استاد آخر استاد ہوتا ہے!

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

شادی کی تقریب میں ایک صاحب اپنے جاننے والے آدمی کے پاس جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں۔۔ کیا آپ نے مجھے پہچانا؟
انھوں نے غور سے دیکھا اور کہا "ہاں آپ میرے سکول کے شاگرد ہو۔ کیا کر رہے ہو آج کل؟
شاگرد نے جواب دیا کہ "میں بھی آپ کی طرح سکول ٹیچر ہوں۔اور ٹیچر بننے کی یہ خواہش مجھ میں آپ ہی کی وجہ سے پیدا ہوئی۔”
استاد نے پوچھا "وہ کیسے؟”
شاگرد نے جواب دیا، "آپ کو یاد ہے کہ ایک بار کلاس کے ایک لڑکے کی بہت خوبصورت گھڑی چوری ہو گئی تھی اور وہ گھڑی میں نے چرائی تھی۔ آپ نے پوری کلاس کو کہا تھا کہ جس نے بھی گھڑی چرائی ھے واپس کر دے۔ میں گھڑی واپس کرنا چاھتا تھا لیکن شرمندگی سے بچنے کے لئے یہ جرات نہ کر سکا۔
آپ نے پوری کلاس کو دیوار کی طرف منہ کر کے ، آنکھیں بند کر کے کھڑے ھونے کا حکم دیا اور سب کی جیبوں کی تلاشی لی اور میری جیب سے گھڑی نکال کر بھی میرا نام لئے بغیر وہ گھڑی اس کے مالک کو دے دی اور مجھے کبھی اس عمل پر شرمندہ نہ کیا۔ میں نے اسی دن سے استاد بننے کا تہیئہ کر لیا تھا۔”
استاد نے کہا کہ "کہانی کچھ یوں ہے کہ تلاشی کے دوران میں نے بھی اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں اور مجھے بھی آج ہی پتہ چلا ہے کہ وہ گھڑی آپ نے چرائی تھی۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

کپڑے ہی سب کچھ نہیں ہوتے !!

ازقلم: غلام مصطفےٰ نعیمیروشن مستقبل دہلی یادش بخیر!زمانہ طالب علمی تھا، ہمارے عزیز دوست مولانا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔