نظم

کیا بتاؤں عشق نے کیا-کیا کیا

عشق حقیقی

محمد شریف نواز قادری تسلیمی خانقاہ تسلیمیہ ایسولی شریف سلطان پور (انڈیا)
7521982015

کیا بتاؤں میں تمہیں کہ عشق نےکیا-کیا کیا
ہاں مگر جو کچھ کیا اچھا کیا عمدہ کیا

عشق ہی نےجانےکتنوں کو ہے بخشی زندگی
عشق ہی نے زندگی کا کتنوں سے سودا کیا

عشق ہی کودا تھا جاکر آتشِ نمرود میں
عشق ہی نے آتشِ نمرود کو ٹھنڈا کیا

عشق ہی لیکر گیا تھا کربلا شبیر کو
عشق ہی نے کربلا میں آخری سجدہ کیا

عشق ہی نےکھال کھینچی حضرت تبریز کی
عشق ہی نے اس جگہ مردےکو تھا زندہ کیا

عشق ہی لیکر گیا تھا دار تک منصور کو
عشق ہی نے ہر جگہ منصور کا چرچہ کیا

عشق ہی نے تھا ڈسا بوبکر کو اس غار میں
عشق ہی نے پھر لعاب دہن سے اچھا کیا

عشق ہی بیٹھا تھاجاکرمصطفی کی پشت پر
عشق ہی نے اپنا سجدہ تھا وہاں لمبا کیا

عشق ہی نے کربلا میں کر دیا قربان سب
عشق ہی نے پرچم اسلام کو اونچا کیا

عقل چل سکتی نہیں ہے عشق کے آگے شریف
تب میں سمجھاعقل نےجب عشق کاپیچھا کیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے