سیاست و حالات حاضرہ

یو۔پی۔ الیکشن: ایک قابل غور پہلو

تحریر : محمد ہاشم اعظمی مصباحی
نوادہ مبارکپور اعظم گڑھ یوپی

مکرمی!
آزاد بھارت میں مسلمانوں کے پاس بہت سارے مسلم سیاستدان موجود تھے اور ابھی بھی ہیں مولانا ابوالکلام آزاد سے لے کر غلام نبی آزاد تک بہار میں شہاب الدین سے لے کر عبدالباری صدیقی تک اور ادھر یوپی میں اعظم خان اور ڈاکٹر مسعود سے لیکر نسیم الدین صدیقی تک ان میں کچھ بڑے عہدوں پر بھی فائز رہے میڈیا نے بھی اپنے مفادات کے پیشِ نظر چند مسلم سیاستدانوں کو قائد کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی لیکن یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ قیادت کے معاملے میں ملی مفادات کے حوالے سے سب کے سب بہت کمزور ثابت ہوۓ ہے میڈیا نے اس اہم نکتے کو بھی کبھی نظر انداز نہیں کیا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے بہت متنوع گروہ ہیں اور کوئی بھی اکیلا مسلم رہنما ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی رہنمائی نہیں کر سکتا سچائی تو یہ ہے کہ کوئی بھی مسلم لیڈر ہندوستانی مسلمانوں کی رہنمائی کر ہی نہیں سکتا اس لئے کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں ایسا کبھی ہوا ہی نہیں ہے کہ مسلمانوں نے کسی مسلمان کو اپنا لیڈر تسلیم کیا ہو سماجوادی پارٹی سے راجیہ سبھا ممبر آف پارلیمنٹ چودھری منور سلیم نے دل کو لگنے والی بات ایک پارلیمنٹ میں بھی کہہ دیا تھا کہ ہم نے تو آزادی کے بعد بھی مہاتما گاندھی جیسے ہندو کو ہی اپنا بابائے قوم مانا تھا۔ اس کے بعد سے کسی نہ کسی ہندو لیڈر کے نیچے ہی ہم کام کرتے رہے ہیں پنڈت جواہر لال نہرو سے لیکر راہل گاندھی تک یوپی میں کانشی رام سے لیکر مایاوتی تک اور ملائم سنگھ سے لیکر اکھلیش یادو تک بشمول ذات پات کے کوئی نہ کوئی ہندو ہی ہمارا سیاسی لیڈر رہا ہے کبھی کسی ہندو نے کسی مسلمان کو نہ اپنا لیڈر بننے دیا نہ تسلیم کیا لگتاہے کہ ہندو برادری اب بھی کسی مسلمان کو اپنا لیڈر نہیں بننے دینا چاہتے اور یہ سب جانتے ہیں کہ بغیر ہندو ووٹوں کے کوئی مسلمان الیکشن نہیں جیت سکتا اس لئے موجودہ صورتحال میں اقلیت میں ہونے کے باوجود تنہا مسلم قیادت کا خواب سراب صحرا معلوم ہوتا ہے ویسے بھی "خواب تو خواب ہے خوابوں کی حقیقت کیا ہے”
عقلمنداں را اشارہ کافی است کے تحت یہ ایک اشاریہ تھا جو میں نے مذکورہ بالا سطور میں بیان کیا اب اگر آپ کو خود اپنے وجود کی اور اپنی نسلوں کی ذرہ برابر بھی پرواہ ہے تو بہت ہی سوچ سمجھ کر ووٹ کیجئے گا۔خوابوں کی دنیا سے باہر آئیے زمینی حقائق کو تسلیم کیجئے جذباتی تقریروں اور نعروں کے چکر میں الجھ کر اپنا ووٹ برباد مت کیجئے گا مکمّل ہوش و حواس سے کام لیں دانشمندانہ اقدام کریں خاموشی کے ساتھ اتحاد کا مظاہرہ کریں ابھی بھی وقت ہے بالخصوص یوپی کے مسلمانوں کو بنگال کے مسلمانوں سے سبق لینے کی اشد ضرورت ہے جو نہ تو جوش میں آئے اور نہ ہی ہوش کھوئے بلکہ پوری دانشمندی کے ساتھ اسی پارٹی کے ساتھ رہے جو جیتنے کے لائق تھی یوپی کے مسلمانوں کو بھی ایسے ہی حکمت عملی تیار کرنی ہوگی۔ لیکن پہلے اس پارٹی کو جسے ہم سپورٹ کریں اپنے مسائل حل کرنے کے لیے پابند کریں اس کے لیے سوچنے اور لائحہ عمل بنانے کا ابھی موقع ہے بعد میں یہ وقت بھی ہاتھ سے نکل جائے گا۔
hashimazmi78692@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے