مذہبی مضامین

جہنم کا بیان

ریاض فردوسی۔9968012976

اس کے سات دروازے ہیں،ہر دروازے کاان میں سے تقسیم شدہ حصہ ہے(سورہ الحجر۔آیت۔44)

سات دروازوں سے مراد جہنّم کے سات طبقات (درجات ) ہیں جن کے نام یہ ہیں:(1)جَہَنَّم (2)لَظَی(3)
حُطَمَہ (4)سَعِیْر (5)سَقَر (6)جَحِیْم (7)ہَاوِیَہ،(موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا،ج6،ص400)

جہنم۔کنواں۔ وہ جگہ جہاں نافرمان اور بداعمال لوگوں کو مرنے کے بعد سزا بھگتنی ہوگی۔ جہنم کا جو نقشہ قرآن پاک میں پیش کیا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آگ کی بھٹی ہوگی جس کا ایندھن انسان ہوں گے۔ اہل جہنم کو پینے کے لیے پیپ اور گرم پانی ملے گا۔ ان کی غذا زقوم ’’تھوہر‘‘ ہوگی۔ جو گرم دھوئیں میں رہیں گے لیکن ان کوموت نہیں آئے گی۔امام غزالی اور علامہ سیوطی نے دوزخ کے مکمل خاکے پیش کیے ہیں۔ لیکن ان کی تفصیلات میں اختلاف ہے،نیز جہنم تصور ہے یا فی الوقع کوئی جگہ ہے۔ معتزلہ اسے صرف روحانی اذیت قرار دیتے ہیں۔
لَظٰی (شعلہ زن) یہ آگ کا نام ہے جہنم کے سات درجوں میں سے دوسرے درجے کا نام ہے،یہ قرآن میں دو مرتبہ استعمال ہوا (قرآن: سورۃ المعارج:15)(قرآن: سورۃ اللیل:14) "لظی اسم علم ہے اس صورت میں اس سے مراد دوزخ میں دوسرے درجے کے دوزخ کا نام ہے۔ مصدر بھی ہو سکتا ہے بمعنی آگ بھڑکنا۔ اسم مصدر بھی۔ بمعنی بغیر دھویں کے اٹھتا ہوا شعلہ، لپٹ، بھڑک۔ یعنی ایسی آگ جس میں شعلے بھڑک رہے ہوں گے۔
مطلب یہ کہ بے شک وہ ایسی آگ ہوگی جو بھڑک رہی ہوگی اور شدت التہاب کا یہ اثر ہوگا کہ دھویں کے بغیر ہوگی”۔

(انوار البیان فی حل لغات القرآن جلد4 صفحہ449 ،علی محمد، سورۃ المعارج،آیت15،مکتبہ سید احمد شہید لاہور
↑ تفسیر قرطبی ابو عبد اللہ محمد بن ابوبکر قرطبی سورۃ المعارج آیت15)لظی یہ تلظی سے مشتق ہے اور التظاء النار سے مراد آگ کا بھڑکنا ہے اور تلظیھا سے مراد بھی اس کا بھڑکنا ہے۔
الحطمۃ ( وہ آگ جو چیز اس میں ڈالی جائے اس کو مٹا ڈالتی ہے) یہ جہنم کی آگ کا نام ہے جہنم کے سات درجوں میں سے تیسرے درجے کا نام ہے،یہ قرآن میں دو مرتبہ استعمال ہوا (قرآن: سورۃ الھمزہ:04)(قرآن: سورۃ الھمزہ:05) الحطمۃ۔ اس کے اصل معنی ہیں کسی چیز کو توڑنا۔ ریزہ ریزہ کرنا اور روندنے پر حطم کا لفظ بولا جاتا ہے۔

السعیر (دھکتی ہوئی آگ) یہ آگ کا نام ہے جہنم کے سات درجوں میں سے پانچویں درجے کا نام ہے،یہ قرآن میں 16 مرتبہ استعمال ہوا (قرآن: سورۃ الحج:4)(قرآن: سورۃ لقمان:21)السعیر۔ سعر مصدر سے بروزن (فعیل) بمعنی مفعول ہے۔ سعیر بمعنی مسعور۔ سعرت النار کے معنی آگ بھڑکانا۔ مجازا لڑائی وغیرہ کے بھڑکانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

سفر (شعلہ زن) یہ آگ کا نام ہے جہنم کے سات درجوں میں سے چوتھے درجے کا نام ہے،یہ قرآن میں چار مرتبہ استعمال ہوا (قرآن: سورۃ القمر:48)(قرآن: سورۃ المدثر:26،27،42)سقر “ (بروزن فقر) کے مادہ سے دگرگوں ہونے اور سورج کی گرمی کے اثر سے پگھل جانے کے معنی میں ہے۔

الجحیم (دوزخ کی بھڑکتی اورسخت آگ) یہ آگ کا نام ہے جہنم کے سات درجوں میں سے چٹھے درجے کا نام ہے،یہ قرآن میں 26 مرتبہ استعمال ہوا (قرآن: سورۃ البقرہ:119)(قرآن: سورۃ المائدہ:10،86)
جحیم “” جحم “ (بروزن فہم) کے مادہ سے آگ بھڑکانے کے معنی میں ہے۔ اس وجہ سے حجیم بھڑکتی ہوئی آگ کو کہتے ہیں۔ قرآنی تعبیر میں یہ لفظ عام طور پر دوزخ کے معنی میں آیا ہے۔

ھاویۃ دوزخ میں ایک درجہ کا نام ہے یہ ایک نہایت ہی گہرا گڑھا ہے جس کی گہرائی خدا ہی کو معلوم ہے۔ہاویہ : جہنم کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ ہاویہ ایسا غار ہے جس کی گہرائی سے سوائے خدا کے کوئی واقف نہیں(انوار البیان فی حل لغات القرآن جلد4 صفحہ825،علی محمد، سورۃ القارعہ،آیت9،مکتبہ سید احمد شہید لاہور)

جہنم کے یہ دروازے ان گمراہیوں اور معصیتوں کے لحاظ سے ہیں جن پر چل کر آدمی اپنے لیے دوزخ کی راہ کھولتا ہے ۔ مثلاً کوئی دہریت کے راستے سے دوزخ کی طرف جاتا ہے ، کوئی شرک کے راستے سے ، کوئی نفاق کے راستے سے ، کوئی نفس پرستی اور فسق و فجور کے راستے سے ، کوئی ظلم و ستم اور خلق آزاری کے راستے سے ، کوئی تبلیغ ضلالت اور اقامت کفر کے راستے سے ، اور کوئی اشاعت فحشاء و منکر کے راستے سے۔

چند اہم باتیں جہنم کے بارے میں احادیث پاک ﷺ کی روشنی میں!
1۔جہنم میں گرایا گیا پتھر 70 سال بعد جہنم کی تہ میں پہنچتا ہے(صحيح مسلم:كتاب الجنة ونعيمها’باب جهنم اعاذنا الله منها:رقم الحديث:7167،ترمذی،ج4،ص260، حدیث: 2584)
2۔جہنم کے ایک احاطہ کی دو دیواروں کے درمیان 40 سال کی مسافت کا فاصلہ ہے(ابو یعلی)
3۔جہنم کو میدان حشر میں لانے کے لے 4 ارب 90 کروڑ فرشتے مقرر ہوں گے(مسلم، ص1167، حدیث:7164)
4۔جہنم کا سب سے ہلکا عذاب آگ کے دو جوتے پہننے کا ہوگا جس سے جہنمی کا دماغ کھولنے لگے گا(مسلم، ص111، حدیث: 517)
5۔جہنمی کی ایک داڑھ (بڑا دانت) احد پہاڑ سے بھی بڑی ہوگی(مسلم)
6۔جہنمی کے جسم کی کھال 42 ہاتھ (63 فٹ) موٹی ہوگی( ترمذی۔جَہَنّمیوں کی شکلیں ایسی نفرت انگیز ہوں گی کہ اگر دنیا میں کوئی جہنمی اُسی صورت پر لایا جائے تو تمام لوگ اس کی بدصورتی اور بَدبُو کی وجہ سے مَرْ جائیں۔(الترغیب والترھیب،ج 4،ص263، حدیث:68) اور کُفّار کا جسم اتنا بڑا کر دیا جائے گا کہ ایک کندھا سے دوسرے تک تیز سوار کے لئے تین 3دن کی راہ ہے۔(بخاری،ج 4،ص260، حدیث: 6551) ایک ایک داڑھ اُحد کے پہاڑ برابر ہوگی، کھال کی موٹائی بیالیس ہاتھ کی لمبائی جتنی ہوگی، بیٹھنے کی جگہ اتنی ہوگی جیسے مکّہ سے مدینہ تک (ترمذی،ج 4،ص260، حدیث:2586) زبان کوس دو کوس تک منہ سے باہر گھسٹتی ہوگی کہ لوگ اس کو روندیں گے (ترمذی،ج 4،ص261، حدیث: 2589) اور جہنمیوں کا اوپر کا ہونٹ سِمٹ کر بیچ سر کو پہنچ جائے گا اور نیچے کا لٹک کر ناف کو آلگے گا(ترمذی،ج 4،ص264، حدیث: 2596)
7۔جہنمی کے دونوں کندھوں کے درمیان تیزرو سوار کی 3 دن کی مسافت کا فاصلہ ہوگا(مسلم)
8۔دنیا میں تکبر کرنے والوں کو چیونٹیوں کے برابر جسم دیا جائے گا(ترمذی)
9۔جہنمی اس قدر آنسو بہائيں کے کہ ان میں کشتیاں چلائی جاسکیں گی(مستدرک حاکم)
10۔جہنمیوں کو دیے جانے والے کھانے (تھوہر) کا ایک ٹکڑا دنیا میں گرا دیا جائے تو ساری دنیا کے جانداروں کے اسباب معیشیت برباد کردے(احمد، نسائی،ابن ماجہ،ترمذی،ج 4،ص263، حدیث:2594)
11۔جہنمیوں کو پلائے جانے والے مشروب کا ایک ڈول(چند لٹر) دنیا میں ڈال دیا جائے تو ساری دنیا کی مخلوق کو بدبو میں مبتلا کردے(ابو یعلی،ترمذی،ج 4،ص262،حدیث:2591،2592،2593)
12۔جہنمیوں کے سر پر اس قدر کھولتا ہوا گرم پانی ڈالا جائے گا کہ وہ سر میں چھید کرکے پیٹ میں پہنچ جائے گا اور پیٹ میں جو کچھ ہوکا اسے کاٹ ڈالے گا اور یہ سب کچھ(پیٹھ سے نکل کر)قدموں میں آگرے گا(احمد)
13۔کافر کو جہنم میں اس قدر سختی سے ٹھونسا جائےگا،جس قدر نیزے کی انی دستے میں سختی سے گاڑی جاتی ہے(شرح اسنہ)
14۔جہنم کی آگ شدید سیاہ رنگ کی ہے(جس میں ہاتھ کو ہاتھ دکھائی نہیں دے گا(مالک۔ترمذی،4،ص266، حدیث: 2600)
15۔جہنمیوں کو آگ کے پہاڑ "صعود” پر چڑھنے میں 70 سال لگيں گے اترے گا تو پھر اسے چڑھنے کا حکم دیا جائے گا(ابو یعلی)
16۔جہنمیوں کو مارنے کے لیے لوہے کے گرز اتنے وزنی ہوں گے کہ انسان اور جن مل کر بھی اسے اٹھانا چاہیں تو نہیں اٹھا سکتے(ابو یعلی)
17۔جہنم کے سانپ قد میں اونٹوں کے برابر ہونگے اور ان کے ایک دفہ ڈسنے سے کافر 40 سال تک اس کے زہر کی جلن محسوس کرتا رہے گا(حاکم)
18۔جہنم کے بچھو قد میں خچر کے برابر ہوں گے ان کے ڈسنے کا اثر کافر 40 سال تک محسوس کرتا رہے گا(حاکم)
19۔جہنمیوں کو جہنم میں منہ کے بل چلایا جائے گا (مسلم)
20۔جہنم کے دروازے پر عذاب دینے والے 4 لاکھ فرشتے موجود ہونگے جن کے چہرے بڑے ہیبت ناک اور سیاہ ہوں گے کچلیاں باہر نکلی ہوں گی سخت بے رحم ہوں گے اور اس قدر جسیم کہ دونوں کندھوں کے درمیان پرندے کی 2 ماہ کے مسافت کا فاصلہ ہوگا(ابن کثیر)
21۔حضرت سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے شاگرد حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ سے جہنّم کی وُسعَت کے متعلّق دریافت فرمایا اور پھر خود ہی جواباً فرمایا : ایک جہنمی کے کان کی لَو اور کندھے کے درمیان ستّر سال کی مسافت کا فاصلہ ہوگا۔(موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا،ج6،ص402)

آخر میں!

ایک بار جبرائیل علیہ سلام نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جبرائیل کچھ پریشان ہیں آپ ﷺ نے فرمایا جبرائیل کیا معاملہ ہے کہ آج میں آپ کو غمزدہ دیکھ رہا ہوں۔ جبرائیل نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کل میں اللہ پاک کے حکم سے جہنم کا نظارہ کر کے آیا ہوں اس کو دیکھنے سے مجھ پہ غم کے آثار نمودار ہوئے ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا جبرائیل مجھے بھی جہنم کے حالات بتائیں۔ جبرائیل نے عرض کی جہنم کے کل سات درجے ہیں۔ان میں جو سب سے نیچے والا درجہ ہے اللہ اس میں منافقوں کو رکھے گا۔اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں اللہ تعالی مشرک لوگوں کو ڈالے گے۔اس سے اوپر پانچویں درجے میں اللہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کو ڈالے گے۔چوتھے درجے میں اللہ پاک آتش پرست لوگوں کو ڈالے گا۔تیسرے درجے میں اللہ پاک یہودیوں کو ڈالے گا۔دوسرے درجے میں اللہ تعالی عسائیوں کو ڈالے گا۔یہ کہہ کر جبرائیل علیہ سلام خاموش ہوگئے تو نبی کریم ﷺ نے پوچھا جبرائیل آپ خاموش کیوں ہوگئے مجھے بتائیں کہ پہلے درجے میں کون ہوگا جبرائیل علیہ سلام نے عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ پہلے درجے میں اللہ پاک آپﷺ کے امت کے گنہگاروں کو ڈالے گا۔جب نبی کریم ﷺ نے یہ سنا کہ میری امت کو بھی جہنم میں ڈالا جاۓ گا تو آپﷺ بے حد غمگین ہوئے اور آپ ﷺنے اللہ کے حضور دعائیں کرنی شروع کر دیں۔ تین دن ایسے گزرے کہ اللہ کے محبوبﷺ مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لاتے نماز پڑھ کر حجرے میں تشریف لے جاتے اور دروازہ بند کرکے اللہ کے حضور رو رو کر فریاد کرتے۔صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین حیران تھے کہ نبی کریمﷺ پہ یہ کیسی کیفیت طاری ہوئی ہے۔مسجد سے حجرے جاتے ہیں گھر بھی نہیں جا رہے ہیں۔ جب تیسرا دن ہوا تو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے رہا نہیں گیا وہ دروازے پہ آکر دستک دی اور سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہیں آیا۔ آپ روتے ہوۓ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور فرمایا کہ میں نے سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہ پایا لہذا آپ جائیں آپ کو ہوسکتا ہے سلام کا جواب مل جائے۔آپ گئے تو آپ نے تین بار سلام کیا لیکن جواب نہ آیا۔حضرت عمر نے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو بھیجا لیکن پھر بھی سلام کا جواب نہ آیا۔حضرت سلمان فارسی نے واقعے کا تذکرہ علی رضی اللہ تعالی سے کیا انہوں نے سوچا کہ جب اتنی عظیم شخصیات کو سلام کا جواب نہ ملا تو مجھے بھی نہیں جانا چاہیئے بلکہ مجھے ان کی نور نظر بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنھا کو اندر بھیجنا چاہئے۔ لہٰذا آپ نے فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کو سب احوال بتا دیا آپ حجرے کے دروازے پر تشریف لائیں۔”ابا جان السلام علیکم“
بیٹی کی آواز سن کر محبوب کائناتﷺ اٹھے دروازہ کھولا اور سلام کا جواب دیا۔ابا جان آپ پر کیا کیفیت ہے کہ تین دن سے آپ ﷺ یہاں تشریف فرما ہیں؟نبی رحمت ﷺ نے فرمایا کہ جبرائیلؑ نے مجھے آگاہ کیا ہے کہ میری امت بھی جہنم میں جاۓ گی فاطمہ مجھے اپنے امت کے گنہگاروں کا غم کھائے جا رہا ہے اور میں اپنے مالک سے دعائیں کررہا ہوں کہ اللہ ان کو معا ف فرما اور جہنم سے بری کردے، یہ کہہ کر آپﷺ پھر سجدے میں چلے گئے اور رونا شروع کیا

"یا اللہ میری امت” یا اللہ میری امت کے گناہگاروں پہ رحم کر انکو جہنم سے آزاد کر” اپنے محبوب کے آنسوؤں کو دیکھ رحمت خداوندی جوش میں آئ،

ارشاد ربانی !اے میرے محبوب ﷺ غم نہ کریں! میں آپ کو اتنا عطا کردوں گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔ آپ ﷺ خوشی سے کھل اٹھے۔

باہر تشریف لا کر ارشاد فرمایا!

لوگو اللہ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ روز قیامت مجھے میری امت کے معاملے میں خوب راضی کرے گا اور میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گا جب تک میرا آخری امتی بھی جنت میں نہ چلا جاۓ(او کما قال ﷺ)(ابو الليث نصر بن محمد بن أحمد بن إبراهيم السمرقندي۔المتوفى: 373 ھ نے اپنی کتاب ” تنبیہ الغافلین "میں یزید الرقاشی کے حوالہ سے سیدنا انس ابن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت سے اس واقعہ کو نقل کیا ہے)

رسول اللہ ﷺ کا امت کے حق میں شفیق و مہربان ہونا بہت سی صحیح احادیثِ مبارکہ اور قرآنِ پاک کے صریح نصوص سے ثابت ہے۔آپ ﷺ کا امت کے لیے راتوں کو رو رو کر دعائیں کرنا بھی صحیح احادیث سے ثابت ہے۔قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کا امت کے حق میں سفارش کرنا، بلکہ اہلِ کبائر کے حق میں سفارش کرنا بھی احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے۔

حضرت سیّدُنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو شخص تین بار جہنّم سے پناہ مانگتا ہے تو جہنّم بھی کہتی ہے: یااللہ! اسے دوزخ سے محفوظ رکھ۔(ترمذی،ج 4،ص257، حدیث:2581)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے