عقائد و نظریات

معبودان کفار اور شرعی احکام (قسط دہم، جزاول)

بحث چہاردہم:

کتھائی مجلس کے فیصلے

کتھائی مجلس کے متعدد فیصلے منظرعام پرآئے۔ بعض میں معبودکفار کی تعریف وتوصیف کو کفرقرار دیا گیا،بعض میں غیر کفر۔چوں کہ دونوں قسم کے فتاویٰ بلند رتبہ مفتیان کرام کے تھے،اس لیے لوگ کشمکش کے شکار ہوگئے۔ ہم نے یہ طویل مباحث اس لئے لکھے کہ کوئی شخص ایسی بلا میں مبتلا نہ ہو۔مذکورہ بالا متخالف فتاوی کے سبب عوام مضطرب ہیں۔ہمارا مقصود صرف یہ بتانا ہے کہ ایسے اقوال کفریہ ہیں یا غیر کفریہ۔کسی خاص قائل کا شرعی حکم بیان کرنا مقصود نہیں۔نہ کسی فیصل پر تنقید مطلوب۔

دراصل جب کسی مومن بھائی سے کوئی لغزش ہوجائے اورتوبہ ورجوع کی ضرورت ہوتو اسے توبہ ورجوع کی ترغیب دی جائے، تاکہ اس کی آخرت درست ہو۔یہی مومن بھائی کی خیر خواہی ہے۔ماقبل میں تیرہ مباحث مرقوم ہیں۔ ان مباحث کا مقصدیہ ہے کہ مستقبل میں کوئی ایسی لغزش میں مبتلا نہ ہو۔ ہماری تحقیق میں بھی معبودان کفار کی تعریف وتوصیف کفر ہے۔ دراصل مدح وستائش بھی تعظیم ہے۔جس طرح مذمت وبدگوئی تنقیص ہے۔

کتھائی مجلس کے ایک فیصلے اور اس کی تشریحات میں فیصل نے رقم فرمایاکہ معبود کفار کی تعریف وتوصیف معبود ہونے کی حیثیت سے ہو، تب کفر ہے، ورنہ کفر نہیں، نیز قرآن وحدیث میں بھی معبودان کفار کا ذکر آیا ہے۔

اس قول کے جوابات تمام مباحث میں منتشر ہیں۔خاص کربحث اول تا بحث پنجم، بحث ہفتم،بحث ہشتم اوربحث یازدہم میں تفصیل ہے۔ان مباحث کی جانب رجوع کریں۔

معبودان کفار کی تعظیم وتکریم میں حیثیت کا اعتبار نہیں

معبودان کفار کی تعظیم وتکریم اور مدح وستائش میں حیثیتوں کا اعتبار نہیں، نیز غیرمومن معبودان کفار کا ذکرخیر قرآن وحدیث میں موجودنہیں، جب کہ اصل بحث یہی ہے کہ غیر مومن معبودان کفار کی تعریف وتوصیف کا حکم کیا ہے۔

احوال واقعیہ اور واقعات صحیحہ انہی معبودان باطل کے ہوں گے جن کا حقیقی وجودہو۔ جن کا وجودفرضی ہو، ان کے صحیح اور واقعی احوال بھی نہیں ہوں گے۔ ان کے بارے میں مشہور غلط حکایات وروایات کو بیان کرنا بھی غلط ہوگا۔الزام خصم یاکسی ضرورت کے سبب بیان کیا جا سکتا ہے۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ معبودان ہنود کا وجود تاریخی حقائق سے ثابت نہیں، وہ محض افسانوی کردار ہیں۔حقیقی احوال کا بیان الگ ہے اور تعریف وتوصیف الگ ہے۔

کسی کی مدح وستائش اس کی تعظیم ہے، جیسے کسی کی مذمت اس کی تنقیص ہے۔ غیرمومن معبودان کفار اور کفارکے حکم میں فرق ہے۔بوجہ ضرورت کسی مشرک کے حقیقی حال کو بیان کیا جا سکتا ہے، جیسے سخاوت کی ترغیب دینے حاتم طائی کی سخاوت کو بیان کرنا۔ اسلوب کلام ایسا رکھنا ہوگا کہ اس سے تعظیم وتکریم ظاہر نہ ہو۔ اسلوب کلام پر بھی حکم عائد ہوتا ہے۔کسی نبی علیہ السلام کا کوئی سچا اورصحیح واقعہ تنقیص کے اسلوب میں بیان کرے تو شرعی حکم وارد ہوگا۔

متعارف حیثیت اورفقہی اصول

بعض احوال کبھی کبھی درپیش ہوتے ہیں۔یہ نادراحوال ہیں۔بعض احوال اکثری ہوتے ہیں کہ اکثر اوقات میں ویسے ہی حالات ہوتے ہیں۔ اکثری احوال پر فقہی حکم کا مدار ہوتا ہے۔نادر احوال اور اکثری احوال کی طرح فرضی احوال اور حقیقی احوال ہیں۔ فرضی احوال کا وجود ہی نہیں ہوتا,پس حقیقی احوال پر حکم کا مدار ہوگا۔

غیر مومن معبودان کفار کی تعظیم وتوصیف میں حیثیتوں کا فرق معتبر نہیں،نیزفقہا ئے کرام کے اصول کے مطابق حقیقی حیثیت کا اعتبار ہوگا۔

رام کی ایک ہی حقیقی حیثیت ہے۔ یعنی معبودمشرکین ہونا۔اس کا راجہ یا مہاراجہ ہونا،یا مشرک وموحدہونا اسی وقت ثابت ہوگا، جب اس کا وجود ثابت ہو۔جب اس کے وجود ہی کا ثبوت نہیں تو صرف معبودیت کی حیثیت باقی رہی۔باقی احوال فرضی یانامعلوم ہیں۔فقہی اصول کے اعتبارسے اسی حیثیت پر حکم کا مدار ہوگا جوحقیقی اور معلوم ہے۔اس کا ذکر معبود کفار کی حیثیت سے ہی ہوتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ جس طرح مسلمانوں کے مذہبی جلسے ہوتے ہیں، اسی طرح رام کتھا کی مجلس ہے۔ وہاں رام کی تعریف وتوصیف معبود کفار ہونے کی حیثیت سے ہوتی ہے،نہ کہ ایک بھارتی راجہ ہونے کی حیثیت سے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عہد مسعود میں ساراعرب مسلمانو ں کے زیر حکومت تھا۔حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دست اقدس میں ملک عرب کا نظم ونسق تھا،لیکن مذہبی مجالس میں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کاتذکرہ پیغمبر خدا ہونے کی حیثیت سے ہوتا ہے،نہ کہ بادشاہ عرب ہونے کی حیثیت سے۔

بالفرض اگرکتھائی مجلس کو سماجی مجلس مانیں توبھی رام کی معبودیت کی حیثیت ثابت ہے،دیگر حیثیات نا معلوم ہیں، اس لیے فقہی قانون کے مطابق وہی حیثیت مرادہوگی۔پس اس کی تعریف وتوصیف معبود کفار کی تعریف وتوصیف مانی جائے گی، دیگر حیثیتوں کا اعتبار نہیں ہوگا۔ ثابت شدہ حقائق پر فقہی احکام کا مدار ہوتا ہے۔ جب رام کی شہرت وقبولیت معبود کفار کی حیثیت سے ہے توفقہی قانون کے مطابق یہی حقیقی حیثیت تسلیم کی جائے گی۔

فقہا ئے کرام حالات واقعیہ اور حالات اکثریہ کے اعتبارسے حکم نافذ کرتے ہیں۔

وہابی مرد سے نکاح کے بارے میں امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے رقم فرمایا:
”دنیا کے پردے پر کوئی وہابی ایسانہ ہوگا جس پرفقہائے کرام کے ارشادات سے کفرلازم نہ ہو، او ر نکاح کا جواز عدم جواز نہیں،مگر ایک مسئلہ فقہی،تو یہاں حکم فقہا یہی ہوگا کہ ان سے مناکحت اصلا جائز نہیں۔خواہ مرد وہابی ہو،یاعورت وہابیہ اور مرد سنی۔

ہاں یہ ضرور ہے کہ ہم اس باب میں قول متکلمین اختیار کرتے ہیں اور ان میں جو کسی ضروری دین کا منکر نہیں، نہ ضروری دین کے کسی منکر کو مسلمان کہتاہے،اسے کافرنہیں کہتے،مگر یہ صرف برائے احتیاط ہے۔دربارہ تکفیر حتی الامکان احتیاط اس میں ہے کہ سکوت کیجئے،مگر وہی احتیاط جو وہاں مانع تکفیر ہوئی تھی،یہاں مانع نکاح ہوگی کہ جب جمہور فقہائے کرام کے حکم سے ان پر کفر لازم توا ن سے مناکحت زنا ہے تو یہاں احتیاط اسی میں ہے کہ اس سے دور رہیں اور مسلمانوں کو باز رکھیں۔

للہ انصاف کسی سنی صحیح العقیدہ فقہائے کرام کا قلب سلیم گوارا کرے گا کہ اس کی کوئی عزیزہ کریمہ ایسی بلا میں مبتلا ہوجسے فقہائے کرام عمر بھر کا زنا بتائیں۔تکفیر سے سکوت زبان کے لیے احتیاط تھی اور اس نکاح سے احتراز فرج کے واسطے احتیاط ہے۔یہ کون سی شرع کہ ز بان کے باب میں احتیاط کیجئے اور فرج کے بارے میں بے احتیاطی۔ انصاف کیجئے تو بنظر واقع حکم اسی قدر سے منقح ہولیا کہ نفس الامر میں کوئی وہابی ان خرافات سے خالی نہ نکلے گا۔

اور احکام فقہیہ میں واقعات ہی کالحاظ ہوتا ہے،نہ احتمالات غیر واقعیہ کا۔بل صرحوا ان احکام الفقۃ تجری علی الغالب من دون نظر الی النادر۔
(بلکہ انھوں نے تصریح کی ہے کہ فقہی احکام کا مدار غالب امور بنتے ہیں،نادر امور پیش نظرنہیں ہوتے:ت)
(فتاویٰ رضویہ جلد یازدہم:رسالہ ازالۃ العار:ص382-381-جامعہ نظامیہ لاہور)

منقولہ بالا عبارت میں ہے کہ:”احکام فقہیہ میں واقعات ہی کالحاظ ہوتا ہے، نہ احتمالات غیر واقعیہ کا“۔اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ جوکافر فقہی کو اپنا پیشوا مانتا ہے، اس پر بھی کفر فقہی کا حکم عائد ہوگا،کیوں کہ عام طورپر لوگ اپنے پیشواکے کفریہ کلمات کوغلط نہیں کہتے، بلکہ تاویل کرتے ہیں اوراس کے صحیح معانی بتاتے ہیں۔یہی واقعی حالات ہیں۔

یہ حالت نادروشاذہے کہ کوئی وہابی اپنے پیشوا کی بات کو رد کردے،اور اپنے پیشوا کوبھی اس سبب سے کافر فقہی مان لے۔ فقہی احکام نادر حالات کے اعتبارسے نافذ نہیں ہوتے،بلکہ اکثری حالات کے اعتبارسے نافذ ہوتے ہیں۔

رام سے متعلق حقیقی حالت اورثابت شدہ حیثیت یہی ہے کہ وہ معبود کفارہے۔ہنود اسے معبود ہی مانتے ہیں۔ درحقیقت مذہب ہنود میں اوتار کو معبود مانا جاتا ہے۔قوم ہنود کا نظر یہ ہے کہ اوتار خدا سے جدا نہیں ہوتا،بلکہ خدا ہی اوتار کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ رام کوبھی ہنود ساتواں اوتاراورکرشن کوآٹھواں اوتار تسلیم کرتے ہیں، اور اپنا معبود تسلیم کرتے ہیں۔

حضور شیر بیشہ اہل سنت قدس سرہ العزیز نے رقم فرمایا:”آخر ہنود کے نزدیک رام خدا ہی تو ہے“۔
(حاشیہ فتاویٰ رضویہ:جلد14:ص472-جامعہ نظامیہ لاہور)

اگر رام چندرکا وجود تسلیم کیا جائے تو روایات ہنود سے بھی اس کا کافر ہونا ہی ثابت ہے۔بحث یازدہم کے اخیر میں تفصیل ہے۔رام چندرکے وجود پر تاریخ بالکل خاموش ہے۔ جب اس کا وجود ہی ثابت نہیں تو اس کا موحد ومشرک ہونا،یا بھارت کا ایک راجہ ہونا غیرثابت اور نامعلوم حالت ہے۔یہ محض عقلی احتمال ہے۔ تواریخ میں رام کو ایک افسانوی کردارتسلیم کیا گیا ہے۔

الحاصل اس کے وجود میں اختلاف ہے،لیکن اس کے معبود کفار ہونے میں اختلاف نہیں۔اسی حقیقی حالت پر حکم کا مدار ہوگا۔اگر کسی نے تعریف وتوصیف کی ہوتوتوبہ، تجدید ایمان وتجد ید نکا ح کر لے،اور پاکیزہ ہوکر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضرہو۔مومن کی خیرخواہی کا تقاضہ یہی ہے کہ ہم اس کی آخرت کومدنظر رکھ کرانہیں توبہ ورجوع کی ترغیب دیں۔ عزت کی نگاہ سے بتوں کے فوٹودیکھناکفر ہے توبتوں کی تعریف وتوصیف کیوں کفر نہیں؟

بتوں کی تعریف سے مشرکین کی خوشی

جب بتوں کی تعریف وتوصیف کی جائے تو مشرکین خوش ہوتے ہیں۔ اس سے ان کے مذہبی جذبات کی تسکین اوران کے بتوں کا اعزازو اکرام ہوتا ہے۔ہرصاحب علم کو تسلیم ہے کہ تعریف وتوصیف سے کفار ومشرکین کے مذہبی جذبات کا احترام ہوتا ہے۔اس سے وہ خوش ہوتے ہیں۔ وہ اسی لیے خوش ہوتے ہیں کہ ان کے معبود باطل کی مدح سرائی کی گئی۔

ارشاد الٰہی ہے:(واذا ذکر اللّٰہ وحدہ اشمازت قلوب الذین لا یؤمنون بالاٰخرۃ واذا ذکر الذین من دونہ اذا ہم یستبشرون)(سورہ زمر:آیت 45)

تر جمہ: اور جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے، دل سمٹ جاتے ہیں ان کے جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے، اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر ہوتا ہے،جبھی وہ خوشیاں مناتے ہیں۔
(کنزالایمان)

جب مشرکین کے بتوں کا ذکرخیر کیا جاتا ہے تو وہ خوش ہوجاتے ہیں۔اس سے ان کے مذہبی جذبات کا احترا م ہوتا ہے۔بتوں کے ذکرخیرسے بتوں کی تعظیم ہوتی ہے۔اس طرح معبودان باطل کی مدح وستائش میں دوقسم کا کفر پایا جاتا ہے۔ اس بلا میں کوئی مبتلا نہ ہو۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:یکم اکتوبر2021

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے