گوشہ خواتین مذہبی مضامین

حجاب سے نفرت کیوں؟

از: محمد زاہد رضا، دھنباد
متعلم، جامعہ اشرفیہ،مبارک پور
(رکن:مجلس علماے جھارکھنڈ)

تعلیمی ادارے اس لیے قائم کیےجاتے ہیں کہ بچے و بچیاں اس میں عمدہ تعليم حاصل کر کے اپنے مستقبل کو آراستہ کریں اور تاریکی کی گہرائیوں سے نکل کر روشنی کے آنگن میں قدم رکھیں، نہ کہ تعلیمی اداروں میں جا کر غنڈه گردی،شراب نوشی، چھیڑ خوانی، داداگری، نعرہ بازی اور سیاست بازی کریں۔میں یہ بات اس لیے کہہ رہا ہوں کہ کچھ دنوں سے کرناٹک کے تعلیمی ادارے سیاست کے اڈے بنے ہوئے ہیں۔
اس وقت پورے کرناٹک میں حجاب اور زعفرانی رومال موضوع بحث بنا ہوا ہے، ہماری مسلم بہنیں جب حجاب پہن کر کالج اور اسکول میں داخل ہوتی ہیں تو بھگوا تنظیم کے کارکنان کے پیٹ میں درد شروع ہوجاتا ہے اور یہ زعفرانی گمچھے ہاتھوں اور گلے میں ڈال کر حجاب کی مخالفت اور مسلم طالبات کو دہشت زدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ معاملہ کرناٹک ہائی کورٹ میں زیر غور تھا لیکن کرناٹک ہائی کورٹ نے کوئی فیصلہ سنانے کے بجاے اسے بڑی بینچ کے سپرد کردیا اب دیکھنا یہ ہے کہ بڑی بینچ کیا فیصلہ کرتی ہے۔
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ دستور ہند ہمیں یہ اجازت دیتا ہے کہ "ہم جو چاہیں زیب تن کریں اس میں کوئی روک ٹوک نہیں”،لیکن کرناٹک حکومت نے اس قانون کو بالاے طاق رکھ کر نیا فرمان جاری کردیا کہ کوئی بھی لڑکی حجاب پہن کر تعلیمی ادارے میں داخل نہیں ہوسکتی،جس کی وجہ سے باحجاب بہنوں کو تعلیمی اداروں میں داخل نہیں ہونے دیا جا رہا ہے اور انھیں مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس سے پہلے بھی مسلم طالبات باحجاب اسکول،کالجز اور یونیور سٹیز میں تعلیم حاصل کرتی تھیں تو اس وقت کسی کو تکلیف نہیں ہوتی تھی،اس وقت کسی کو کوئی دقت نھیں تھی،کبھی انھیں روکا نہیں گیا،تو اب کیوں انھیں روکا جارہا ہے؟ کیوں ان کے ساتھ نازیبا سلوک کیا جارہا ہے؟ کیوں انھیں تعلیم سے محروم کیا جارہا ہے؟کہیں بی، جے، پی حکومت ان کی آڑ میں الیکشن کی تیاری تو نہیں کر رہی ہے؟(آئند ایک دو سال کے اندر کرناٹک میں الیکشن ہونے والا ہے)کہیں یہ مہنگائی، بےروزگاری اور نوکری پر مذہب کی دبیز چادر ڈال کر ہندوؤں کو متحدد کرنے کی کوشش تو نہیں کر رہی ہے؟علاوہ ازیں بی، جے،پی حکومت، ان کے لیڈران و کارکنان کے پاس مذہب، نفرت،ہندو، مسلم،مندر،مسجد، اشتعال انگیز بیان کے علاوہ کچھ ہے بھی نہیں جس کے نام پر یہ لوگ عوام سے ووٹ مانگیں اور فتح یابی کا پرچم بلند کریں۔
خیر! میں کہہ رہ تھا کہ اس وقت حجاب اور زعفرانی بگڑی کرناٹک سمیت کئی صوبوں میں تنازع کا سبب بنا ہوا ہے،اس پورے معاملے کو ایک وائرل ویڈیو نے اور سنسنی خیز بنا دیا ہے،ایک باحجاب طالبہ جب کالج کے کیمپس میں داخل ہوتی ہے اور اپنی اسکوٹی پارک کر کے واپس آتی ہے تو بھگوا گیڈڑوں کی جماعت اپنے ہاتھو میں بگھوا گمچھے لے کر اس کے پیچھے پڑ جاتی ہے اور "جے شری رام” کے نعرے لگانے لگتی ہے،لیکن سلام "مسکان”بہن پر صد سلام اس شیرنی اور اس کی ہمت و جرات پر جو گیڈڑوں کی جھنڈ پر تن تنہا بھاری پڑ گئی اور اللہ اکبر کی صدائیں بلند کر کے شرپندوں کو منھ توڑ جواب دی۔
خدا نخواستہ اگر اس لڑکی پر حملہ ہوتا یا اس کے ساتھ چھیڑ خوانی کی جاتی یا کوئی اور معاملہ پیش آتا تو اس کا جواب دہ کون ہوتا؟ کیا اس کا جواب دہ اسکول انتظاميہ ہوتی؟ یا کرناٹک حکومت جس کی وجہ سے روز بروز ماحول خراب ہو رہے ہیں؟
اسی تناظر میں اور ایک ویڈیو دیکھنے کو ملا،ایک طالب علم نے کالج کے میدان میں لگے قومی پرچم کو اتار کر بھگوا چھنڈا لہرا دیا اور وہاں پر موجود تمام بگھوا دھاری لڑکوں نے مذہبی نعرے لگائے۔آخر یہ کون ہیں جن کو ترنگے سے اتنی نفرت ہے؟ جو قومی پرچم کی توہین کر رہے ہیں؟ کہیں یہ اسٹوڈینس کے لباس میں چھپے فرقہ پرست تو نہیں؟ (کیوں کہ طلبا و طالبات ہمیشہ قومی پرچم، آئین ہند اور ہندوستانی تہذیب و تمدن کی تحفظ اور ان کی تعظيم و تکریم کرتے ہیں)ان کے خلاف سخت کارروائی اور غدار وطن کا مقدمہ کیوں دائر نہیں کیا جارہا ہے؟کہیں ان کے پیچھے اثر و رسوخ شخص اور سیاست داں کا ہاتھ تو نہیں جو اپنے مفاد کے لیے ان کے ذہنوں میں فرقہ واریت کا زہر انڈیل رہے ہیں اور ان کی زندگی کو تباہ کر رہے ہیں؟
اگر ترنگے کی توہین کسی مسلم شخص نے کی ہوتی تو وہ ابھی تک بریکنگ نیوز بن جاتی، اس پر پولیس UAPA، لگا کر سلاخوں کے پیچھے ڈال دیتی، لیکن مذکورہ معاملہ میں پولیس تماشابیں و چپی سادھی ہوئی ہے۔
میں اپنے ان بھائیوں سے کہنا چاہوں گا جو اسکول،کالجز اور یونیور سٹیز میں تعلیم حاصل کرنے بجاے غندہ گردی،داداگری اور شور شرابہ کرتے ہیں،کہ برادران من! سیاست کے چکر میں اپنے روشن زندگی کو سیاہ نہ کریں کیوں کہ سیاست اور سیاست داں دونوں مفاد و مطلب پرست ہیں، جب تک آپ سے ان کو فائدہ پہنچے گا تب تک آپ کو سر آنکھوں پر بٹھا کر رکھیں گے،ایر کنڈشن و آرام دہ گاڑیوں میں آپ کو سیر و تفریح کروائیں گے،فائیو اسٹار ہوٹلوں میں آپ کا قیام و طعام کروائیں گے،آپ پر نوٹوں کی بارشیں کریں گے،لیکن جوں ہی ان کا مقصد پورا ہوگا آپ کو ویسے ہی باہر پھینک دیں گے جیسے لوگ چائے سے مکھی کو باہر پھینک دیتے ہیں،اس لیے میرے بھائیوں ابھی بھی وقت ہے ہوش کے ناخن لیں اور اپنے تابندہ مستقبل کے بارے میں غور و فکر کریں۔
یہاں پر ایک بات قابل ذکر ہے کہ "جمیعتہ علماے ہند” نے مسکان خان کی حوصلہ افزائی کے لیے پانچ لاکھ روپے نقد بطور انعام دینے کا اعلان کیا ہے جو کہ قابل ستائش ہے،اس سے مسکان جیسی اور لڑکیاں جو دشمنان اسلام کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ اور تحفظ نسواں کی خاطر صدائیں حق بلند کر رہی ہیں ان کے حوصلے بلند ہوں گے اور انتہا پسن د کو منھ توڑ جواب دیں گی۔
افسوس کے ساتھ مجھے یہ ضبط تحریر کرنا پڑ رہا ہے کہ "قوم مسلم” اشتہارات،جلسے جلوس،شعرا و خطبا کی آمد و رفت،قوالی،شادی اور دیگر کاموں میں لاکھوں روپے صرف کر دیتی ہے،لیکن اپنے اسکول،کالج و یونیور سٹی تعمیر نہیں کر پاتی جس میں مسلم طلبا و طالبات شریعت مصطفی کے مطابق تعلیم حاصل کرتے اور عصری و دینی علوم سے مزین ہوتے۔اے میری قوم! اب بھی وقت ہے خواب غفلت سے بیدار ہوئیے، فضول خرچی سے اجتناب کیجیے اور اپنے تعلیمی ادرہ قائم کیجیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے