بین الاقوامیتعلیم

جامعہ قمرالنساء نسواں چین پور روپندیہی میں درس بخاری کا آغاز

روپندیہی/نیپال: 8 اکتوبر، ہماری آواز
مورخہ 7/ اکتوبر بروز جمعرات بعد نماز مغرب جامعہ قمرالنساء نسواں چین پور، ضلع روپندیہی نیپال میں درس بخاری کا آغاز ہوا ۔اس موقع پر جامعہ کی طالبات کو درس بخاری شریف کا افتتاح کراتے ہوئے حضرت مولانا طاہر القادری مصباحی نظامی نے کہا کہ صحیح بخاری شریف دیگر تمام کتابوں پر اس وجہ سے فائق ہے کہ اس میں امام بخاری نے نہایت محتاط طریقہ پر اعلی درجہ کی صحیح احادیث جمع فرمائی ہیں اور بعد کے محدثین نے ان احادیث کو جانچا تو صحیح پایا۔ امام بخاری نے خوب شہرت و مقبولیت حاصل کی، ان کے ہم عصروں حتی کہ ان کے شیوخ تک نے ان کا اعتراف کیا، ان کے بعد کے علما نے حدیث و علوم حدیث میں ان کی امامت کا لوہا مانا،یہاں تک کہ انھیں امیر المومنین فی الحدیث کے لقب سے یاد کیا گیا۔

جشن افتتاح بخاری سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کے ناظم تعلیمات حضرت مولانا غیاث الدین احمد عارف مصباحی نے کہا کہ صحیح بخاری کا اصل نام «الجامع المسند الصحیح المختصر من امور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسننہ و ایامہ» ہے جو «صحیح البخاری» کے نام سے مشہور ہے، یہ اہل سنت وجماعت کی سب سے مشہور حدیث کی کتاب ہے، اس کو امام محمد بن اسماعیل بخاری نے سولہ سال کی مدت میں بڑی جانفشانی اور عرق ریزی کے ساتھ لکھا ہے،اس کتاب کو انھوں نے چھ لاکھ احادیث سے منتخب کر کے جمع کیا ہے۔اہل سنت کے یہاں اس کتاب کو ایک خاص مرتبہ و حیثیت حاصل ہے اور اسے حدیث پاک کی چھ امہات الکتب (صحاح ستہ) میں اول مقام حاصل ہے، خالص صحیح احادیث میں لکھی جانی والی پہلی کتاب شمار ہوتی ہے،اسے قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح کتاب کا درجہ حاصل ہے اسی طرح صحیح بخاری کا شمار کتب الجوامع میں بھی ہوتا ہے، یعنی ایسی کتاب جو اپنے فن حدیث میں تمام ابواب عقائد، احکام، تفسیر، تاریخ، زہد اور آداب وغیرہ پر مشتمل اور جامع ہو۔ موصوف نے مزید کہا کہ :
اس کتاب نے امام بخاری کی زندگی ہی میں بڑی شہرت و مقبولیت حاصل کر لی تھی، بیان کیا جاتا ہے کہ اس کتاب کو تقریباً ستر ہزار سے زائد لوگوں نے اُن سے پڑھا اور سماعت کی، اس کی شہرت اسی زمانہ میں عام ہو گئی تھی، چنانچہ بے شمار کتابیں اس کی شرح، مختصر، تعلیق، مستدرک، تخریج اور علومِ حدیث وغیرہ پر بھی لکھی گئیں، یہاں تک کہ بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ امام بخاری کے زمانے میں ہی اس کی شروحات کی تعداد بیاسی (82) سے زیادہ ہو گئی تھی۔
اخیر میں دعا اور صلاۃ وسلام پر محفل کا اختتام ہوا، اس موقع پرجامعہ کی معلمات، طالبات، علاقائی خواتین اور مخصوص ارکان نے شرکت کی واضح ہو کہ سبھی خواتین و طالبات نے علماء کے خطابات پردے کے پیچھے رہ کر سماعت کیں

رپورٹ :
حافظ وقاری آفتاب عالم علیمی
استاذ مدرسہ غوثیہ چین پور، بھیرہوا ضلع روپندیہی (نیپال)

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button