نظم: نداے انساں

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)
از قلم: شیبا کوثر، آرہ (بہار) انڈیا

میں کوئی ساگر نہیں میں کوئی دریا نہیں
میرا کام تو بس یونہی بہنا نہیں
میں وہ ہوں جو دریا کے رخ موڑ دوں
میں وہ ہوں جو راہ کے سنگ پھوڑ دوں
جو چاہوں تو تاریخ پر نقش چھوڑ دوں
ریگزا روں سے آبِ حیات نچوڑ دوں
چاہوں تو برفیلی وادی کو آباد کر دوں
خٙلاؤں میں بھی بستی آباد کر دوں
مگر شرط ہے کہ خود کو بدلنا پڑے گا
علم کی وادیوں سے ہم کو گزرنا پڑے گا
سخت جاں ہو کے صبر سے چلنا پڑے گا
خواہشِ نفس کے جال سے نکلنا پڑےگا
نہیں تو بس یونہی گزر جائے گی زندگی
نا بندہ رہیں گے ہم نہ ہوگی بندگی

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہما اکبر آفرین

محترمہ ہما اکبر آفرین صاحبہ گورکھ پور(یو۔پی۔) کے قدیم ترین قصبہ گولا بازار سے تعلق رکھنے والی بہترین قلم کار ہیں۔ فی الحال موصوفہ ہماری آواز کے گوشہ خواتین و اطفال میں ایڈیٹر ہیں۔ ہماری آواز

Check Also

ماہ نور قتل کی روح فرسا داستان

تحریر: صابر رضا محب القادری پران پور اعظم نگر کٹیھار عصمت دری گینگ ریپ اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔