نظم

اک دن بنے گی جنتی مہمان میری ماں

فرید عالم اشرفی فریدی

رب کی عطا سے ہو گئ ذیشان میری ماں
ہے میری زندگانی کا مسکان میری ماں

جنت ہے ماں کے قدموں تلے سن لو مؤمنوں
سرکار کی عطا سے ہے انعام میری ماں

دیتی رہی دعا تو بلائیں رہی ہیں دور
تا عمر کرتی رہتی ہیں احسان میری ماں

اپنی خوشی مٹا دی فقط مرے واسطے
پوری کئے ہر اک مری ارمان میری ماں

رب نے قبول کر لی دعائیں تمہاری سب
سینے میں تیس پارہ ہے قرآن میری ماں

آقا کریں گے حشر میں بخشش مری ماں کی
اک دن بنے گی جنتی مہمان میری ماں

بچپن سے میری ماں نے مجھے پالا نظر میں
ہو جاؤں تیرے قدموں میں قربان میری ماں

خدمت کروں گا ماں میں تمہاری یہ وعدہ ہے
جب تک رہے گی جسم میں یہ جان میری ماں

کرتے رہیں فریدی ادب و احترام خوب
قرآن میں لکھی ہے تری شان میری ماں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے