منقبت

منقبت: بھاگا کوفی حسینی تیور سے

محمد جیش خان نوری امجدی
مہراجگنج یوپی

کربلا میں یوں ابن حیدر سے
بھاگا کوفی حسینی تیور سے

شاہ بطحا سے لو لگا لینا
بڑھ کے پانا ہو گر مقدر سے

ان کی سیرت سے دین پھیلا ہے
تیر و تلوار اور نہ خنجر سے

ہو بسر زندگی مدینے میں
ہے دعا میری رب اکبر سے

بھاگتا ہے وہابی کوسوں دور
اعلی حضرت کے پیارے اختر سے

چاند سورج ستارے پاتے ہیں
روشنی بالیقیں ترے در سے

راہ مولی سے کیسے بھٹکیں گے
جن کو نسبت ہے ابن حیدر سے

رب ھبلی کہیں گے جب آقا
نوری گزریں گے پل کے اوپر سے

کیا ہی قسمت ہے ان کی اے نوری
جو بھی کھاتے ہیں شاہ کے در سے

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button