سیاست و حالات حاضرہ

برید مشرق عوام اہلسنت کے لیے دستور قیادت ہے

محمد شہادت حسین فیضی
9431538584

جب ہم کسی بھی شخصیت کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان میں عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ عمر کے جس پڑاؤ میں ہوتے ہیں، ان کی شخصیت میں وہی تناسب جھلکتا ہے، مثلاً اگر وہ بیس سالہ نوجوان ہے تو فکری گہرائی کم اور شباب و ولولہ زیادہ نظر آتا ہے، اسی طرح اگر وہ پچاس سال کا مچیور انسان ہے تو اس کے اندر گہرائی، گیرائی اور سنجیدگی زیادہ اور جذبۂ کرو فر کم نظر آتا ہے، اسی طرح عموماً شخصیتیں اپنے ارد گرد کے ماحول کے اثرات سے متأثر اور اپنے عمل و منصب کے دائرے میں مقید نظر آتی ہیں، مثلاً اگر وہ ١٨٥٧ کے غدر کی شخصیت ہے تو ان میں غدر کے حالات و کوائف کے اثرات صاف نظر آئیں گے،ان کی تحریر و تقریر بھی اسی کے گرد گرد گھومتی نظر آئے گی، اگر وہ مسلمانوں کے سنہرے دور کی شخصیت ہے تو اس میں غالب قوم کی صفتیں نظر آئیں گی، فکرو خیال میں نصرت و فتح کا رنگ غالب ہوگا۔ اسی طرح اگر وہ مدرس ہے تو تدریسی جھلک،سیاست دان ہے تو سیاسی اثر، امام و خطیب ہے تو امامت و خطابت کا اسلوب، کاتب و شاعر ہے تو کتابت و شاعری کا اسلوب اور اگر مفکر ہے تو فکر و فلسفہ کا عنصر اس کی شخصیت میں نمایاں نظر آتا ہے۔جب وہ طفل ہے تو طفل نظر آتا ہے،جب وہ جوان ہے تو جوانی نظر آتی ہے اور جب وہ بزرگ ہے تو بزرگی نظر آتی ہے۔ بالعموم کسی بھی شخصیت میں فطری اور عمومی طور پر یہی باتیں ملتی۔ لیکن بہت ہی کم شخصیتیں ایسی ہوئی ہیں جن میں، کئی متضاد صفتیں حسن تطبیق کے ساتھ یکجا دکھائی دیتی ہیں اور وہی چیزیں اس ذات کو غیر معمولی اور عبقری بناتی ہیں۔ مثلاً مزاج شاعری اور تحقیق متضاد صفات ہیں، کیوں کہ ایک فکری پرواز چاہتی ہے تو دوسری فکری گہرائی۔علامہ ارشد القادری بہت خاص میں سے تھے، آپ عمر میں ابھی بچے ہیں لیکن کام اور بات بڑوں کی کرتے ہیں،آپ جوان ہیں اور عمل بزرگوں اور میچور لوگوں کا ہے ،آپ بزرگ ہیں اور افکار و نظریات میں جوانوں کا حوصلہ ہے،آپ خالص دینی مزاج رکھتے ہیں لیکن حسن کلام سے لالہ زار ہیں،آپ مناظرہ کرتے ہیں لیکن جوہر بیان سے زیرو زبر کرتے ہیں، واہ رے شباب و سنجیدگی کا حسن امتزاج، واہ رے نظم و نثر کے حسین سنگم۔واہ رے مختلف مراحل زندگی اور اس کے گونا گوں نشیب و فراز کو ایک ساتھ جینے والے اور واہ رے عمر کے آخری پڑاؤ میں بھی پچیس سالہ کڑیل سپاہی کی طرح ملت اسلامیہ کے لیے لڑتے ہوئے واصل حق ہونے والے مجاہد اسلام، مجاہد انقلاب،معمار قوم و ملت اور قائد اہلسنت، تیری عظمتوں کو سلام۔
جب برید مشرق کو پڑھتا ہوں تو یہ سب کچھ سامنے آجاتا ہے۔

برید مشرق ایک ضرورت کی تکمیل ہے
میں مبارک باد دیتا ہوں حضرت مولانا ڈاکٹر خورشتر نورانی صاحب قبلہ مد ظلّہ العالی کو کہ انھوں نے بر صغیر ہندو پاک کے مجاہد اعظم، محرک اعظم، مفکراعظم، قائد اعظم، فقیہ اعظم، اور اہلسنت کے منتظم اعظم، ادیب اعظم،رئیس القلم اور بانئ مساجد و مدارس کثیر ہ،سیدی،مرشدی و آقائی حضرت علامہ ارشد القادری نور اللہ مرقدہ کو برید مشرق کی شکل میں پھر سے ہماری قیادت کے لیے لاکر کھڑا کردیا ہے۔ میں یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ جن لوگوں نے ان کے ساتھ کام کیا ہے، یا ان کی سماجی،ملی اور دعوتی کاموں کے سلسلے میں ان کی صحبتیں پائی ہیں اور وہ ابھی موجود ہیں،تو وہ یقینا برید مشرق کو پڑھ اپنے مشن میں نئی توانائی محسوس کریں گے، اور اس کی نشاطِ ثانیہ کے لیے آمادہ ہو جائیں گے۔ إن شاء الله عز وجل، ساتھ ہی نوجوان کا وہ طبقہ جن کی عمر تیس سال سے کم ہے یا ابھی بچے ہیں اور مستقبل میں قائد بننے والے ہیں،ایسے تمام لوگوں کے لیے جہد مسلسل ، فہم و فراست اور حلم و تدبر کے ساتھ قوم و ملت کی خدمت کس طرح کی جاسکتی ہے علامہ قادری رحمہ اللہ برید مشرق کی شکل میں رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔

ہمارے محسن اعظم بھی ہیں
مجھے حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ سے شرف بیعت حاصل ہے،لیکن میری ساری تعلیم وتربیت خصوصی طور پر قائد اہلسنت علیہ الرحمہ کی سرپرستی میں ہوئی ہے۔ ان کے بے شمار احسانات ہیں مجھ پر ،جن میں‌حضرت کے صاحبزادگان بھی شامل ہیں، بالخصوص حضرت مولانا غلام ربانی صاحب قبلہ مد ظلّہ العالی جو ہم سب کے بڑے بھائی ہیں نا چیز کے ساتھ ہمیشہ انھوں نے بڑے بھائی کا سا سلوک کیا ہے۔ اور الحمداللہ ثم الحمداللہ ڈاکٹر غلام ذرقانی صاحب قبلہ مد ظلّہ العالی اور ڈاکٹر خوشتر نورانی صاحب قبلہ مد ظلّہ العالی علم و ادب کے دنیا میں رئیس القلم کے سچےجانشین ہیں ۔ میں دعا کرتا ہوں اور ہم سب کی دعا اور خواہش ہے اور وقت کی ضرورت بھی ہے کہ تنظیم و تحریک میں بھی جانشین بن جائیں. آمین!

اعتراف
یہ حقیقت دو اور دو چار کی طرح واضح ہے کہ 1952ء سے 2002ء تک کی دورانیے میں انھوں نے دین و ملت کے لیے جو کارہائے نمایاں انجام دیا ہے اس کی نظیر ہندوپاک میں نہیں ملتی اور عالمی پیمانے پر اگر دیکھا جائے تو ورلڈ اسلامک مشن اور دعوت اسلامی وغیرہ جیسی تنظیموں کی خشت اول انھوں نے ہی رکھی تھی۔ اس اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو صرف ہند و پاک ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں جہاں بھی اور جیسی بھی اہل سنت کی بڑی تنظیمیں کام کر رہی ہیں یا بڑے ادارے قائم ہیں ان سب کے بڑے محرکین میں سے ایک قائد اہلسنت رحمۃ اللہ تعالی علیہ ہیں۔ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہوں جسے۔

برید مشرق کی تین خاص باتیں
1- برید مشرق میں 239 خطوط کے نقول ہیں ان میں مجھ جیسے چھوٹوں کا تذکرہ ہے، تو شاہانِ زمانہ کے نام بھی خطوط ہیں، انھوں نے عرب ممالک کے شاہوں کے ساتھ یورپ ،امریکہ اور افریقہ کے صاحبانِ اقتدار سے بھی خطوط کے ذریعے تبلیغ دین اور سنت کی خاطر راہ و رسم پیدا کیے۔ خواہ ان کا مذہب و مسلک کچھ بھی ہو۔ مثلاً انھوں نے برید مشرق میں مذکورہ پہلا خط آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو لکھا ہے جس میں انھوں نے فیض العلوم کی درسگاہ کی بلڈنگ کا سنگ بنیاد رکھنے کی دعوت دی ہے۔(ص:٤٨)
پھر 6/ اکتوبر 1977ء کو اندرا گاندھی کی گرفتاری کے احتجاج میں جلسہ کیا اور اس کی اطلاع اندرا گاندھی کو دی۔(ص:١٨٠) واضح رہے کہ اس کے بعد اندراگاندی فیض العلوم تشریف لائیں۔
1984ء میں پھر بندیشوری دوبے اور راجو گاندھی کو فیض العلوم آکر دینی اور عصری تعلیم و تربیت کو معائنہ کرنے کی دعوت دی۔(ص: 252)گویا اداروں اور تنظیموں کےاستحکام و مفاد کے لیے ملک اور بیرون ملک کی صاحبان اقتدار سے راہ و رسم رکھنی چاہیے۔ علامہ قادری رحمۃ اللہ تعالی کے اس نظریے کی ضرورت آج بھی ہے اور کل بھی تھی۔
2- موجودہ دور میں اگر دیکھا جائے تو کوئی بھی شخص جو اپنے گھر سے باہر نکلتا ہے وہ سی سی کیمرہ کی زد میں ہوتا ہے اب اگر ویڈیو گرافی حرام ہے تو حرام کاری سے کون بچا ہوا ہے ؟ اسی موضوع پر اشرفی و رضوی تنازعات شروع ہوے اور اہلسنت دو خیموں میں تقسیم ہوگیا۔ اس تقسیم کو ختم کرنے کے لیے قائد اہلسنت رحمۃ اللہ تعالی نے بے انتہا قربانیاں دیں اور کوششیں کیں، لیکن کچھ لوگوں کی کج فہمی، کم علمی اور شدت پسندی سد راہ بن گئی اور نتیجتاً غیر محسوس طور پر مدارس اور خانقاہوں میں دوریاں بڑھتی جارہی ہیں۔
3- بطورمثال یہ سمجھیں کہ جمعیت علمائے ہند اورمسلم مجلس مشاورت جو کہ مذہبی اور سیاسی تنظیم بھی ہے اور جس کی شاخیں پورے ملک میں ہیں، ان کے اراکین نے ملکی حکومت کے ساتھ بیرونی ممالک سے بھی رابطہ قائم کر کے مالی استحکام کی کوشش کی، نتیجتاً ان تنظیموں کا شمار ملکی سطح پر کثیر المقاصد مضبوط اور مستحکم ارگنائزیشن(organisation) میں ہوتا ہے، یہ تنظیمیں ان لوگوں کی ہے جس کی تعداد بیس فیصدی ہے، ہم اسی اسی فیصدی والوں میں علامہ قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہ ہی وہ پہلے قائد اہلسنت ہیں جنھوں نے اپنے اکابر کی سرپرستی میں آل انڈیا متحدہ محاذ قائم کیا۔ (ص:56 -حاشیہ:2) اس کے لیے انھوں نے ماہرہ، بریلی، کچھوچھہ ، دہلی، پٹنہ، گجرات اور دکن کےمشاہر مشایخ کی بارگاہ میں حاضری دی۔حضرت علامہ مشتاق احمد نظامی رحمۃ اللہ علیہ اور قائد اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ اس کے روح رواں تھے۔ ان بزرگوں نے کافی محنت کی اور ملکی پیمانے پر اسے پھیلانے کی کوشش بھی کی، لیکن کچھ اکابر کی عدم توجہی سے ایسا نہ ہوسکا اور احتجاجاً دونوں بزرگ اپنے اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے۔(ص:63) عوام اہلسنت اسی فیصد ہیں پھر بھی علماء اہلسنت حاشیے پر کیوں ہیں ؟ اور کیوں ہماری تعداد گھٹ رہی ہے ؟
برید مشرق 664 صفحات پر مشتمل علم وعمل کا خزانہ ہے،محقق عصر ڈاکٹر خورشتر نورانی نے جس کے جمع و تدوین کا کام کیا ہے۔ اسے ہندوستان میں ادارہ فکر اسلامی دہلی نے شائع کیا ہے اور خواجہ بک ڈی پو اس کا تقسیم کار ہے ۔ ہر سنی عالم دین، ہر ادارہ اور ہر تنظیم کے اراکین کے پاس یہ کتاب ہونی چاہیے۔ ان شاءاللہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ملی شعوربھی پیدا ہوگا اور دین و سنت کی خدمت کا جذبہ بھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے