مذہبی مضامین

کسی شخص کا لوگوں میں برا چرچا کرنا حرام ہے

از قلم: محمد عارف رضا نعیمی مرادآبادی، بانی ہمدرد مسلم نعیمی کمیٹی

 حضرات ! اکثر دیکھا یہ گیا ہے کہ جب کوئی شخص کسی کی مخالفت پر اتر آتا ہے تو خواہ مخواہ اس پر تنقیدیں کرتا، بال کی کھال اتارتا اور اس کی خامیوں یا خطاؤں کا برا چرچا کرتا پھرتا ہے – (مگر جسے ﷲپاک بچائے اسے کوئی بدنام نہیں کرسکتا) – جب ان کی آپس میں بنتی تھی تو اسے گویا اس کے پسینے میں سے بھی خوشبو آتی تھی اب ناراضی کے بعد اس کا عطر بھی بدبودار لگتا ہے – حضرات یاد رکھئے ! کسی مبلغ بالخصوص سنی عالم دین ائمہ کرام کی کسی خامی یا خطا کو بلا مصلحت شرعی کسی پر ظاہر کرنا یا لوگوں میں اس کا برا چرچا کرنا نیکی کے کاموں اور اسلام کی تبلیغ کے کام کے معاملے میں بہت نقصان دہ، اور آخرت میں باعث عذاب ہے – چنانچہ

حضور اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد خان محدث بریلوی رحمتہﷲ علیہ فتاویٰ رضویہ میں تحریر فرماتے ہیں : اور اہلسنت سے بتقدیر الہٰی جو ایسی لغزش فاحش واقع ہو اس کا اخفا (یعنی چھپانا) واجب ہے کہ معاذﷲ لوگ ان سے بد اعتقاد ہوں گے تو جو نفع ان کی تقریر اور تحریر سے اسلام وسنت کو پہنچتا تھا اس میں خلل واقع ہوگا – 

اس کی اشاعت، اشاعت فاحشہ (یعنی برا چرچا کرنا( ہے – اور اشاعت فاحشہ بنص قرآن عظیم حرام، قالﷲ تعالیٰ : یعنی ﷲکریم فرماتا ہے

اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ فِی الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابُٗ اَلِيۡمُٗ ۙ فِی الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ.

ترجمہ : وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں برا چرچا پھلیے ان کے لئے دردناک عذاب ہے دنیا اور آخرت میں – (پارہ 18 سورہ النور 19 کنزالایمان …….. فتاویٰ رضویہ جلد 29 ص 594) –

منجانب : ہمدرد مسلم نعیمی کمیٹی
ہماری تنظیم کا ممبر بننے کیلئے اس نمبر پر رابطہ کریں
8191927658

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button