اشعاروغزل

نظم: ہوتی ہے فتین فطرت بے نماز پیر کی

نتیجۂ فکر: محمد جیش خان نوری، حجاز مقدس

ہوتی ہے فتین فطرت بےنمازی پیر کی
کیوں نہ ہو عالم میں درگت بےنمازی پیر کی

بس مریدوں کی ہی کھاتا ہے کمائی دہر میں
ہوگئی ہے ایسی عادت بےنمازی پیر کی

جن کے دل میں ہے بسی خوف خدا عشقِ نبی
کرنہیں سکتے ہیں بیعت بے نمازی پیر کی

اچھے اچھوں کو پھنسا لیتا ہے اپنے جال میں
شاطروں جیسی ہے عادت بےنمازی پیر کی

آخرت اس کی بھی ہوسکتی ہے بالآخر خراب
کررہا ہے جو اطاعت بےنمازی پیر کی

جعلی پیروں سے ہمیں مولی بچائے رکھنا تو
ہے نہیں ہم کو ضرورت بےنمازی پیر کی

کہہ رہے ہیں عاشق خیرا لوری نوری یہی
ہم نہیں کرتے حمایت بےنمازی پیر کی

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button