Uncategorized

انھیں جانا، انھیں مانا، نہ رکھا غیر سے کام…..

ازقلم: غلام مصطفٰی رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
[email protected]
٢٨ اکتوبر ٢٠٢١ء

ہاں! رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ہی نسبتوں کا رشتہ ہے…جبھی عزم کے کئی مینار تعمیر کیے امیر المجاہدین علامہ رضوی نے… انھیں گردشِ ایام سرنگوں نہ کر سکے… امتدادِ زمانہ ان کے پیروں میں بیڑیاں نہ ڈال سکے… حوادث روزگار عزمِ آہنی کے آگے ٹک نہ سکے… یقیں کی منزلیں طے کیں… کیونکہ یہی مطمح نظر تھا….

انھیں جانا انھیں مانا نہ رکھا غیر سے کام….

غیروں کی نگاہ میں وہ کھٹکتے رہے… پورا مغربی ٹولا ان کے خلاف تھا… وہ ناموسِ رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی بات کرتے تھے… وفاداری مصطفیٰ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان کا مشن تھا… اسی لیے غداروں اور گستاخوں کی نگاہوں میں کھٹکتے تھے… کیونکہ…

خودداری سے جینا مومن کی شان ہے… ظلم کے درمیان حق کی آواز بلند کرنا ہمارے وقار کی علامت ہے… یہی علامہ رضوی علیہ الرحمہ کا کارنامہ ہے…. انھوں نے مغربی اسیری کو ٹھوکر مار دی… سچ اپنا لیا… اقتدار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی… ناموسِ رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی بات کی… کیونکہ….

انھیں جانا انھیں مانا نہ رکھا غیر سے کام…

انھیں جانا، انھیں مانا نہ رکھا غیر سے کام….

وہ اسلام کو معذرت خواہانہ انداز میں نہیں پیش کرتے تھے… وہ اسلامی احکام میں تاویلات نہیں کرتے تھے… اسی لیے نڈر تھے؛ بے خوف تھے… کیونکہ ان کے ساتھ اللہ کی مدد تھی… رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے وفاداری تھی… وفاداری ہی ان کا توشہ تھا…اسی وفاداری نے انھیں اغیار کی اسیری سے بچائے رکھا… وہ اسیرِ عشقِ رسول تھے… اسیرِ مکینِ گنبدِ خضرا تھے… یہی ان کا محور فکر تھا…

انھیں جانا، انھیں مانا نہ رکھا غیر سے کام…

موجودہ بحران کا اولین سبب اسلام کو معذرت خواہانہ انداز میں پیش کرنا ہے… احکام میں تاویل کی صورتیں وضع کر کے غیرت و حمیت کی تشریحات ڈگرِ حق سے منحرف کی جا رہی ہیں… ابھی چند روز قبل ایک فرقے کے قائد نے ابن الوقت کے ثبوت میں ایسا ہی انٹرویو دیا، جیسا اسلام مخالف قوتوں کو مطلوب تھا…یوں ہی بکاؤ جماعتیں فرقہ پرستوں کے مطابق سرگرمِ عمل محسوس ہوتی ہیں… شجاعت کے جوہر ختم ہوتے چلے جا رہے ہیں…. ضرورت ہے کہ علامہ رضوی کے پیغامات کو ہر بزم میں دوہرایا جائے… جذبۂ فدا کاری کو اپیل کی جائے… اَسیری کی راہوں کو تج دیا جائے… عزیمتوں کی صبح طلوع کی جائے…تا کہ ہم بھی اعلیٰ حضرت کا یہ پیغام کہتے گزریں….

انھیں جانا، انھیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحمد میں دُنیا سے مسلمان گیا

آج پھر اسلام کے نام پر وجود پذیر زمیں "ناپاک” سائے میں ہے… جہاں گستاخِ رسول کے لیے عشاقِ رسول کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے… جہاں ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے فِدائیوں کو خاک و خوں میں نہلایا جا رہا ہے… جہاں کاروانِ اَمن پر آگ برسائی جا رہی ہے… لیکن! محافظینِ ناموسِ رسالت نے قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دیا ہے… فصیلِ عشقِ رسول کے آگے اقتدار کا دہشت گردانہ چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے… فدایانِ یہود و نصارٰی متاعِ عشقِ رسول کو بھسم کرنا چاہتے ہیں… اہلِ عشق بھی لگتا ہے کہ سروں سے کفن باندھ کر اعلیٰ حضرت کے اس پیغام کی تکرار کر رہے ہیں…

انھیں جانا، انھیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا


ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button