دارالعلوم فیصان اشرف باسنی: تاسیس سے لےکر تعمیر تک

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

صعوبت بھری داستان بزبان حضور شیخ الجامعہ صاحب قبلہ

از قلم محمد حسین اشفاقی فیضانی دورۂ حدیث
دارالعلوم فیصان اشرف باسنی ناگور

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جو سعادت مند افراد اللہ پر کامل توکل اور محکم یقین رکھتے ہیں وہ ہر مشکل میں اللہ کی رحمت کو اپنے شامل حال پاتے ہیں اور ان کی ہر حاجت بفضلہ تعالی ان کے گمان سے بھی اچھے طریقے پر پوری ہوتی ہے۔

آج مؤرخہ ١٧جمادی الأولی کی صبح مصلح قوم وملت بانی ومہتمم دارالعلوم فیضان اشرف حضرت مولانا حافظ محمد سعید صاحب قبلہ اطال اللہ عمرہ ہمیں درس بخاری دے رہے تھے کہ دوران درس خلوص و استقلال کا ذکر ہوا تو آپ نے ہمیں نصیحت کرتے ہوئے دارالعلوم فیصان اشرف اور جامعۃ الزہراء کے وجود میں آنے کی روداد سنائی
فرمایا کہ دور طالب علمی سے لے کر آج تک زندگی کے ہر مشکل موڑ کا مقابلہ کیا, پاؤں کو تھکا دینے والے راستوں پر سفر کیا ۔ اپنے اور بیگانے سب کی مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔ لیکن فضل مولی سے زمانہ کی تند و تیز ہوا کے جڑ سمیت اکھاڑ پھینکنے والے تھپیڑے آپ کے پایۂ استقلال اور پرجوش عزائم کو ذرا بھر جنبش اور لڑ کھڑاہٹ نہ دے سکے بلکہ ہر وار اور مخالفت کی ہر آواز کے جواب میں ایک نٔے جوش اور تازہ ولولے کے ساتھ ہی واپسی کی ۔ مزید بتایا کہ جب آپ نے درس و تدریس کا آغاز کیا تو اس وقت مدرسہ بنام "غوثیہ کلا جماعت خانہ” باسنی کے ایک محلہ کا جماعت خانہ تھا جس میں اہل محلہ اپنے شادی بیاہ کی محفلیں منعقد کیا کرتے تھے اور یہ رسم تا حال جاری ہے۔ اس جماعت خانے سے دارالعلوم تک کا سفر کتنا مشکل اور صبر آزما تھا یہ تو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اس راہ کے مسافر رہے ہوں ۔ آپ فرماتے ہیں کہ اس دن سے لے کر آج تک کبھی بھی اللہ کے فضل و کرم سے واپس پلٹ کر نہیں دیکھا ۔ اور آج بحمد اللہ 82000 ہزار اسکیور فٹ( ساڑھے چار بیگہ) کو محیط ایک عالی شان قلعہ فیضان اشرف کی صورت میں حضور کی امت کی فلاح و بہبود کے خاطر تیار ہوگیا اور آج کے اس پر فتن دور میں جب حضور کی امت کی شہزادیوں کو نئی تہذیب اور اعلی تعلیم کے نام پر نسوانیت سے نکال کر عریانیت و بے راہ روی کے دلدل میں دھکیلا جا رہا تھا تو آپ نے اس معاملہ کی حساسیت کو محسوس کرتے ہوۓ راجستھان میں سب سے پہلے "جامعۃ الزہراء” کے نام سے(لڑکیوں کے لئے) باسنی میں ایک ایسی درس گاہ کا قیام فرمایا کہ جس میں مسلم لڑکیوں کے لیے قرآن وسنت کی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کو بھی شامل نصاب کیا گیا۔ یہ دونوں فلک شگاف عمارتیں دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی اور دل کیف سے مست ہونے لگتا ہے ۔ یہ سب لکھنے اور پڑھنے میں پر لطف اور آسان لگتا ہے لیکن اس میں کھپی ہوئی دن رات کی تگ و دو اور محنت شاقہ کو دیکھتے ہیں تو ایک خوشگوار حیرت ہوتی ہے کہ کیسے ایک اکیلا فرد یہ سب کچھ کر سکتا ہے ؟ اور وہ بھی ایک ایسا شخص جس کے پاس ذاتی طور پر نہ کوئی مالی قوت ہو اور نہ ہی کوئی پیری مریدی کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہو,نہ ہی یہ سب کچھ وراثت میں ملا ہو..مگر بات در اصل یہ ہے کہ یہ سب فضل الہی کی خوشبو ہے جس سے آج ارض راجستھان مہک مہک رہی ہے –
آپ نے اپنے طالب علمی کے دور کا ذکر کرتے ہوۓ فرمایا کہ اس دور میں ہمہ وقت بجلی نہیں رہتی تھی بلکہ جو لوگ رات میں پڑھنا چاہتے تھے ان کو چراغ یا لالٹین اپنے ساتھ رکھنا پڑتی تھی۔ اس دور کے جتنے بھی لوگ ہیں سب بخوبی جانتے ہیں کہ اس دور میں پڑھنا کتنا مشکل اور دشوار تھا ۔ بلکہ آپ تو اپنے بارے میں ایک خاص جملہ ارشاد فرمایا کرتے ہیں جس سے ہماری پوری جماعت محظوظ ہوتی ہے
وہ یہ کہ جب بھی آپ اپنی غربت کا ذکر کرتے ہیں تو فرماتے ہیں کہ بابو! ہم صرف غریب نہیں تھے بلکہ مہا غریب تھے۔ یہ سب مشکلات ہونے کے باوجود بھی آپ فرماتے ہیں کہ الحمد للہ میں نے کبھی بھی معاش کی فکر نہیں کی بلکہ ہمیشہ اس مسبب الاسباب پر توکل کیا تو بڑے سے بڑا خواب شرمندۂ تعبیر ہوتا چلا گیا، آپ فرماتے ہیں کہ فیضان اشرف کی نئی بلڈنگ کی تعمیر کے سلسلے میں کمیٹی کی طرف سے جو تعاون ہونا چاہیے تھا وہ نا کے برابر تھا یہ بات نہایت ہی حیران کر دینے والی ہے کہ ایک چھوٹا سا گھر بنانے میں بعض لوگوں کی عمریں بیت جاتی ہیں لیکن ان کی وہ حسرت پوری نہیں ہوتی مگر آپ کی اللہ تعالی نے ایسی دستگیری فرمائی کہ جب جامعة الزہراء کی تعمیر کا ارادہ کیا تو فرماتے ہیں کہ اس وقت تعمیر کے لیے تعمیری فنڈ میں ایک نیا پیسہ بھی پاس نہیں تھا مگر جب کام شروع ہوا تو اللہ تعالى نے ایسی غیبی مدد فرمائی کہ ایک کروڑ دس لاکھ میں تین منزلہ عمارت جو 28 کمروں پر مشتمل ہےوہ اور سامنے کے برآمدے اور ایک بڑا طہارت خانہ تیار ہو گیا اور مزید تعجب کی بات یہ ہے کہ اس درمیان ایک بھی دن آپ کی طرف سے تعمیری کام کی چھٹی نہیں رہی ہاں مگر جب قفل بندی( lock dow ) ہوئی تو اس وقت مجبورا کام روکنا پڑا۔ کہنے سننے میں یہ خواب اور افسانہ لگتا ہے مگر ایک ایک لفظ حقیقت ہے اس لئے کہ جو لوگ اللہ کی ذات پر کامل یقین اور توکل رکھتے ہیں وہ ایسے ہی عقلوں کو حیران کر دینے والے کارنامے سر انجام دیتے ہیں۔ آپ کی یہ کوششیں اور کاوشیں دعوت فکر ہیں ان لوگوں کے لیے جن کے پاس اسباب و ذرائع بھی موجود ہیں مگر وہ لوگ حالات کا بہانہ بناکر خود کو فارغ سمجھ بیٹھے ہیں اور جو کام بآسانی کر سکتے ہیں نہیں کر رہے ہیں۔

ان کی نظر ایک شعر ہے کہ:
ع
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے


یہ ساری باتیں جو آپ نے ہمیں بتائیں اس سے سمجھانا اور نصیحت کرنا مقصود تھا کہ اس سال جب تم یہاں سے فارغ ہو کر نکلو تو یہ ساری باتیں ذہن میں رکھنا تاکہ کسی بھی مشکل وقت میں تمہارے پاؤں ڈگمگائیں نہیں اور ہمیشہ خلوص کے ساتھ کام کرتے رہو اور آپ کا یہ جملہ تو ہر فیضانی کے کانوں میں رس گھولتا ہے کہ کبھی بھی 99 کے چکر میں مت پڑنا بلکہ ہر حال میں کام ہی کو مدنظر رکھنا۔ کام، کام اور صرف کام ۔ کہنے کو تو یہ ایک محاورہ ہے لیکن اس کے اندر اتنی وسعت پنہاں ہے کہ اگر کوئی اس پر عمل کر لے تو ساری زندگی سکون اور خودداری سے گزارے اور کبھی کسی کے سامنے اپنی ذات کے لیے دست سوال دراز کرنے کی نوبت نہ آۓ ان شا اللہ…
نیز دوران درس آخری نصیحت جو آپ نے ہمیں فرمائی وہ یہ کہ زندگی میں کہیں بھی رہو کیسے بھی حالات میں رہو مگر اپنے اساتذہ،پیرومرشد اور اپنے مادر علمی سے جڑے رہنا کیونکہ پھل انہیں ٹہنیوں کو لگتے ہیں جو اپنے جڑ دار درخت سے جڑی رہتی ہیں اور جب ٹہنی درخت سے کٹ جاتی ہے تو اس کی قیمت خس و خاشاک سے بھی کم تر اور حقیر ہو جاتی ہے۔ تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جو قومیں اپنے محسن کو بھول جاتی ہیں وہ خود ایک دن بھلا دی جاتی ہیں ۔مرید کے بارے میں آپ ہمیشہ فرماتے ہیں کہ مرید بنو تو امیر خسرو کی طرح بنو یعنی پھر کسی دوسرے پیر کی طرف تمہاری توجہ نہیں جانی چاہیے بلکہ ہمیشہ اپنے ہی پیر کی طرف توجہ رہے۔ یک در گیر محکم گیر پر پختہ عمل پیرا رہو، جب مرید کا اعتقاد اپنے پیر سے اتنا پختہ ہوگا تب جا کر مرید کو پیر کا صحیح فیض ملے گا ۔ اور مادر علمی سے تعلق کا رشتہ کیسا ہونا چاہیے یہ ایک شاعر نے بہت ہی دلکش اور اچھوتے انداز میں بیان کیا ہے کہتا ہے کہ

اپنے مادر علمی سے رابطہ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ


اور میں ان تمام فیضانیوں سے یہ التماس کرتا ہوں جنہوں نے بعد فراغت اپنے مادر علمی فیضان اشرف باسنی سے ظاہری تعلق منقطع کر دیا ہے یعنی بعد فراغت ان کی طرف سے نہ سلام ہے اور نہ کلام۔ ایسا لگتا ہے کہ ادارے کو نسیا منسیا کیے ہوئے ہیں جب کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے ۔ آپ ہر حال میں اپنے اساتذہ و مادرے علمی سے تعلق ضرور رکھیں، اور گھر واپسی کے فارمولہ پر عمل کرتے ہوئے آج ہی اپنے مادر علمی سے رابطہ استوار کریں۔ ان شاء اللہ خوب پھلے اور پھولیں گے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

کپڑے ہی سب کچھ نہیں ہوتے !!

ازقلم: غلام مصطفےٰ نعیمیروشن مستقبل دہلی یادش بخیر!زمانہ طالب علمی تھا، ہمارے عزیز دوست مولانا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔