اشعاروغزلمنقبت

منقبت: ہو مجھے صدقہ عطا صوفی نظام الدین کا

نتیجۂ فکر: شمس الحق علیمی، مہراج گنج

جس نے بھی خطبہ سنا صوفی نظام الدین کا
باخدا وہ ہوگیا صوفی نظام الدین کا

جس گھڑی تم کو ستائے فکر عقبی دوستو
تم پڑھو شجرہ سدا صوفی نظام الدین کا

گھر میں میرے ہورہی ہے رحمتوں کی بارشیں
جب سے میں منگتا بنا صوفی نظام الدین کا

قلب میرا ہے پریشاں رنج و غم سے اے خدا
ہو مجھے صدقہ عطا صوفی نظام الدین کا

کر رہا ہوں میں ثنا صبح و مسا اب دہر میں
فیض ہو مجھ پر سدا صوفی نظام الدین کا

روز محشر رب اکبر کو دکھانے کے لئے
قلب پر ہو نقش پا صوفی نظام الدین کا

جب غلاموں کا سفینہ ڈوبتا آئے نظر
تب وسیلہ ہو عطا صوفی نظام الدین کا

مال و زر کی اب تمنا کیوں کرے وہ زیست میں
شمسی ہے ادنی گدا صوفی نظام الدین کا

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button