سیاست و حالات حاضرہ گوشہ خواتین

حجاب ونقاب اور کامن سول کوڈ کا بھوت

تحریر: طارق انور مصباحی

(1)بی جے پی کے دستور اساسی میں کامن سول کوڈ کا نفاذایک عظیم مقصد کی حیثیت سے شامل ہے۔ یہ پارٹی ”ہندو تو“ (Hindu Nationalism)کوملکی قومیت تسلیم کر تی ہے،یعنی ہندوانہ رسم ورواج ملک کا ثقافتی وتہذیبی حصہ ہے۔ہرملکی اس تہذیب وثقافت کو اختیار کرے،خواہ وہ ہندوہویامسلمان،سکھ ہویا عیسائی،یہودی ہویا پارسی،اسی لیے بی جے پی پارٹی دستور ہند میں بھی تبدیلی لانے کے لیے قسم قسم کے ذرائع اختیار کرتی ہے۔

کامن سول کوڈ (Common Civil Code)کا نفاذبھی اس پارٹی کے اہم اہداف میں سے ہے،حالاں کہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے۔ دستورمیں بھی اس کی صراحت موجودہے۔یکساں سول کوڈکے نفاذکا مقصدیہ ہے کہ ہندورسم ورواج اورہندوقوانین کو دستوری شکل دے کر اسے تمام اہل ہندپرنافذکردیا جائے،تاکہ ہندو توا اورہندونیشنلزم کی شکل پیدا ہوجائے۔ہندو نیشنلزم اور کامن سول کوڈ کے نفاذ کا مقصد یہ ہے کہ بھارت کے سب لوگ گرچہ ہندو مذہب اختیار نہ کریں,لیکن سب لوگ ہندو نما ہو جائیں۔

گؤکشی پرپابندی عائدکرنابھی اس کے اہم اہداف میں شامل ہے۔
کشمیرکی خصوصی حیثیت کوختم کرنا بھی اس کے مقاصدمیں شامل تھا۔بی جے پی نے یہ حیثیت ختم کردی۔اسی طرح بابری مسجد کی جگہ رام مندرکی تعمیر بھی اس کے بنیادی مقاصد میں تھی۔رام مندرکی تعمیر جاری ہے۔الحاصل پانچ اہم مقاصد اس پارٹی کے اصل منشور میں شامل تھے۔ان میں سےدو منصوبے پورے ہوچکے،تین مقاصد کے لئے کوشش جاری ہے۔پانچ دستوری مقاصد درج ذیل ہیں۔

(1)ہندوقومیت (Hindu Nationalism)
(2)یکساں سول کوڈ(Common Civil Code)
(3)گؤ کشی پرپابندی(Banning cow slaughter)
(4)رام مندرکی تعمیر
(Building of Ram temple in Ayodhya)
(5)کشمیرکی خصوصی مراعات کوختم کرنا(Abolishing the special status given to Jammu & Kashmir)

(2)08:فروری 2022کوبی کام:سیکنڈ ایرکی طالبہ بی بی مسکان خاں بنت محمد حسین خاں (ضلع منڈیا:کرناٹک)نے منڈیا کے اپنے کالج کے احاطہ میں بھگوا ئیوں کی جمعیت کے سامنے ہمت وجرات کا مظاہرہ کرتے ہوے ”اللہ اکبر“ کا نعرہ بلند کیا،جس سے ملک بھرمیں کے بھگوائیوں کے ہوش ٹھکانے لگ چکے ہیں۔

کرناٹک میں یہ موضوع قریباً دیڑھ ماہ سے گرم ہے۔اڈپی کرناٹک کے گورنمنٹ پری یونیوسٹی کالج(پی یوسی کالج) کی انتظامیہ کمیٹی نے 31:دسمبر 2021 کوچھ مسلمان طالبات کوحجاب پہن کر کلاس روم میں داخل ہونے سے روک دیا۔

رفتہ رفتہ کرناٹک کے دیگر کالجوں میں بھی مسلم طالبات کو حجاب سے منع کیاجانے لگا۔ انجام کار یہ معاملہ کر ناٹک ہائی کورٹ پہنچا، جہاں مقدمہ کی سماعت جار ی ہے۔ کل 10: فروری 2022کو حجاب سے متعلق سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی گئی۔سپریم کورٹ نے کہا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جائے۔کرناٹک کی بی جے پی حکومت نے بھی ہائی کورٹ کے فیصلے سے قبل کچھ کہنے سے انکار کر دیا ہے۔ حجاب مقدمہ کی سماعت کے لیے کرناٹک ہائی کورٹ نے تین رکنی بنچ کومقرر کیا ہے۔ خداخیر فرمائے:(آمین)

چند سال قبل طلاق ثلاثہ کا معاملہ اٹھایا گیا اور چند آزاد خیال مسلم عورتوں کو سامنے لا کر طلاق ثلاثہ کو کالعدم کر دیا گیا,بلکہ طلاق ثلاثہ کوایک جرم شمار کیا گیا۔مذہبی امور کو مذہبی اصول وضوابط کے مطابق حل کیا جاتا ہے۔ملکی قوانین سے مذہبی معاملات حل نہیں ہو سکتے۔

آج کل حجاب پر ہنگامے ہور ہے ہیں۔ چند آزاد خیال مسلم نماعور توں کو سامنے لایا جا سکتا ہے اورپھر تعلیم گاہوں اور سرکاری دفاتر میں حجاب ونقاب پر پابندی عائد ہوسکتی ہے۔

بھارت کا مشہور مقولہ ہے:

”جس کی لاٹھی، اس کی بھینس“۔

(3)جمہوری ممالک میں جس قوم کے پاس سیاسی قوت نہ ہو، اس پر ظلم وستم ہوناکچھ بعید نہیں۔مسلم قوم بھارت میں کثیر التعداد ہے۔ انڈونیشیا کے بعد دیگر ممالک سے زیادہ مسلمان بھارت میں آباد ہیں۔برہمنوں کی تعداد بھارت میں آٹے میں نمک سے بھی کم ہے،لیکن وہ حاکم ہیں اور دیگر قومیں محکوم ہیں۔دیگر قوموں نے کسی قدر سیاسی قوت حاصل کر لی ہے،لیکن قوم مسلم آج تک غیروں کی کاسہ لیسی میں مدہوش اورمستقبل سے لاپرواہ ہے۔

بیر سٹر اویسی نے مسلمانوں کو سیاسی سطح پر متحد ہونے کی بات کہی ہے۔ سیاسی افکار ونظریات میں اتحادویکسانیت ممنوع نہیں، لیکن بد مذہبوں سے میل جول ہرگز نہ کیا جائے۔ بوقت حاجت اپنے نمائندوں کے ذریعہ دیگر کلمہ گو جماعتوں سے رابطہ رکھیں۔نمائندوں کے ذریعہ پیغام رسانی کا کام لیں۔ جب نمائندوں کے ذریعہ سیاسی ضرورت وحاجت پوری ہوسکتی ہے تو سیاسی پلیٹ فارم پر بھی میل جول کی ضرورت وحاجت باقی نہیں رہی۔

بدمذہبوں سے میل جول اور باہمی ملاقات کے سبب بدمذہبیت کی جانب میلان، بدمذہبوں سے محبت اور دلوں میں مذہبی آزادی داخل ہوگی۔ اس کا سد باب لازم ہے۔ ہم امت مسلمہ کو کوئی ایسی تدبیر نہیں بتا سکتے کہ جس سے ان کی آخرت تباہ ہوجائے۔ ہم روشن خیال ضرور ہیں، لیکن ہماری روشن خیالی دنیا اورآخرت دونوں پر نظر رکھتی ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ فضل الٰہی سے مسلمانان ہند کی دنیا بھی صحیح رہے اور آخرت بھی صحیح رہے۔

ع/ چشم ما روشن ودل ما شاد

خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوۂ دانش فر نگ

سر مہ ہے میری آنکھوں کا خاک مدینہ ونجف

(4)29:جنوری 2022کورات گیارہ بجے گجرات اے ٹی ایس نے حضرت شیخ قمرغنی عثمانی صاحب قبلہ کو تفتیش کے واسطے دہلی سے گرفتارکیا۔ابھی وہ 16:فروری2022 تک پولیس ریمانڈپرہیں۔اللہ تعالیٰ ان کا بھلا کرے۔جلداز جلد ان کی باعزت واپسی ہو۔

(آمین بجاہ النبی الکریم الامین صلوات اللہ تعالیٰ وسلامہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے