کووڈ ۱۹: ایک جنگ

از قلم: رفیقہ پلوکر
موربہ، تعلقہ مان گاؤں ضلع رائے گڑھ

بطور ایک کووڈ پیشنٹ مجھے علی باغ کے سرکاری اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اسپتال میں کوئی بیڈ دستیاب نہیں تھا لیکن میری خراب حالت کے پیشِ نظر ایڈمٹ کرنا بھی لازمی تھا۔۔۔سانس لینے میں سخت دشواری ہو رہی تھی۔باہر ایک بینچ پر ہی مجھے آکسیجن لگائی گئی۔ہاتھ میں سوئی لگائی گئی۔دو گھنٹوں کے بعد ایک مریض کو اسپتال سے ڈسچارج ملنے والا تھا۔اُسی مریض کا بیڈ مجھے ملنے کی توقع تھی۔میں اپنے ہوش و حواس سے تقریباً بے گانہ تھی۔متوقع بیڈ مجھے جنرل وارڈ میں دیا گیا اور جب مجھے اس بیڈ پر لٹایا گیا تو میں نے فوراً اپنی آنکھیں مُوند لیں۔ جب حالت ذرا سنبھلی تو اپنے آس پاس کا جائزہ لیا۔مشترکہ وارڈ میں ۲۵ کورونا کے مریض سانسوں کی آمد و رفت کی جنگ لڑ رہے تھے۔ کسی کے قریب نا کوئی عزیز تھا نا کوئی رفیق۔

میرے سامنے ایک مریض بیڈ کے سرہانے پیٹھ ٹکا کر آنکھیں موند کر بیٹھا ہوا تھا اور زور زور سے سانسیں لے رہا تھا۔ بیڈ کے آس پاس کافی گند پھیلی ہوئی تھی۔اُسکے میلے کچیلے کپڑے اور چادر دیکھ کر لگتا تھا کہ اُسے یہاں داخل ہوئے کافی دن گزر چکے ہیں۔اُسے دیکھ کر میرے من میں ناگواریت کا احساس پیدا ہوا۔
مسئلہ یہ تھا کہ وہ سارا دن کُچھ نہ کُچھ تھوڑا تھوڑا کھاتا رہتا تھا مثلاً پھل،بسکٹ وغیرہ اور پھلوں کے چھلکے و بسکٹ کے ریپرس وہیں بیڈ کے پاس پھینک دیتا تھا۔بعد میں میرے شکایت کرنے پر نرس نے اُسے ایک باکس لاکر دیا تا کہ وہ اپنا کچڑا اُس میں جمع کر سکے۔ جب بھی اُسے فون آتا وہ زور زور سے بات کیا کرتا۔آس پاس کے سارے مریض نا چاہتے ہوئے بھی اس کی کال سننے لگ جاتے تھے۔تقریباًسبھی لوگ اس سے عاجز آ گئے تھے۔
میرے متصلہ بیڈ پر کسی اسکول کے ایک سر ایڈمٹ تھے ۔وہ کسی سے کوئی بات ہی نہیں کرتے تھے۔کافی صاف ستھرے نظر آ رہے تھے۔ شام ڈھلنے کے ساتھ اوڈوماس کریم اپنے ہاتھوں و پیروں کو لگا کر مچّھروں سے بچاؤ کی صورت نکالا کرتے تھے۔اپنا خُوب خیال رکھتے تھے۔مجال ہے جو اُنھیں کسی کا فون آئے،خود ہی شام میں ایک کال کر کے گھر والوں کو اپنی خیریت کی اطلاع دیتے تھے۔ اُن کی حالت کافی بہتر تھی۔
کورونا کے مریضوں کو نیند بھی نہیں آتی۔ساری رات آنکھوں میں کٹ جاتی ہے۔زندگی اور موت کی کش مکش میں آتی جاتی سانسوں کے درمیان دن گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا۔نا کونسا دن ہے یہ خبر ہوتی ہے نہ کونسی تاریخ ہے اس کا پتہ ہوتا ہے۔ ایک اضطراب کا عالم،گہرا جمود اور مرض کی شدت اس کے علاوہ اپنے عزیزوں کے بغیر تنہا رہنا ہوتا ہے۔اپنا کوئ پرسانِ حال نہیں۔وقت بہ وقت نرس آ کر مریضوں کے سرہانے دوائی رکھ کر چلی جاتی تھی۔جن کے ہاتھوں میں دم ہوتا ہے یا جنھیں اٹھنے،بیٹھنے کی سکت ہوتی ہے وہی مریض خود دوا کھا لیتے ہیں۔ضعیف افراد کے سرہانے دوا،گولیاں جمع ہوتی جاتی ہیں۔سرکاری اسپتالوں کا عملہ اپنا کام کرتا ضرور ہے لیکن بہ خوبی کریں یہ ضروری نہیں۔۔۔۔ایسے حالات میں جب اپنے اس بیماری میں آنکھیں پھیر لیتے ہیں انھیں کیا پڑی ہے کہ ہر ایک مریض کی یہاں تک خبرگیری کریں کہ وہ ٹھیک سے وقت پر دوا لے رہا ہے کہ نہیں؟
آکسیجن سلنڈر ختم ہوا یا اسکا پانی ختم ہوا یہ بتانے کی بھی جن مریضوں میں ہمت نہیں ہوتی اُن کی دم سے موت ہو جاتی ہے۔
میرے ہی بیڈ کے پاس میرے بعد زمین پر چھوٹا سا گدّا ڈال کر ایک ستر سے زیادہ عمر کے بوڑھے شخص کو ایڈمٹ کیا گیا۔۔۔بیٹا آیا اور ضعیف شخص کو ڈائپر پہنایا سرہانے ایک پانی کی بوتل رکھی اور چلا گیا۔بس۔۔۔پھر اس کے بعد پلٹ کر نہیں پوچھا۔اُنھیں کبھی گھر سے کُچھ بھی نہیں آیا۔۔۔ اُنھوں نے آنکھیں بند کر لی اور ہر شئے سے بے نیازہو گئے۔نرس آ کر سرہانے دوا رکھ جاتی۔۔۔دوا جمع ہوتی جا رہی تھی گولیاں یہاں وہاں بکھری ہوئی ہوتی تھیں اور ان کی حالت خراب سے خراب تر ہوتی چلی جا رہی تھی۔میں اپنے سرہانے زمین پر پڑے اس ضعیف شخص کے لئے نفسیاتی طور پر شدید کرب میں مبتلا تھی۔میں مدد کرنا چاہتی تھی لیکن اپنے سینے میں شدید درد اور سانس لینے میں دشواری کے باعث جُھک نہیں پا رہی تھی۔
میں تقریباً وارڈ میں آنے والی سبھی نرسوں سے اور ڈاکٹروں سے عاجزی کیا کرتی تھی کہ انھوں نے پچھلے تین دنوں سے کُچھ بھی نہیں کھایا ہے۔۔۔کُچھ کھلاؤ نا اُنھیں۔۔۔مجھے کہا جاتا تھا کہ آنکھیں بند کر لو اور سو جاؤ۔
کورونا وائرس کے اس دور میں زیادہ تر لوگوں کی اِنسانیت بھی سو چُکی ہے۔
وہ تیسرا دن تھا ضعیف شخص نے صبح اس وقت آنکھیں کھولی جب خادمہ سرکاری اسپتال میں مفت ملنے والے انڈے تقسیم کر رہی تھی۔میں نے لیٹے لیٹے ہی پوچھا۔”بابا! آپ انڈا کھاؤ گے؟”
"ہاں”
میں نے ان کے لئے بھی انڈا مانگ لیا۔جیسے تیسے صاف کیا اور اسی خادمہ سے اُنھیں کھلانے کے لئے کہا۔
اُس خادمہ نے میرے ہاتھ سے انڈا لیا اُن کے سرہانے رکھ دیا اور چلی گئی۔
میں نے دوسرے دن بیڈ کے نیچے وہ انڈا دیکھا۔اس بیماری میں کمزوری اتنی ہو جاتی ہے کہ اچّھے اچّھے جوانوں کی کمر توڑ کر رکھ دیتی ہے اور معنوں ہاتھوں،پیروں میں جان ہی باقی نہیں رہتی۔ایک کپکپاہٹ طاری ہو جاتی ہے۔
وہ ضعیف شخص بھی اپنے ہاتھوں سے انڈا اٹھا کر نہیں کھا سکا نہ ہی رحم کھا کر کسی نے اُنھیں کُچھ کھلایا۔
رات میں آواز آئی۔”پانی”
میں نے اپنی بوتل کا منہ کھولا۔اپنے سینے پر ایک ہاتھ رکھا اور جیسے تیسے ایک گھونٹ پانی ضعیف شخص کے منہ میں بیڈ پر سے ہی ٹپکا دیا۔
عجیب بے بسی تھی۔
عجیب خود غرضی کا عالم دیکھا۔جو لوگ ٹھیک تھے وہ بھی کووڈ کے مریضوں کی مدد نہیں کر رہے تھے اور جو کر رہے تھے وہ بھی مارے باندھے اپنی ڈیوٹی نبھا رہے تھے۔نرس نے بوڑھے شخص کے بیٹے کو فون کیا اور بلا لیا کہ آ کر وہ خود اپنے باپ کا ڈائپر تبدیل کرے کھانا کھلا کر چلا جائے۔
جب اُنکا بیٹا آیا تب جواسکول ٹیچر تھے اور خاموش ہی رہا کرتے تھے اُنھوں نے بلا تامل اُسے ڈانٹا،”تم جو اپنے بابا کو چھوڑ کر چلے گئے تو پلٹ کر حال بھی نہیں پوچھا۔یہ کئی دنوں کی دوائی دیکھو ویسے ہی پڑی ہوئی ہے۔تمھیں بابا کی صرف زمین ہی چاہئے کیا؟” شاید سر اُسے پہلے ہی سے جانتے تھے۔
حساس لوگوں کو اُن کی حساسیت مار دیتی ہے۔وہ ہمیشہ اوروں کے لئے بےچین رہتے ہیں۔مجھے بھی بےچینی تھی۔نیند ہی نہیں آتی تھی۔ساری ساری رات یوں ہی کٹ جاتی تھی۔۔۔آنکھیں بند بھی کیا کرتی تھی تو ذہن جاگتا رہتا تھا۔گرمی سے بھی حالت خراب تھی۔
اسپتال کی ٹین کی چھت کافی اونچی تھی اور اِس میں لگے ہوئے پنکھوں کی ہوا مریضوں تک پہنچ ہی نہیں پا رہی تھی۔کئی مریضوں نے اپنے گھر سے ٹیبل فین منگوا کر لگائے تھے۔
مچھیرے بھائی سے دو دنوں کے بعد لاتعلقی میں بھی ایک تعلّق سا بن گیا تھا۔میں نے دو تین بار کولی بھائی کی بیمار پرسی بھی کیں۔اُسے اسپتال میں داخل ہوئے تیرہ دن ہو چُکے تھے اُس کی ہارٹ سرجری بھی ہو چُکی تھی اسی لئے وہ کووڈ سے نکل نہیں پا رہا تھا۔گھر پر فون کیا اور اپنے لئے ایک ٹیبل فین منگوا لیا۔رات میں ٹھیک پنکھے کے سامنے بیٹھا رہا۔عجیب بات تھی وہ سوتا ہی نہیں تھا۔جب مجھے مچّھرو ں سے اور گرمی سے پریشان دیکھا تو چُپکے سے ایک لفظ کہے بغیر پنکھے کا رُخ میری طرف موڑ دیا۔میں ٹھنڈی ہوا آتے ہی کئی راتوں کے بعد سوئی۔۔۔وہ میلا کچیلا سا شخص دل کا امیر نکلا۔۔۔میں اُس کے بارے میں اپنے خیالات سے خُوب نادم ہوئی۔کسی کے بارے میں راے قائم کرنے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔کبھی کسی کا ظاہر دیکھ کر خود سے فیصلہ نہیں کرنا چاہئے کہ ہم نہیں جانتے کس کا باطن کتنا پاکیزہ ہے۔
صبح میں نے اُسے اپنی بیوی کو موبائل فون پر کہتے ہوئے سنا۔”آج مجھے ٹفن میں کیا دے رہی ہو؟ آج بڑی مچھلی دینا”۔
میں نے پوچھا” کولی بھائی! کیا آپ کی کشتیاں مچھلیاں پکڑنے کے لئے جاتی ہیں؟”
"ہاں”
"میں آؤنگی آپ کے یہاں بڑی مچھلی کھانے۔”
"ہاں ہاں ضرور آنا بس یہاں سے چھوٹ جائیں۔”
پانچویں دن اسپتال سے مجھے ڈسچارج ملا۔۔۔میں اسپتال سے اپنے گھر چلی آئی اور اُسی دن کولی بھائی دنیا سے رخصت ہو گیا۔
بعد میں پتہ چلا کہ اس کی طبیعت اچانک بہت بگڑ گئی تھی۔یہ خبر پا کر گہری افسردگی مجھے گھیرے رہی۔
تین دن گھر میں آرام کیا اس دوران تینوں بیٹیوں نے میرا ہر طرح سے بہت خیال رکھا پھر میں مانگاؤں کے ایک اسپتال میں چلی گئی جہاں میری امی ایڈمٹ تھیں۔
ایک بیٹا ایسا بھی ملا جس کی ماں ابھی زیرِ علاج تھیں،زندہ تھیں لیکن اُسے اُن کی تجہیز وتکفین کی فکر کھائے جا رہی تھی۔ماں کو غسل کون دےگا یہ بڑا سوال تھا جس کا بر ملا اس نے اظہار بھی کیا۔
الغرض اس عالمی وبا میں ہر ایک کی اپنی ایک کہانی ہے۔آکسیجن کنسنٹریٹر کی کالا بازاری عروج پر ہے۔عام دنوں میں تیس ہزار تک ملنے والے دس لیٹر آکسیجن والے آکسیجن کنسنٹریڑ ستر اسّی ہزار روپئے میں فروخت ہو رہے ہیں۔اسپتالوں میں بیڈز کی کمی،آکسیجن کی کمی حکومت کی نا کامی کی غماز ہے۔
بائیس مارچ سن دو ہزار بیس سے ملک بھر میں چل رہی تالہ بندی نے بھارتی معشیت کی کمر توڑ دی ہے۔
ایک وقت تھا والدین اور اساتذہ بچّوں کو موبائل فون سے دُور رہنے کے لئے کہا کرتے تھے اور اب حالات ایسے ہیں کہ اسکول آنلائن ہی چل رہے ہیں۔بچّوں کا تعلیمی سال برباد ہو رہا ہے۔امتحان دیئے بنا ہی بچّے اگلی کلاس میں پروموٹ کئے جا رہے ہیں۔اس وبا نے جانی و مالی نقصان کے ساتھ ساتھ سب سے بڑا نقصان جو کیا ہے وہ تعلیم کا نقصان ہے۔ساری دنیا پریشان ہے۔
جب گناہ حد سے تجاوز کر جاتے ہیں تو اللہ کی طرف سے آزمائش کی صورت میں مختلف وبائیں نازل کی جاتی ہیں۔لازمی ہے کہ ہم توبہ استغفار کرتے رہیں۔میں دُعا گو ہوں کہ اللہ ہماری صغیرہ و کبیرہ گناہوں کو معاف کرے اور جلد ہی اس وبا کا خاتمہ فرمائے۔آمین

About ہما اکبر آفرین

Check Also

بہار میں تین نئی یونیورسٹیوں کا قیام ایک اچھی پیش رفت

از قلم: شیبا کوثربرہ بترہ ضلع آرہ بہار تاریخ گواہ ہے کہ ایک وقت وہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے