اشعاروغزل

غزل: پتھر کو دل کا حال سنانا فضول ہے

خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان

غیروں کے در پہ مانگنے جانا فضول ہے
پتھر کو دل کا حال سنانا فضول ہے

جو بات سن کے کان سے فوراً نکال دیں
ایسوں کو اچھی بات بتانا فضول ہے

دولت ہے زیادہ خرچ غریبوں پہ کیجیے
شادی میں یوں ہی پیسے اڑانا فضول ہے

سیدھا نہیں وہ ہوگا کرو لاکھ کوششیں
کتے کی دم کو سیدھا ہی کرنا فضول ہے

نادان ہے تو وقت کی کرتا نہیں ہے قدر
دن رات تیرا فون چلانا فضول ہے

عزت کی دھجیاں جو اڑاتے ہوں بارہا
ایسوں کے پاس آپ کا جانا فضول ہے

اس سے نشانہ آپ کا چوکے کا بارہا
اندھیرے میں یوں چلانا فضول ہے

رونے سے چیز ملتی ہے واپس نہیں کبھی
فیضان یوں اشک تیرا بہانا فضول ہے

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button