مضامین و مقالات

کچھ ماضی کے جھروکوں سے (قسط نمبر :3)

از:- نازش المدنی مرادآبادی
مقیم حال: ہبلی کرناٹک ہند


شہر بریلی! عشق ومحبت کا خوبصورت عنوان ہے…جہاں علم وادب اور فکر وفن کا حسین امتزاج ہے…نستوں کے گلشن آباد ہیں…ہر سو علمی وفکری باغات خوشبودار ہیں…
یقیناً وہ لمحات یادگار و خوشگوار تھے… جس وقت بندہ ناچیز علمی پیاس بجھانے شہرِ رضا بریلی شریف کے مرکزی ادارہ جامعہ نوریہ رضویہ (باقر گنج،بریلی شریف) میں داخل ہوا… بلاشہ وہاں کی صبحیں درخشاں… اور شامیں پر ضیاء تھیں…ہواؤں سے علمی و روحانی تازگی حاصل ہوتی…دلوں کو تابندگی میسر تھی…چہرے فرحاں وشادماں تھے… اور کیوں نہ ہو کہ وہ دھرتی ہی فیض رساں تھی۔
چونکہ ابتدا ہی سے مطالعہ کا ذوق وشوق فقیر کی طبیعت میں شامل تھا… اس واسطہ یہ عادت وہاں بھی رہی… اور کارِ عظیم کے لئے فقیر ہر روز بعد نماز عصر استادِ گرامی حضرت علامہ حنیف خاں رضوی اطال اللہ بقاہ کی اکیڈمی جایا کرتا… اور خوب علمی شہ پارے چنتا…اسی درمیان میں فقیر نے ایک رسالہ بنام "اثبات معمولاتِ اہل سنت” بھی تالیف کیا…جس پر فقیر کے کرم فرما مبلغ اسلام حضرت علامہ عبد المبین نعمانی قادری دام ظلہ اور استاذ العلماء حضرت علامہ عبد السلام رضوی مہوا کھیڑوی اطال اللہ عمرہ نے تقریظ وتقدیم رقم فرما کر شادکام فرمایا۔۔
جمعرات کا دن کیا آتا… یوں محسوس ہوتا جیسے عید کا دن ہو… اور پورے ہفتہ جمعرات کا شدت سے انتظار رہتا…وہ اس لئے کہ جمعرات کو فقیر کا معمول تھا… کہ بلا ناغہ اولیا وصوفیاے بریلی کے مزارات بالخصوص دلوں کی جان ،امام عالیشان الشاہ امام رضا خان محدث بریلوی قدس سرہ کے دربارِ گوہر بار میں حاضری دیتا…. اور امام کی بارگاہ میں حاضری میرے لئے ایک نعمت عظمیٰ سے کم نہ تھی…کبھی فخر بریلی حضرت شاہ نیاز بے نیاز چشتی قدس سرہ کے دربار میں حاضری کا شرف حاصل ہوتا… تو کبھی قطب بریلی حضرت دانا شاہ ولی قدس سرہ کے دربار میں شرف یابی…کبھی خانقاہ شرافتیہ میں حاضری… تو کبھی سلسلہ قدیریہ کے بزرگوں کی بارگاہ میں نیازمندی… تو کبھی سٹی قبرستان کےقبہ رضویہ میں آرام فرما مشائخ رضویہ کے لئے فاتحہ خوانی… الغرض جمعرات کا دن ان بزرگانِ دین کی بارگاہوں میں گزرتا۔
جمعرات کو جب بارگاہِ رضا میں حاضری کے لئے جاتا… تو راستے میں فقیر نے باراہا مشاہدہ کیا کہ ایک روشن جبیں اور وجیہ چہرے والے بزرگ کو دکان پر بیٹھے پان تیار کر رہے ہیں….اور ساتھ ہی کچھ بچیاں گود میں لیے چھوٹے چھوٹے بچوں کو دم کرانے کھڑی ہوئیں ہیں…ایک دن فقیر نے چاہا کہ ملاقات کروں… اور اس پرکشش شخصیت کے بارے میں معلوم کروں… کہ یہ ہیں کون؟ بالآخر ایک دن ان بزرگ کی دکان پر گیا…نظریں جھکاے پان لگانے میں مصروف تھے…منہ میں رکھے پان کی سرخی نے مزید حسن دوبالا کررکھا تھا…. فقیر نے سلام کیا… نظر اٹھائی…سلام کا جواب دیا… پھر خیریت دریافت کی…جواباً الحمدلله علی کل حال کہا… پھر قفیر نے اس حسن وجمال اور مقبولیت کا سارا معمہ جاننا چاہا…تو فرمانے لگے…دراصل میں سرکار مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کا غلام اور مرید ہوں… فقیر نے حضرت کی صحبتیں اٹھائی ہیں…چہرے کا دیدار کیا ہے… روحانی جلوے دیکھے ہیں…ہم نے حضور مفتی اعظم ہند کو علماء کی بزم میں دیکھا…علماء کا قدردان پایا… چھوٹوں پر انتہائی شفیق پایا… کہ ہر بندہ یہی کہتا کہ سرکار مجھ سے زیادہ محبت کرتے ہیں…ان کا اخلاق بلند تھا…کردار ستھرا تھا… زباں پاکیزہ اور چہرہ روشن تھا… ایسا کہ دیکھو تو خدا یاد آجاے…جو ان سے بیعت ہو جاتا… قسمت پر پوری زندگی نازاں رہتا… فرماتے ہیں :فقیر نماز عصر کے بعد پان لے کر حاضر ہوتا…میرے سرکار بیٹھک میں بیٹھے ہوتے…علماء وعوام مجمع لگا ہوتا…زائرین زیارت کے لئے آے ہوتے….فقیر سلام و مصافحہ کرتا… پھر جیب سے پان نکال کر پیش کرتا… مسکراتے ہوے قبول فرماتے… اور منہ میں دبا لیتے… پھر استغراقی کیفیت میں بیٹھے رہتے… کوئی پریشان حال حاضر ہوتا… اس کے دکھ کا مداوا کرتے… اور تعویذ لکھ کر عطا فرماتے…اور نماز روزے کی تلقین کرتے۔
ان بزرگ کی یہ رودادِ زندگی سن کر مجھے بڑا لطف آیا پھر کیا تھا…فقیر ان کا گرویدہ ہوگیا….جب بھی ادھر سے گزر ہوتا…ان بزرگ سے ملاقات ضرور بالضرور کرتا… اور تازہ تازہ پان بھی کھاتا… اور سرکار مفتی اعظم ہند سے واسطہ کچھ واقعات ضرور سنتا…. اور لطف اندوز ہوتا… ارادہ تھا کہ حضرت سے سنی ہوئی تمام روایات کو کتابی شکل دوں…مگر واے محرومی! سستی اور کاہلی… سال گرتا گیا… اور یہ کارِ اہم یونہی گردش ایام کے نذر ہو گیا…لوک ڈاؤن کے بعد ایک دوست شہرِ محبت بریلی شریف کی جانب عازم سفر تھا… میں نے ان سے گزارش کی کہ فلاں جگہ ایک نورانی چہرے والے بزرگ پان کی دکان پر بیٹھے ہوں گے…ان کو میرا سلام کہنا… اور پان ضرور لانا مگر افسوس… دوست نے پہنچ کر خبر دی کہ وہ اب اس دنیا میں نہ رہے…انتقال کر چکے ہیں…ان کی دکان پر اب ان کے صاحبزادے بیٹھتے ہیں… اس اندوہ ناک خبر نے مجھے بے چین کر دیا…اور ماضی میں ان بزرگ سے وابستہ تمام یادیں ذہن ودماغ گردش کرنے لگیں…خیر…لِلّٰہِ مَا اَخَذَ وَلَہٗ مَا اَعْطیٰ وَکُلُّ شَیْ ٍٔ عِنْدَہٗ بِاَجَلٍ مُّسَمًّی

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

جاری۔۔۔۔۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button