انتقال و تعزیت

آہ! معمار ملت مولانا شبیہ القادری رضوی بہاری بھی سفر آخرت پر روانہ ہو گئے

سوگوار قلم: سید صابر حسین شاہ بخاری قادری


بسم اللہ الرحمن الرحیم، نحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ النبی الامین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین۔

لکل امۃ اجل، موت کا وقت ہر ایک کے لئے متعین ہے۔ ہر ایک نے سفر آخرت پر روانہ ہونا ہے، لیکن جب بھی دنیا کے کسی بھی خطے سے اہل علم و فضل کے سفر آخرت پر روانہ ہونے کی خبر وحشت اثر سامنے آتی ہے تو ان کی جدائی میں قلب و جگر پر بے اختیار ایک آری سی چل جاتی ہے ۔
27/جمادی الاخری 1443ھ/31جنوری 2022ء ، بروز پیر کو نائب قاضی شہر لکھنؤ مولانا انیس عالم سیوانی زید مجدہ کی جانب سے یہ دل خراش خبر سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہوئی نظر آئی کہ معمار قوم وملت خلیفۂ مفتی اعظم ہند، تلمیذ رشید ملک العلماء حضرت علامہ الحاج شبیہ القادری پٹنہ میں کئی روز سے زیر علاج تھے کہ آج دنیا فانی سے کوچ فرما گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
مولانا شبیہ القادری رحمۃ اللہ علیہ کا اصل نام”محمد مطلوب عالم قادری” ہے لیکن جب آپ نے شعروشاعری کے میدان میں قدم رکھا تو اپنا تخلص”شبیہ القادری” اپنایا، آپ کے تخلص کو اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ دنیائے سنیت و رضویت میں "شبیہ القادری” ہی آپ کی شناخت اور پہچان بن گئی اور اسی سے جانے پہچانے لگے۔
مولانا شبیہ القادری رحمۃ اللہ علیہ کے دادا جان شتاب علی مرحوم و مغفور پوکھریرا ضلع سیتا مڑھی کے ایک نہایت اچھے زمین دار تھے، تین سو ایکڑ اراضی آپ کی ملکیت تھی، آپ نہایت فیاض اور سختی تھے آپ نے اپنے علاقے کے قرب وجوار میں کئی مساجد تعمیر کروائیں اور عید گاہیں بنوائیں۔ مدرسہ نور الہدیٰ جو کہ دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف کا معاصر ہے کے لئے بھی چند ایکڑ زمین آپ ہی نے وقف فرمائی تھی۔
آپ کے والد گرامی محمد منظور عالم مرحوم و مغفور بھی اپنے والد گرامی کے نقش قدم پر گامزن رہے ۔ انہوں نے بھی اپنی فیاضی اور سخاوت سے شہرت حاصل کی۔
مولانا شبیہ القادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت باسعادت 17/جمادی الاولی 1357ھ/15/جولائی 1938ء کو ان کے ننہال موضع کٹائی ضلع مظفر پور بہار میں ہوئی۔
پانچ سال کی عمر میں آپ کے نانا جان منشی عبدالحمید مرحوم و مغفور کے مکان پر آپ کی بسم اللہ خوانی بڑی دھوم دھام سے ہوئی۔ فاتحہ کی شیرینی کے علاوہ سارے گاؤں کی نہایت پر تکلف دعوت کی گئی اس میں غرباء کی بھی کثرت تھی ۔
آپ کی ابتدائی تعلیم وتربیت نانا جان مرحوم و مغفور نے فرمائی ‌ ۔
مدرسہ نور الہدیٰ پوکھریرا میں مولانا حمید الرحمن رحمۃ اللہ علیہ سے قرآن کریم کی حفظ و ناظرہ کی تعلیم حاصل کی۔ مولانا محمد عثمان رحمۃ اللہ علیہ سے اردو فارسی کی تعلیم کی تکمیل کی۔
1378ھ/1959ء میں درس نظامی کی تکمیل کی اور سند فراغت حاصل کی۔ آپ کے مشاہیر اساتذہ کرام میں ملک العلماء علامہ محمد ظفر الدین بہاری، مولانا مطیع الرحمن، مولانا محمد احسان علی رضوی مظفر پوری، مولانا مقبول احمد صدیقی، مولانا مقبول احمد خان،مولانا فیض الرحمن اور مولانا عبدالحفیظ قادری رحمۃ اللہ علیہم کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔
بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ سے آپ نے مولوی، عالم اور فاضل کے امتحانات پاس کئے۔
درس نظامی کی تکمیل کے بعد بہار یونیورسٹی مظفر پور سے میٹرک سے ایم اے فارسی کے امتحانات پاس کیے۔ اور یہاں ہی سے حضرت سیدنا مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ کے حیات وخدمات کے حوالے سے پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا۔
2/رجب المرجب 1379ھ/یکم جنوری 1960ءتا 1382ھ/1962ء مدرسہ نعیمیہ چھپرہ میں تدریسی خدمات سر انجام دیں۔
1382ھ/1962ءتا 1384ھ/1964ء جامع العلوم جلال پور سیوان میں صدر مدرس کی حیثیت سے تدریسی فرائض سرانجام دیئے۔
رمضان المبارک 1384ھ/جنوری 1965ء سے دم آخریں تک غوث الورٰی عربی کالج علی گنج سیوان میں پرنسپل اور شیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہے۔
1370ھ/1951ء میں آپ جب بریلی شریف پڑھنے کے لئے حاضر ہوئے تو وہیں حضور مفتی اعظم ہند علامہ محمد مصطفیٰ رضا خان قادری برکاتی نوری رحمۃ اللہ علیہ کی قیام گاہ پر حاضر ہو کر سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ میں بیعت ہوگئے۔
23/رجب المرجب 1394ھ/12/اگست 1974ء میں حضور مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو خلافت و اجازت سے بھی سرفراز فرما دیا۔
1379ھ/1960ء میں آپ کا عقد مسنون ہوا اور ازدواجی کا آغاز ہوا ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک دختر نیک اختر اور ایک فرزند ارجمند سے نوازا ‌ ،آپ کی دختر نیک اختر کا نام راشدہ خاتون اور فرزند ارجمند کا نام محمد نقیب الغوث ہے۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں کو ہمیشہ شاد وآباد رکھے اور ان کے علم و عمل میں برکتیں عطا فرمائے۔ آمین۔
1372ھ/1983ء میں آپ نے حرمین شریفین کا سفر کیا، حج بیت اور زیارت روضہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سعادت سے مشرف ہوئے، حرمین شریفین کے دیگر مقدس مقامات کی زیارت سے بھی مشرف ہوئے۔
مولانا شبیہ القادری رضوی بہاری رحمۃ اللہ علیہ کی ساری زندگی جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ آپ نے درس و تدریس، وعظ و نصیحت کے ساتھ ساتھ قلم و قرطاس سے بھی گہرا تعلق رکھا ‌ ‌ اس پر آپ کی درج ذیل ایک درجن سے زائد کتابیں شاھد و ناطق ہیں۔
(1) الدراسۃ العربیہ
(2) اصول حدیث
(3) لمعات حدیث
(4) تراجم کلام اللہ کا تقابلی جائزہ
(5)اس کو یاد کرلو
(6) عربی بولو
(7) فسادی کون
(8) دفاعی مورچہ
(9)سید نور ( نعتیہ مجموعہ)
(10)ایک تقریر
(11) خلاصہ النحو
(12) میزان عدل
(13) ترجمہ ، الدرالثمین ( شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب)
آپ کی تمام کتابوں کو شہرت عام اور بقائے دوام حاصل ہے۔ اور ان میں سے اکثر درسیات میں بھی شامل ہیں۔
مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ سے آپ کا حسنِ عقیدت دیدنی تھا۔ ان کی شان میں آپ کی منقبت کا ایک شعر ملاحظہ فرمائیے:
ہمیں حسن عمل بس مفتی اعظم پسند آیا
انہی میں انما یخشی کا بھی عا لم پسند آیا
آپ کا حلقۂ اثر بہت وسیع ہے۔ آپ کے مشاہیر خلفاء وتلامذہ میں مولانا علاء الدین رضوی، مولانا ابو الحسن ، مولانا سہیل احمد قادری، مولانا ملک الظفر سہسرامی، مولانا وصی الحق رضوی، مولانا عزیز الرحمٰن، پروفیسر محمد اسلم، مولانا محمد شمشاد علی غوثی، مولانا عبدالباری اور مولانا رضاء المصطفیٰ کے اسمائے گرامی نہایت روشن اور نمایاں ہیں۔
مولانا شبیہ القادری رضوی بہاری رحمۃ اللہ علیہ کی وفات حسرت آیات سے ہم اپنے ایک عظیم قائد و رہنما، مسلک رضا کے بے باک ترجمان ، عالم باعمل اور مصنف تصانیف کثیرہ سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو گئے ہیں۔ ان کی رحلت سے ہمارا ناقابلِ تلافی نقصان ہوا ہے، ان کی وفات حسرت آیات پر آج سنجیدہ اہل علم و قلم نہایت رنجیدہ ہیں۔
آہ !
آتی رہے گی ترے انفاس کی خوشبو
گلشن تری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا
اللہ تعالیٰ اپنے محبوب حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل آپ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور آپ کے درجات بلند سے بلند تر فرمائے اور تمام پسماندگان کو صبر جمیل اور صبر جمیل پر اجر جزیل عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وازواجہ وذریتہ واولیاء امتہ وعلما ملتہ اجمعین۔۔
شریک غم اور پر نم
دعا گو ودعا جو
گدائے کوئے مدینہ شریف
احقر سید صابر حسین شاہ بخاری قادری غفرلہ”خلیفۂ مجاز بریلی شریف”, سرپرست اعلیٰ ماہ نامہ مجلہ الخاتم انٹر نیشنل ، "ہماری آواز” مدیر اعلیٰ الحقیقہ
ادارہ فروغ افکار رضا و ختم نبوت اکیڈمی برھان شریف ضلع اٹک پنجاب پاکستان پوسٹ کوڈ نمبر 43710(29/جمادی الاخری 1443ھ/2/فروری 2022ء ، بروز بدھ بوقت 9:48 رات)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے