سیاست و حالات حاضرہ

سیکولرازم دیش میں صرف مسلمانوں کی ضرورت ہے لیکن۔۔۔۔۔۔عزیز برنی صاحب!

از قلم: محمد نورالدین ازہری


سیکولرازم اس دیش میں غیروں کی نہیں صرف اور صرف مسلمانوں کی ضرورت ہے، یہ بات بھی سچ ہے، لیکن بارہا ایسا ہوا کہ چھوٹی گروہ نے بڑے گروہ پر اپنا جھنڈا لہرایا ہے، اس لیے اس کوشش میں استثایی کوشش کو بھی کام کرنے دینا چاہیے، اویسی اسی استثنی کا حصہ ہے، ہمیں مایوس ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہے، اویسی کا اہم کردار تاریخ میں یہ لکھا جائے گا کہ اس نے ہندوتوا کے خلاف مسلمانوں کا ڈسکورس کھڑا کیا تھا۔ جہاں مسلمانوں سے جڑے سب کچھ لوگوں کی آنکھوں میں ناسور بن چکا تھا، اس نے ثابت کیا کہ نہیں ہم برابر کے شہری ہیں اور ہمیں بھی اپنی پہچان اور کلچر کے ساتھ جینے کا اتنا ہی حق ہے جتنا کہ کسی اور شہری کو ہے۔جب آرایس ایس گوبر کو گوہر بناسکتا ہے تو ہم حق اور دستور کی بات کھل کرنے میں کیوں گھبرائیں۔ہم صرف حق اور دستور کی بات کریں بقیہ گوبر اور گوہر کا امتیاز عقلمند از خود کرے گا۔ اور اسی سچی وطن پرستی کا نتیجہ ہے کہ لوگ تیزی سے اویسی کو جوائن بھی کر رہے ہیں،بلکہ بہترے انصاف پسند اور اصل دیش پریمی بلا مذہب و ملت کے امیتاز کیے اویسی کے نظریات سے متفق ہیں، جب تک ہم مسلمان بن کر سامنے نہیں ہوں گے ،لوگوں کو ہمارے سارے کام عجوبہ لگیں گے، لیکن جب ہم بار بار اپنی پہچان اور طاقت کے ساتھ سامنے آئیں گے، اپنی آزادی اور حصے داری کے مطالبے کریں گے، چیزیں نارمل ہوں گی، اور سب کو معلوم ہوگا کہ ہر ایک کی اپنی اپنی پہچان اور شناخت ہے۔اور جیسے دوسروں کی آزادی ہے ویسے ہی مسلمانوں کی بھی ہے، اور ہندوستان اسی لیے یونین آف اسٹیٹ ہے ، نہ کہ ایک نیشن آف اسٹیٹ۔ یونین آف کلچر ہے ،نہ کہ ایک رنگ اور ایک کلچر کا ملک۔ ساتھ ہی تھیوری بدلنے کی ضرورت ہے کہ مسلمان اقلیت میں ہیں، نہیں ہندوتوا اور برہمنواد اقلیت میں ہے، ہم لوگ کوشش کریں کہ جھارکھنڈ کی طرح ایس سی ایس ٹی کو الگ پہچان اور مذہب دلانے میں ان کی مدد کریں، جو کہ برسوں سے ان کا ڈیمانڈ بھی ہے،کیوں کہ اس طبقہ کا ہندو کیٹیگری سے نکلتے ہی ،ہندو از خود مائنوریٹی ہو جائے گا۔ ابھی پچھلی ذاتیاں صرف ہندو کے نام پر چند فیصد ہندوتوا کا چارہ بنی ہوئی ہیں۔ سچائی یہ ہے کہ لیٹریچر ترقی کرتا ہے اور رائے عامہ اس کے پیچھے آتی ہے، آپ لوگ اپنے قلم سے اس دھارے کو موڑیے ،سوچ بدلے گی تو زندگی بدلے گی۔ سوچ میں تبدیلی لائیں۔دھارا بدلیں، راستے نکلیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے