نبی کریمﷺ

حضور اقدس ﷺ کے محاسن میں سخاوت کو خصوصی امتیاز

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا جس طرح دیگر اخلاقی خوبیوں میں کوئی مثال نہیں اسی طرح سخاوت میں بھی آپ کی شان بے مثل و مثال ہے،جن لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بحر سخاوت کو موجزن دیکھا تھا انہوں نے آپ کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف سخی کہہ دینا کافی نہیں سمجھا بلکہ اجود الناس یعنی سب انسانوں سے زیادہ سخی قرار دیا۔

سخاوت،بخالت کی ضد ہے؛ سخاوت کا مطلب ہے کہ مناسب موقعوں پر انسان اپنا ہاتھ اور دل کھلا کر رکھے اور وہ مادی اور معنوی وسائل اور امکانات جو اس کے اختیار میں ہیں انہیں صرف اپنی ذات تک محدود نہ رکھے بلکہ اپنے جود وبخشش سے دوسروں کو فقر اور بیچارگی سے نکالے اور بینواؤں کے کاندھوں کا بوجھ ہلکا کرے۔مشکلات کو حل کرے دکھوں کو بر طرف کرے اور دوسروں کو ان نعمتوں سے جو خدا نے اسے عطا کی ہیں فائدہ پہنچائے۔بخیل انسان کو اپنا مال خرچ کرنے یا اپنی کسی بھی چیز دینے میں تکلیف محسوس ہوتی ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سخی اللہ کے قریب ہے،جنت کے قریب ہے،تمام لوگوں کے قریب ہے،جہنم سے دور ہے اور بخیل اللہ سے دور ہے، جنت سے دور ہے، لوگوں سے دور ہے جبکہ دوزخ کے قریب ہے۔ حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شان سخاوت بہت بلند ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت کے احوال عدیم المثال ہیں کہ وصف سخاوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شناخت بن گیا۔،حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا بیان ہے کہ حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں سے زیادہ بڑھ کر سخی تھے۔ خصوصاً ماہ رمضان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت اس قدر بڑھ جاتی کہ برسنے والی بدلیوں کو اٹھانے والی ہواؤں سے بھی زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخی ہو جاتے۔حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سائل کے جواب میں خواہ وہ کتنی ہی بڑی چیز کا سوال کیوں نہ کرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لا یعنی نہیں کا لفظ نہیں فرمایا۔حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت کسی سائل کے سوال ہی پر محدود و منحصر نہیں تھی بلکہ بغیر مانگے ہوئے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس قدر زیادہ مال عطا فرما دیا کہ عالم سخاوت میں اس کی مثال نادر و نایاب ہے۔حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت بڑے دشمن امیہ بن خلف کا بیٹا صفوان بن امیہ جب جعرانہ نامی مقام میں حاضر دربار ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اتنی کثیر تعداد میں اونٹوں اور بکریوں کا ریوڑ عطافرما دیا کہ دو پہاڑیوں کے درمیان کا میدان بھر گیا۔ چنانچہ صفوان مکہ جا کر چلا چلا کر اپنی قوم سے کہنے لگا کہ اے لوگو! دامن اسلام میں آ جاؤ محمدصلی اللہ علیہ وسلم اس قدر زیادہ مال عطا فرماتے ہیں کہ فقیری کا کوئی اندیشہ ہی باقی نہیں رہتا اس کے بعد پھر صفوان خود بھی مسلمان ہوگئے۔ حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت سخاوت ہماری رہنمائی کرتی ہے کہ ہم شان سخاوت سے اکتساب فیض کرتے ہوئے اپنے عزیز اقارب اور رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کریں، ان میں سے حاجتمندوں کی مدد کریں، اپنے ضرورت مند دوستوں کے ساتھ وفا کریں اور انکی جائز حاجات کو پورا کریں، معاشرے کے ناداروں اور مفلسوں پر خرچ کریں، بے سہاروں کا سہارا بنیں، یتیموں اور بیواؤں کے لئے ایک رحمت اور شفقت کا سائباں بنیں۔مولانا ممشاد پاشاہ نے مزید کہا کہ سخاوت کے بے شمار فوائد ہیں ان میں سے چند ایک یہ ہیں کہ کسی مستحق کی مالی مدد کرنا دلی سکون اور خوشی کا باعث بنتا ہے،اپنے سے کمتر اور غریب لوگوں کو دیکھنا اور ان کے مسائل سننا، شکر گزاری اور خود کو حاصل نعمتوں کی قدر کرنے کا سبب بنتا ہے،آپ کو کسی کی مالی مدد کرتا ہوا دیکھ کر آپ کے آس پاس موجود افراد کو بھی اس کی ترغیب ہوگی، اور یوں آپ ایک کار خیر کے پھیلاؤ کا سبب بنیں گے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ہاتھوں کو دینے والا اور دل کو سخی بنادے اور ہمیں بخل سے دور رکھے۔

از افادات: (مولانا) سید محمد علی قادری الہاشمی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے