گوشہ خواتین

تو نے اک ہلچل مچادی نعرہ تکبیرسے!!!

از: ارم فاطمہ قادری امجدی بنت مولانا غلام جیلانی قادری
سوتیہارا ٹولہ، سیتامڑھی، بہار

اللہ تبارک وتعالی نے عورتوں پر پردہ فرض و واجب قراردیاہے۔ جیساکہ قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:*یاایھاالنبی قل لازواجک وبنٰتک ونساءالمؤمنین یدنین علیھنّ من جلابیبھنّ ذلک ادنیٰ ان یعرفن فلایؤذین وکان الله غفورارحیما. (سورۃ الاحزاب، آیت:۵۹)
اے نبی! اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادوکہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالےرہیں، یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو تو ستائی نہ جائیں اور الله بخشنےوالا مہربان ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے دریافت فرمایا کہ عورت کے لیے کونسی چیز بہتر ہے؟ تمام صحابہ رضی اللہ عنھم خاموش رہے،کسی نے کوئی جواب نہیں دیا،حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اسی وقت سیدہ فاطمہ زہرہ کے پاس آیااورآکر پوچھا: عورتوں کے لیے سب سے بہتر کیاچیز ہے؟ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ نہ وہ مردوں کو دیکھیں اور نہ مرد ان کو دیکھیں۔ فرماتے ہیں میں نے سیدہ کاجواب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تو آپ نے فرمایا کہ”فاطمہ میرے جگرکاٹکڑا ہے”۔(صحیح البخاری)۔
اس سے پتہ چلا کہ مرد اور عورت دونوں کو اجنبی مرد اور عورت سے اپنی نظر کی حفاظت کرنا لازم ہے اور یہی صحیح معنی میں نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنی پارسائی کرنے کا عمدہ طریقہ ہے۔پردے کی اہمیت اور بے پردگی کی مذمت میں کئ ایک احادیث کریمہ وارد ہوئی ہیں۔پردے کے بارے میں کتنی تاکیدیں آئی ہیں، ذیلی سطورسے اندازہ لگائیں:

ترمذی شریف کی ایک روایت ہے "المرأۃ عورۃ” عورت، عورت ہے۔(ترمذی شریف، کتاب الرضاع) یعنی عورت غیر مردکےلیےسرسےپاؤں تک لائق پردہ یعنی چھپانےکی چیزہے۔اور چھپایااسی کو جاتا ہے جس کو غیر کی نظروں سے بچانا مقصود ہوتا ہے۔
ایک دوسری روایت ہے، الله کے رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: "المرأة عورۃ فاذا خرجت استشرفھاالشیطان” یعنی عورت سراپا چھپانےکی چیز (واجب الستر) ہے، جب عورت گھرسےنکلتی ہےتو شیطان اس کو تکتارہتاہے۔(ترمذی شریف، کتاب الرضاع)

یقینا عورت کے لیے پردہ اسلام کاایک قیمتی شعار ہے،فطرت کا تقاضہ یہ ہے کہ جو چیز قیمتی ہوتی ہے اس کو خفیہ اور پوشیدہ جگہ چھپاکررکھاجاتاہے۔ لہذا عورت بھی قیمتی ہونے کے باعث اسی بات کی حقدار ہے کہ اس کو پردے میں رکھاجائے۔ باپردہ زندگی گزارنے سے ہی معاشرہ میں امن وسکون باقی رہتا ہے اور اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور بے پردگی سے برائیاں معاشرہ میں جنم لیتی ہیں۔

حالیہ حجاب معاملہ پر کفروشرک کی وادی میں تن تنہا کہرام بپا کر دینے والی بہادر وبےباک بہن *”مسکان خان”* کی جرأت و ہمت کو سلام کہ اس نے صرف اپنی ہی نہیں بلکہ پوری خواتین اسلام کی عزت کی خاطر آواز بلند کی اور وحدانیت کا نعرہ بھی بلند کی ۔ الله تعالیٰ اس بہن کے حوصلہ کو مزید قوی تر بنائے اور اس کی حفاظت فرمائے۔

پیغام: اےمیری بہنیں!!! آپ اپنی عزت وعصمت کی حفاظت خود کریں، اپنے پاک دامن کو ناپاک اور داغدار ہونے سے بچانے کے لیے پردہ،نقاب،حجاب کو لازم پکڑیں۔ اور یاد رکھیں کہ مخالفین پردہ کا سب سے بڑاجواب یہی ہے کہ ہرمسلم خاتون پردہ کو اپنے لیے لازم کرلیں۔
کیوں کہ حجاب ہماری پہچان ہے،حجاب ہماری شان ہے،حجاب ہمارے رب کا فرمان ہے،لہذا کوئی بھی ہم مسلمان عورتوں کو پردہ کرنے سے کبھی بھی نہیں روک سکتا،ہم کل بھی باحجاب تھے، آج بھی باحجاب ہیں،کل قیامت تک باحجاب رہیں گے۔ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اللہ تعالیٰ سے دعاکرتی ہوں کہ ہم سب کو حکم پردہ کی بجاآوری کی توفیق عطا فرمائے، دشمنوں کے شر سے محفوظ فرمائے اور شریعت محمدی کی پاسداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین بجاہ سیدۃ النساء فاطمة الزھراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے