ربیع الاولنبی کریمﷺ

میلاد النبیﷺ اور فکرِ یہود

تحریر: محمد اسمٰعیل بدایونی


پیشوائے یہود پریشان تھے ۔۔۔نبی آخرالزماں ﷺ کی ولادت کا وقت قریب آچکا تھا ۔۔۔ ساری زندگی جس نبیﷺ کی آمد کا تذکرہ لوگوں سے کیا جاتا رہا ۔۔۔اس نبی کی آمد پر یہود پریشان ہو گئے ۔۔۔سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے اپنی اپنی کتابوں سے میلاد النبی ﷺ کا تذکرہ کھرچنے لگے ۔۔۔۔اپنے بچوں کو توریت و انجیل میں موجود ان آیات کی تلاوت سے روکنے لگے جن میں اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے ﷺ کے میلاد کا ذکر موجود تھا ۔۔۔ تبدیلی و تحریف کا مذموم عمل عہد رسالت ﷺ سے تا حال جاری ہے ۔۔۔۔۔
اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَھُمْ ۭ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنْهُمْ لَيَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ ١٤٦ سورہ بقرۃ
جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی وہ اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے آدمی اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے اور بیشک ان میں ایک گروہ جان بوجھ کر حق چھپاتے ہیں۔
جب اس عمل کو روکنے میں وہ ناکام ہو گئے ۔۔۔۔۔میلاد النبی ﷺ کا تذکرہ بڑھتا ہی چلا گیا ۔۔۔۔
اس پہ قہر کہ اب چند مخالف تیرے
چاہتے ہیں کہ گھٹا دیں کہیں پایہ تیرا
عقل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتے
یہ گھٹائیں اُسے منظور بڑھانا تیرا
وَرَفَعْناَ لَکَ ذِکْرَکَ کا ہے سایہ تجھ پر
بول بالا ہے ترا ذکر ہے اونچا تیرا
مٹ گئے مٹتے جائینگے اعدا تیرے
نہ مٹا ہے نہ مٹے گا کبھی چرچا تیرا
تو گھٹائے سے کسی کے نہ گھٹا ہے نہ گھٹے
جب بڑھائے تجھے اللہ تعالیٰ تیرا
عجیب بات کہ گھٹانے والوں کی تحریک مسلمانوں کے روپ میں ۔۔۔جبہ و دستار میں ملبوس یہودی ربی مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہوتے چلے گئے ۔۔۔۔عقیدت پرستی میں مبتلا زوال پذیر قوم اصلی اور نقلی کی پہچان سے عاری فرقہ واریت کے خانوں میں بانٹتی چلی گئی ۔۔۔۔۔فکرِ یہود مسلمانوں میں عام ہو نے لگی ۔۔۔۔روکو اس ذکرِ میلاد النبی ﷺ کو، مسلمانوں کے درمیان موجود یہودی ربی اس فکر کو عام کرتے رہے ۔
سوچئیے کیا یہ ممکن ہے کوئی ربی آپ سے براہ راست میلاد النبی ﷺ کا انکار کرے اور آپ اس کی بات مان لیں ؟
لازمی سی بات ہے آپ اس کی بات نہیں مانیں گے .
اس کے لیے نواب راحت خان چھتاری جس خفیہ مدرسے کا تذکر ہ کرتے ہیں وہیں کا کوئی خفیہ سپاہی ہو گاکرنل لارنس آف عربیہ جیسا ۔۔۔۔یہ کیسے ممکن تھا کہ کوئی یہودی ربی مسلمان عالم کے جاسوس کا روپ بھرے بغیر اس کام کو کر سکے ۔۔۔۔صاف صاف منع کرے تو مسلمان اسے سمجھ جائیں ۔۔۔۔شرک اور بدعت کے رئیپر میں اس کو پیش کیا گیا ۔
کچھ نے مان لیا لیکن کچھ سمجھ دار مسلمانوں نے کہا لفظِ میلاد سے الرجی ہے تو سیرت النبی ﷺ کر دیتے ہیں انہوں نے فرقہ واریت کی تقسیم کو مسترد کیے بغیر میلا د النبی ﷺ اور سیرت النبی ﷺ کی اصطلاحات متعرف کرادیں ہر خاص و عام کہنے لگا سیرت اپنائی جائے اور میلاد منایا جائے اب لازمی سی بات ہے سیرت کا تذکرہ ولادت کے تذکرے سے تو خالی ہونے سے رہا ۔۔۔ فکر ِیہود یہاں بھی ناکام ہو گئی ۔۔۔امت گو کہ الفاظ کی ہیر پھیر میں تقسیم ہو گئی لیکن فکرِ یہود کامیاب نہ ہو سکی ۔۔۔
کھسیانی بلی کھمبا نوچے خفیہ مدرسے والے یہودی ربیوں نے پروپیگنڈہ شروع کر دیا یہ شرک ہے ، بدعت ہے باقی ہمارے کچھ بھولے بھالے لوگ ان یہودی ربیوں کے کہنے میں آگئے انہوں نے بھی ان کی زبان بولنا شروع کر دی ۔۔۔۔۔کوئی دلیل ہاتھ نہ آئی تو عید کیوں کہا اس کو ؟ اس قسم کی بانجھ بحثوں میں امت کو اُلجھا دیا ۔
پیارے مسلمان بھائیو ! گزارش صرف اتنی ہے جب آپ کسی کو بہت شدو مد کے ساتھ میلاد کی مخالفت کرتے دیکھیں تو سمجھ جائیں یا تو یہ چھپا ہوا یہودی ربی ہےیا پھر کسی یہودی ربی (جو بظاہر مسلمان عالم کا روپ دھارے ہوئے ہے )سے متاثر ہے ورنہ میلاد کی مخالفت کوئی مسلمان ہر گز نہیں کر سکتا ۔
یہ ہو سکتا ہے کوئی مسلمان میلاد النبی ﷺ کے بجائے سیرت النبی ﷺ منائے اور سیرت کسی کی بھی ہو بغیر ولادت کے تذکرے کے شروع ہی نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔۔۔لہذا اس پر بالکل نہیں جھگڑیں ۔
کوشش کیجیے مسجد سے کتا نکالیے مسجد کو مت ڈھائیے ۔۔۔۔۔۔۔
اب آپ سب سے عرض یہ ہے اہل ِ یہود کی فکر کو سمجھیے پانی سر وں سے اونچا ہو چکا ہمارا حال یہ ہے کہ جیسے ہی ربیع الاول کا مہینہ آئے گا بکسٹا ل پر ردِّ میلاد کی کتابیں سجنا شروع ہو جائیں گی ۔۔۔۔منبر سےمخالفت شروع ہو جائے گی ۔۔۔۔شرک و بدعت کے فتوؤں کی توپ سے مشرک و بدعتی کی گولہ باری شروع ہو جائے گی تو سمجھ لیجیے پیارے بھائی ! آپ فکرِ یہود کی آبیاری میں استعمال ہورہے ہیں ۔
مروجہ طریقہ میلاد پر اختلاف ہو سکتا ہے ضرور کیجیے لیکن یاد رکھیے !!! میلاد کی مخالفت فکرِ یہود کی پرورش کا نام ہے ۔
بچوں کے لیے لکھی گئی دلچسپ کہانیاں ،سنہری سیرت النبی ﷺ سنہری صحاح ستہ اور سنہری فہم القرآن منگوانے کے لیے ابھی رابطہ کیجیے 03082462723 فہیم بھائی

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button