے ہیں،کامیابی ان کے قدم چومتی ہے۔شہنشاہ ولایت حضرت غوث الثقلین شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی بغدادی رضی اللہ عنہ نے علم ِ دین کی تکمیل اورزہد ومجاہدہ کے طویل سفر کے بعدتعلیم و تدریس کا آغاز استاذ ِگرامی حضرت ابو سعد مخرمی رحمۃ اللہ علیہ کے قائم کردہ مدرسہ سے528ہجری میں کیا۔حضور غوث پاک کے وعظ و تدریس کے شہرت کے سبب عاشقانِ علم دین کی تعداداس قدر بڑھی کہ یہ مدرسہ انہیں سمونے سے قاصر رہا،اس لیے دوبارہ مدرسہ کی توسیع کی گئی۔حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ فقہ،حدیث،تفسیر،نحوجیسے تیرہ مضامین کی تدریس فرماتے تھے۔بعد نماز ِظہر قرأتِ قرآن جیسااہم مضمون پڑھاتے۔آپ سے علم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد تقریباًایک لاکھ ہے۔جن میں فقہا کی بہت بڑی تعداد شامل ہے۔

حضرت غوث پاک کے صحبت کی برکت
حضرت سیدنا عبد اللہ خشاب علیہ الرحمہ علم نحو پڑھ رہے تھے۔آپ نے حضور غوث پاک کے درس کا شہرہ بھی سن رکھا تھا۔ایک روز آپ حضور غوث پاک کے درس میں شریک ہوئے۔جب آپ کو درس میں کوئی نحوی نکات نہ ملے تو دل میں وقت برباد ہونے کا خیال گزرا۔ٹھیک اسی وقت حضور غوث پاک آپ کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا:’’ہماری صحبت اختیار کرلو ہم تمہیں علم نحو کے مشہور امام سیبویہ کی طرح بنا دیں گے‘‘۔یہ سن کر حضرت عبد اللہ خشاب نحوی نے حضور غوث اعظم کے یہاں رہنا شروع کر دیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کو علم نحو کے ساتھ ساتھ علوم نقلیہ وعقلیہ پر بھی مہارت حاصل ہو گئی۔حضرت غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کی یہ شان تھی کہ آپ کے کلاس میںچار سو علمائے کرام علم وحکمت کی باتیں سیکھنے کے لیے حاضر ہوتے تھے۔

حضور غوث اعظم کے شاگرد:
آپ رضی اللہ عنہ نے آخری عمر تک تدریس و تعلیم کاسلسلہ جاری رکھاجو33سال کا ایک لمبا زمانہ ہے۔اسی لیے آپ کے شاگردوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہیں جواچھے اچھے عہدوں پر فائزبھی ہوئے۔اس بات کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ سلطان نور الدین زنگی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کے ایک شاگرد حضرت حامد بن محمود حرانی کو اپنے یہاں حران میں جج اورمعلّم کے منصب پر رکھا تھا۔جب کہ حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کے ایک شاگرد جن کا نام حضرت زین الدین علی بن ابراہیم دمشقی ہے،کو مشیر کے عہدہ پر فائز کیا تھا۔

آپ کی علمی شان
حضرت عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی علمی شان بہت بلند و ارفع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ظاہری اور باطنی دونوں علوم میںکمال کی مہارت عطا فرمائی تھی۔ قرآن و حدیث پر آپ پوری طرح عبور رکھتے تھے۔آپ کا حافظہ بڑا غضب کا تھا۔جس چیز پر ذرا بھی غور فرماتے فوراً ازبر یا د ہوجاتی۔ظاہری علوم کی تکمیل کے بعد جب آپ نے بے پناہ عبادت و ریاضت کی تو اس وقت متعدد علوم آپ پر ظاہر ہوئے اور اسرارورموز کے بہت سے پردے آپ سے اٹھ گئے۔
بیان کیا جاتا ہے کہ جب آپ نے درس وتدریس اور خطبات کا آغاز فرمایا تو دنیا آپ کے غیر معمولی علم پر حیران ششدر رہ گئی۔دوران تدریس و خطابت ایسے ایسے نکات بیان فرماتے کہ بڑے بڑے علما کے علم میں نہ ہوتے ۔یہی وجہ تھی کہ تھوڑی ہی دن میں آپ کے علم کی شہرت دور ونزدیک میں بہت جلد پھیل گئی۔آپ کی درسگاہ سے بہت جید علما وفضلا سیراب ہوئے۔غرض کہ حضرت غوث اعظم دینی علوم کا انمول خزانہ تھے جس سے تشنگان علوم دینیہ نے خوب فائدہ اٹھایا۔
آپ کے علم وفضل کی شہرت سن کر لوگ سینکڑوںکوس کا سفر کا پرمشقت سفر طے کرکے آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتے اورعلم کے اس کوہ ہمالیہ اور بہر زخار سے سیراب ہوتے۔وسعت علم کے لحاظ سے آپ تمام علما اور فقہا پر سبقت لے گئے اور دنیائے اسلام میں کوئی ایسا عالم نہیں تھا جو آپ کے تبحر علمی ،عظمت اور کمال کا معترف نہ ہو۔

تعلیم و تدریس
آپ نے تعلیم وتدریس میں بڑی جاں فشانی کے ساتھ زندگی گزاری۔چوں کہ علم وتعلیم انسانی معاشرے کے قیام کی بقا اور استقرار کا بنیادی عنصر ہے۔آپ نے تعلیمی سلسلے کے ذریعہ سے افراد سازی کا فریضہ انجام دیا کیوں کہ اچھے اور قابل افراد کے ذریعے سے ہی ایک اچھا معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔چھٹی صدی ہجری بھی اس بات کی متقاضی تھی کہ با صلاحیت اور صاحبان استعداد افراد منظر عام پر آئیں جو بد امنی اور تخریبی تحریکوں کا خاتمہ کریں۔اس کے بارے میں آپ کی سب سے بڑی کاوش ہی کا نتیجہ ہے کہ آپ کی علمی اور روحانی نشست میںستر ہزار افراد تک شریک ہوتے اور اپنی علمی پیاس بجھاتے۔جن میں چار سو علماے کرام قلم ودوات لے کر حاضر ہوتے تھے جو آپ کے ارشادات وتعلیمات کو قلم بند کیا کرتے تھے۔آپ سے بہت سے لوگوں نے اکتساب فیض اور علم حاصل کیا حتیٰ کہ آپ کے شاگردوں میں بہت سے ثقہ علما کے طبقات ہیں۔
آپ کو تعلیم وتربیت اور درس و تدریس سے گہری دلچسپی تھی۔آپ کا یہ معمول تھا کہ نماز فجر سے فارغ ہو کر آپ مدرسہ تشریف لاتے اور طلباء،خدام دیگرحضرات کو شریعت و طریقت کی تعلیم دیتے۔ قرآن وحدیث،فقہ اور دیگر درسی کتا بوں کا درس دیتے۔شام تک درس وتدریس کایہ سلسلہ چلتا رہتا تھا۔اس کے علاوہ فتویٰ نویسی کی خدمت بھی انجام فرماتے تھے۔ہفتہ میں عام طور سے تین دن محفل وعظ منعقد ہوتی،جن میں لوگ اتنے ذوق وشوق سے شریک ہوتے تھے کہ ہجوم کے باعث شہر سے باہر عید گاہ میں آپ کا منبر رکھا جانے لگا۔چند ہی سالوں کے اندر آپ کے شاگرد اور عقیدت مند تمام عراق،عرب،شام اور دوسرے ممالک میں پھیل گئے۔

طلبہ سے آپ کے روابط اور طریقہ تفہیم
طالب علموں سے آپ کے روابط بہت ہی عمدہ تھے ان کے پسند و ناپسند کا خیال کئے بغیران کے حق میں جو بہتر ہوتا اسی کی نصیحت فرماتے۔بعض اوقات اس میں تیزی اور تندی پیدا ہو جاتی تھی۔ آپ فرماتے تھے کہ لوگوں کے دلوں پر میل جم گیا ہے،جب تک اسے زور سے رگڑا نہیں جائے گا صاف نہیں ہوگا۔میری سخت کلامی ان شاء اللہ ان کے لیے آب حیات ثابت ہوگی۔اے لوگو!میری سخت کلامی سے مت بھاگو۔جو مجھ سے اور میرے جیسے لوگوں سے بھاگااس کو فلاح نصیب نہیں ہو سکتی۔
احمد بن مبارک بیان فرماتے ہیں کہ ایک عجمی شخص ابی نامی آپ سے تعلیم حاصل کرتا تھا۔جو بہت کند ذہن اور غبی تھا کہ بہت مشکل سے اس کی سمجھ میں کوئی بات آتی تھی۔اس کے باوجود بھی حضرت غوث اعظم انتہائی صبر وتحمل کے ساتھ اس کو درس دیا کرتے تھے۔
قارئین کرام! حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے کتنی اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہوگی کہ آپ نہ صرف فقہ،حدیث اور قرآن و تفسیر کے ساتھ13علوم پڑھاتے تھے بلکہ آپ جس فن میں بھی چاہتے تھے دوسروں کو ماہر بھی بنا دیتے تھے۔اسی طرح آپ کے پڑھانے کا انداز اور طالب علموں کے ساتھ آپ کا اخلاق ورویہ کتنا عمدہ اور اچھا تھا کہ آپ کے کلاس و مجلس میں ستّر ہزار لوگ شامل ہوتے تھے جس میں سے چار سو بڑے بڑے علماوفضلا ہوتے تھے۔آج بھی ضرورت ہے اس بات کی کہ ہم صرف دامنِ غوث پاک تھامنے کا ہی دعویٰ نہ کریں بلکہ ہمارے اوپر ضروری ہے کہ ہم خودپڑھیں اور اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم کی طرف راغب کریں اور صرف پڑھیں یاپڑھائیں ہی نہیں بلکہ کسی بھی فن یا کسی بھی چیزمیںپہلے خوداکسپرٹ وماہر بنیں اور اپنے بچوں کو بھی بنائیں۔اورہم اساتذہ کرام کو چاہئے کہ حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی سیرت پاک سے آپ کے تدریسی طریقہ کار، طلبہ سے آپ کاسلوک و لگاؤ اور پڑھانے کے انداز کابغور مطالعہ کریں۔تاکہ ہم بھی تعلیم و تعلم کے ذریعہ سے ملک و ملت کی ترقی میں اور بہتر طریقے سے کام کر سکیں اور ایسے ہونہار افراد پیدا کر سکیں جو اعلیٰ عہدوں اور منصبوں کی زینت بن سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے