تنقید و تبصرہ

تقدیم: علامہ مفتی آل مصطفیٰ مصباحی کی یاد میں "اشکوں کی برسات”

اثر خامہ: سید صابر حسین شاہ بخاری قادری

بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ النبی الامین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین

گزشتہ دو تین ماہ سے دنیا بھر سے اہل علم و قلم کی ایک نہایت کثیر تعداد نے سفر آخرت اختیار کیا ہے، ان مسافرانِ آخرت میں علامہ مفتی آل مصطفیٰ مصباحی رحمۃ اللہ علیہ (پ: 6/رمضان المبارک 1391ھ/27/اکتوبر 1971ء۔۔۔۔۔۔م: 6/جمادی الاخری 1443ھ/10/جنوری 2022ء) کا اسم گرامی نہایت روشن اور نمایاں ہے۔ ہندوستان میں اہل سنت کی نہایت معیاری درس گاہ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ یوپی کے آپ فرزند جلیل ہیں اور مصباحی علماء ومشائخ میں نہایت مشہور ومعروف ہیں، آپ کی ساری زندگی جہد مسلسل سے عبارت ہے اس پر آپ کی کتاب زیست کا ہر صفحہ شاھد و ناطق ہے۔ آپ نے اپنے عہد کے نامور علماء کرام سے اکتساب فیض کیا اور پھر درس و تدریس کی مسند پر نہایت جاہ و جلال سے راج کیا کشور تدریس کے بے تاج بادشاہ ثابت ہوئے ‌، فقہ و افتاء کے میدان میں آپ کا فقہیانہ قلم اس شان سے چلا کہ مفتیانِ کرام آپ کو "فقیہ اہل سنت” کے لقب سے یاد فرماتے تھے۔
قلم و قرطاس پر آپ کی ایسی دسترس تھی کہ جس موضوع پر بھی قلم اٹھایا، اس کا حق ادا فرما دیا ‌۔ آپ کے قلم فیض اثر سے دو سو سے زائد مضامین ومقالات، بیسیوں کتابیں، درجنوں کتابوں پر تقدیمات و تاثرات، حواشی اور تراجم سامنے آچکے ہیں ‌۔
مقالہ نگار ایسے کہ جس علمی کانفرنس میں اور جس موضوع پر بھی مقالہ پڑھا سننے والے ورطۂ حیرت میں پڑ گئے اور آپ کو داد وتحسین دینے پر مجبور ہوگئے ‌۔
آپ ملک العلماء علامہ محمد ظفر الدین قادری بہاری رحمۃ اللہ علیہ کے ارشد تلامذہ میں سے ایک تھے، ان سے ذکر رضا کچھ اس انداز میں سماعت افروز ہوا کہ آپ نے فروغ رضویات کے لئے اپنی زندگی وقف فرما دی، کسی نے کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن پر اعتراضات کئے تو آپ نے ان تمام اعتراضات کا نہایت تحقیقی وتنقیدی جائزہ لیا اور کنزالایمان کے محاسن کو سامنے لا کر مخالفین کی تمام ہرزہ سراہیوں کو طشت ازبام کیا۔ یقیناً آپ فکر رضا کے امین تھے اور سادات کچھوچھہ کے خوشہ چین تھے ۔
آپ کی اچانک وفات حسرت آیات سے دنیائے اہل سنت میں غم و حزن کی ایک ایسی گھٹا چھائی کہ ہر طرف ہی اشکوں کی ایک برسات نظر آئی۔ جگہ جگہ دعائیہ تقریبات ہوئیں، آپ کی یاد میں تعزیتی سیمینار اور اجلاس ہوئے، سنی صحافت نے بھی آپ کی یاد میں آنسوؤں کی سوغات پیش کی ہے۔
اسلاف کی حیات وخدمات کو یاد رکھنا زندہ قوموں کی علامت ہوتی ہے۔ جامع مسجد تہانی علی سلام کاٹے پلی، منڈل پداکڑ بگل، وایا، بانسواڑہ ضلع مارڈی (تلگانہ) کے امام و خطیب مولانا محمد ساجد رضا قادری رضوی کیٹہاری بہاری صاحب زید مجدہ نے ہمارے ممدوح علامہ مفتی آل مصطفیٰ مصباحی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے”واحسرتا” کے عنوان سے آپ کی یادوں کی بارات لے کر آئے ہیں۔
"واحسرتا” فارسی کا لفظ ہے جس کے معنی”کلمۂ حسرت”، ہائے افسوس! حیف! کے ہیں۔

آپ نے نہایت محبت اور عقیدت سے یہ کتاب ترتیب دی ہے ‌ ۔
کتاب کا شرف انتساب قطب بنگال و بہار زبدۃ العارفین سید السالکین حضرت مخدوم شاہ محمد حسین شبیہ سہروردی جلکی شریف کے نام کیا گیا ہے۔
اور تحریک فیضانِ لوح و قلم جگنا تھپور (بیلوا) آبا پور بار سوئی کیٹہار بہار نے اسے اشاعت کرنے کا شرف حاصل کیا ہے۔
علامہ مفتی محمد شہروز عالم رضوی کیٹہاری نے اس کی پروف ریڈنگ کی اور نظر ثانی فرمائی۔
آغاز میں فاضل مرتب نے "سخن ہائے گفتنی” کے تحت کتاب مرتب کرنے کی غرض و غایت سے پردہ اٹھایا ہے۔

” شخصیت کا عکس” کے عنوان سے علامہ مولانا مفتی آل مصطفیٰ مصباحی رحمۃ اللہ علیہ کا شخصی اور سوانحی خاکہ پیش کیا گیا ہے ‌۔ لکھنے والوں میں مولانا محمد نفیس القادری امجدی، مولانا محمد شفاء آل مصطفیٰ مصباحی، مولانا محمد انیس الرحمن چشتی اور ادارہ کنزالایمان بائسی پورنیہ کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔
” وصال پر ملال کی خبر علماء ثقہ کی زبانی” کے عنوان سے مفتی توفیق احسن برکاتی، مولانا محمد عادل رضا مصباحی پورنوی، مولانا غلام محمد صدیقی ارشدی، مولانا محمد نوازش رضا مرکزی کے سوگوار قلم سے آپ کے وصال باکمال کے مناظر دئیے گئے ہیں۔
” سوگوار گلہائے تعزیت نامے” کے عنوان سے ہندوستان بھر کے اہل علم و قلم کے تعزیتی مقالات ومضامین سلک مروارید کی طرح پیش فرمائے گئے ہیں۔ ان میں علماء کرام بھی ہیں، مشائخ کرام بھی ہیں ، صحافی بھی ہیں، مدرس بھی ہیں، خطیب بھی ہیں ‌ ، نقاد بھی ہیں، مقالہ نگار بھی ہیں۔ ہر ایک کا قلم سوگواری میں ڈوبا ہوا نظر آتا ہے۔ کسی نے کہا” میرا رفیق درس مجھ سے رخصت ہوا ” کسی نے علم و ادب کا ستارہ غروب ہوتا ہوا دیکھا، کسی کو علم و تحقیق کد سورج ڈوبتا ہوا نظر آیا، کسی کو نئیر تاباں روپوش ہوتا ہوا نظر آیا، کسی نے آپ کی وفات کو ملت کا خسارہ قرار دیا، کسی نے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا،
"واحسرتا” اشکوں کی ایک برسات ہے، ہر تعزیت گزار کی اپنی ہی بات ہے،
” بیرونی علما و مشائخ کے سوگوار تعزیت نامے” میں گیارہ ان علماء ومشائخ کے تعزیت نامے قارئین کے ذوقِ مطالعہ کے لئے پیش فرمائے گئے ہیں جن کا تعلق ہندوستان سے باہر دوسرے ممالک سے ہے ‌ اس سے ثابت ہوا کہ علامہ مفتی آل مصطفیٰ مصباحی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کا شہرہ صرف ہند تک محدود نہیں تھا بلکہ آپ ایک آفاقی شخصیت تھے،
"دعائیہ تقریبات” میں ان چند مقامات کی نشاندھی کی گئی ہے جہاں آپ کی یاد میں دعائیہ تقریبات انعقاد پذیر ہوئیں۔ ان مقامات میں پھپھوند شریف، جھاڑ کھنڈ،پوکھریرہ، مارہرہ مطہرہ، مبارک پور، مراد آباد، کولکتہ اور پٹنہ شامل ہیں۔
"تعزیتی لیٹر پیڈ” کے عنوان سے چند مشاہیر کی جانب سے ان کے لیٹر پیڈ پر لکھے گئے تعزیتی پیغامات شامل ہیں۔
"شعرائے کرام کی مناقب خوانی” پیش نظر کتاب”واحسرتا” کا آخری باب ہے جو منظومات پر مشتمل ہے، اس میں علامہ مفتی آل مصطفیٰ مصباحی رحمۃ اللہ علیہ کی شان میں نامور شعراء کرام کی جانب سے مناقب اور تاریخی قطعات شامل کئے گئے ہیں۔ ان شعراء کرام میں محمد انور رضا اجمیری، رضا باروی، غلام غوث اجملی، سلمان فریدی صدیقی، جسم اکرم، مجسم فانی رشیدی، نادر جمالی،سید سبطین پروانہ، سید شہباز اصدق اور نجم الامین عروس فاروقی کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔
مولانا محمد ساجد رضا قادری رضوی کیٹہاری بہاری زید مجدہ نے ہمارے ممدوح حضرت علامہ مولانا مفتی آل مصطفیٰ مصباحی رحمۃ اللہ علیہ کی یاد میں نہایت مختصر وقت میں "واحسرتا” کے عنوان سے اپنا نالۂ دل پیش فرما کر اسلاف شناسی کی یہ ایک نہایت عمدہ اور اعلیٰ مثال قائم فرمائی ہے۔ پھر فیضانِ لوح و قلم نے اسے نہایت آب و تاب سے شائع فرما کر لوح و قلم کا بھرم رکھا ہے۔ فقیر انہیں یہ عظیم الشان کتاب مرتب کرنے اور پھر منظر عام پر لانے پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارک باد اور ہدیہ تبریک پیش کرتا ہے۔ اللھم زد فزد۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل آپ کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے نوازے اور اسے شہرت عام اور بقائے دوام بخشے ‌ اور ہم سب کا خاتمہ بالخیر فرمائے۔آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وازواجہ وذریتہ واولیاء امتہ وعلما ملتہ اجمعین۔۔

دعا گو ودعا جو
گدائے کوئے مدینہ شریف
احقر سید صابر حسین شاہ بخاری قادری غفرلہ”خلیفۂ مجاز بریلی شریف” ، سرپرست اعلیٰ ماہ نامہ مجلہ الخاتم انٹر نیشنل و "ہماری آواز”
مدیر اعلیٰ الحقیقہ و سہ ماہی”خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (انٹر نیشنل)
ادارہ فروغ افکار رضا و ختم نبوت اکیڈمی برھان شریف ضلع اٹک پنجاب پاکستان پوسٹ کوڈ نمبر 43710(11/رجب المرجب 1443ھ/13/فروری 2022ء بروز اتوار بوقت 11:18رات، بہ حالت علالت)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے