یوم آزادی و یوم جمہوریہ

کیا ہم جمہوری ملک میں رہ رہے ہیں؟

از: محمد زاہد رضا، دھنباد
متعلم،جامعہ اشرفیہ، مبارک پور
(رکن: مجلس علماے جھارکھنڈ)

٢٦/جنوری بروز بدھ پورے ہندوستان میں ٧٣/واں یوم جمہوریہ جوش و خروش کے ساتھ منایا جائے گا، اسکول، کالج، یونیورسٹیز،سرکاری دفاتر اور مدارس اسلامیہ میں پرجم کشائی کی جائیں گی اور مجاہدین آزادی کی قربانیوں، صعوبتوں اور ان کی زندگی سے متعلق باتیں بتائیں جائیں گی،کہ کس طرح انھوں نے اپنے وطن عزیز کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا،تب جا کر ہمارا یہ ملک انگریزوں کے چنگل سے آزاد ہوا اور ہم آزادی کے ساتھ کھلی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔
آزادی ہند کے بعد ہندوستان کو چلانے کے لیے ٢٦/نومبر سنہ ١٩٤٩ء میں ایک ایسا قانون بنایا گیا جس میں ہر مذاہب کے لوگوں کو یہ اختیار دیا گیا کہ ہر شخص اپنے اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارے اور چین و سکون سے رہے ۔ ٢٦ /جنوری سنہ ١٩٥٠ء کو یہ قانون نافذ کیا گیا، قانون کا نفاذ ہوتے ہی ہمارا ملک جمہوری ملک میں تبدیل ہوگیا۔
ہندوستان نے اپنے لیے جو دستور بنایا اس کی شروعات ہی ان جملوں سے ہوتی ہے "ہم ہندوستانی باشندے تجویز کرتے ہیں کہ "بھارت”ایک آزاد، سماج وادی،جمہوری ہندوستان کی حیثیت سے وجود میں لایا جائے، جس میں تمام شہریوں کے لیے سماجی، معاشی، سیاسی، ملی،انصاف، آزاد خیال، اظہار راے، آزاد عقیدہ و مذہب، عبادت کا اختیار، مواقع اور معیار کی برابری، انفرادی تشخص اور احترام کو یقینی بنایا جائے،اور ملک کی سالمیت اور یکجہتی کو قائم و دائم رکھا جائے گا”۔
قارئین! ایک نگاہ مذکورہ دستور ہند کی طرف ڈالیے اور ایک نظر موجودہ حالات کی جانب کہ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک ہندوستان میں جہاں ہندو، مسلم، سیکھ، عیسائی سب مل کر محبت سے رہتے تھے، ایک دوسرے کی تقریبات اور مذہبی تہواروں میں شامل ہو کر اپنے بھائی کے شانہ بشانہ کھڑے رہتے تھے اور گنگا جمنی تہذیب کی مثال پیش کرتے تھے، آج ان لوگوں کے قلوب و اذہان میں اتنا نفرت کا زہر ڈال دیا گیا ہے کہ آج یہی لوگ ایک دوسرے کے جانی دشمن بنے ہوئے ہیں، ایک دوسرے کو مارنے اور قتل کرنے پر تلے ہوئے ہیں،مسلموں کی دکانوں، گاڑیوں اور ہوٹلوں میں بیٹھنا گوارا نہیں کر رہے ہیں۔ بجرنگ دل، آر،ایس ایس،وشو ہندو پریشد اور دیگر ہندو تنظیم کے جڑے افراد ہندو مسلم کر کے ملک میں امن و امان کی فضا کو نفرت آلود کر رہے ہیں،اور قوم مسلم و دلت کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
آج مسلموں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا جا رہا ہے، مسلموں کو ہراساں کر کے انھیں زد و کوب کیا جارہا ہے، کبھی اقلیتی مسلم علاقوں اور دکانوں کو نذر آتش کیا جاتا ہے،کبھی طلاق ثلاثہ کے نام پر شریعت مصطفی کے ساتھ کھلواڑ کیا جاتا ہے، کبھی اذان پر سوال اٹھایا جاتا ہے،کبھی جاے نماز پر ہنومان چالیسہ پڑھا جاتا ہے تو کبھی گور دھن پوجا کی جاتی ہے، کبھی مدھیہ پردیش میں مسلموں کے مکان کو خاکستر کیا جاتا ہے تو کبھی الہ باد میں مسجد پر حملہ کیا جاتا ہے، کبھی مسلم عورتوں کے برقعے پر سوال اٹھایا جاتا ہے،تو کبھی طالبات کو حجاب پہنے پر کالج میں داخل ہونے سے روک دیا جاتا ہے جب کہ دستور ہند ہمیں یہ اجازت دیتا ہے ہم اپنے مذہب کے مطابق اپنی زندگی گزاریں،کبھی سی،اے،اے اور این، آر،سی جیسے متنازع بل لاکر مسلمانوں کو دوسرے درجہ کا شہری ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے،کبھی گئو کشی اور لو جہاد کے نام پر مسلموں کا بےجا خون بہایا جاتا ہے، تو کبھی مدارس اسلامیہ کو دہشت گرد کا اڈا بتایا جاتا ہے، جب کہ مدرسے میں قرآن و حدیث کا درس،حب الوطنی اور تحفظ ملک کے بارے میں بتایا جاتا ہے، آصف سلطان،شرجیل امام، شرجیل عثمانی اور صفورہ زرگر جیسے حق گو اور بے باک نوجوانوں کو جو موجودہ حکومت کی ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کر رہے تھے انھیں جیل کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے، ان کی عرضیاں خارج اور ضمانت رد کر دی جاتی ہیں،وہیں مسلموں کے خلاف زہر افشانی کرنے والے لوگوں کو حکومت تحفظ فراہم کرتی ہے اور انھیں حکومت میں اعلی عہدہ دے دیتی ہے۔
الغرض ان واقعات و حادثات کو دیکھ کر ہم یہ کیسے کہ سکتے ہیں کہ ہم جمہوری ملک میں رہ رہے ہیں؟کیا اس وقت مسلم غیر محفوظ نہیں ہیں؟کیا موجودہ حکومت قانون کی دھجیاں نہیں اڑا رہی ہیں؟کیا سنگھی حکومت قاتلین مسلم کی پشت پناہی نہیں کر رہی ہے؟ جس کی وجہ سے روز بروز ان کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں۔ افسوس کہ انگریز تو چلے گئے لیکن اب بھی ان کے نقش قدم پر چلنے والے لوگ موجود ہیں، گوڈسے تو مرگیا لیکن اب بھی اس کی پرستش کرنے والے بچے ہوئے ہیں جو مذہب کے نام پر لوگوں کو تقسیم کرنے میں مصروف ہیں۔اب جب ہم ٧٣/ واں یوم جمہوریہ منا رہے ہیں تو ہمیں یہ عہد لینا ہوگا کہ ملک میں عملی طور پر قانون کا نفاذ ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے