نظم

زمیں کی گود سے اٹھ اور آسماں بن جا

محمد ادیب رضا بدایونی

حبیبِ خالقِ اکبر کا مدح خواں بن جا
زمیں کی گود سے اٹھ اور آسماں بن جا

زمانے بھر میں مہک تیری پھیل جاۓگی
تو شہرِ پاکِ مدینہ کا‌ گلستاں بن جا

نبی کی عزت و عظمت پہ جاں فدا کرکے
زمانہ یاد رکھے ایسی داستاں بن جا

عمل میں تیرے ہمیشہ ہو سیرتِ آقا
ہر اک غریب مسلماں کا‌ سائباں بن‌جا

نبی کے عشق میں یہ زندگی فنا کرکے
مصیبتوں کی فِکَر چھوڑ شادماں بن جا

صحابہ جتنے بھی ہیں سب سے ہے خدا راضی
تو چھوڑ سب وشتم ان کا قدرداں بن‌جا

ادیب مدح‌ سرائ نہ کر زمانے کی
بفیضِ حضرتِ حسان نعت خواں بن جا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے