ملکی خبریں

اخلاق و کردار میں حضوراقدس ﷺ پوری انسانیت کے لئے کامل اسوہ

نوجوان اسوۂ نبوی کو اپناکر ہی بامراد ہوسکتے ہیں۔ مولانا ممشاد پاشاہ کا خطاب

حیدرآباد 29 / اکتوبر(راست) حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق عالیہ سے بڑھ کر کون اعلیٰ اخلاق کا پیکر ہوسکتا ہے،قرآن اخلاقیات کا اجمال ہے تو حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ اخلاقیات کا اعلیٰ نمونہ ہے، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے کسی نے پوچھا کہ حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کیا ہیں؟ تو آپؓ نے پوچھا کہ کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا؟ اس نے کہا پڑھا ہے تو آپؓ نے فرمایا قرآن ہی حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق ہے۔ ان خیالات کا اظہار نبیرۂ حضرت سید زرد علی شاہ صاحب مہاجر مکی مولانا سید محمد علی قادری الہاشمی ممشاد پاشاہ بانی وصدر مرکزی مجلس قادریہ نے قبل ازجمعہ جامع مسجد خواجہ گلشن، مہدی پٹنم اور مسجد محمودیہ ناغڑ، یاقوت پورہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا۔ مولانا ممشاد پاشاہ نے کہا کہ حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ پیکر خلق عظیم تھی کہ جس کی گواہی خود قرآن حکیم نے دی کہ اور بے شک آپ اعلیٰ اخلاق کے پیکر ہیں۔ ہم عام طور پر خُلقْ کے سرسری تصور سے آشناء ہیں، محض خندہ پیشانی، خوش طبعی اور مسکراہٹ سے مل لینے کو اخلاق گردانتنے ہیں جبکہ خُلق کا معنی و مراد اپنے اندر بڑی گہرائی رکھتا ہے۔ لغتِ عرب کے مشہور امام علامہ ابن منظور کہتے ہیں۔ خُلقْ اور خَلقْ کا معنی فطرت اور طبیعت ہے۔ انسانی کی باطنی صورت کو اور اسکے مخصوص اوصاف و معانی کو خُلقْ کہتے ہیں اور اس کی ظاہر ی شکل میں صورت کو خُلقْ کہتے ہیں۔ حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم بارگاہ الٰہی میں دعا فرماتے، اے اللہ جسطرح تو نے میری ظاہری شکل و شباہت کو حسین و دلنواز بنایا اسی طرح میری خُلقْ کو بھی حسین و جمیل بنا دے۔ایک اور روایت میں یہ دعا بھی منقول ہے،اے اللہ! میرے اخلاق کو دلکش و زیبا بنا دے کیونکہ خوبصورت اخلاق کی طرف تو ہی رہنمائی فرماتا ہے۔ حضرت اسماعیل حقی ؒ فرماتے ہیں،حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق تمام اخلاقی خوبیوں کا جامع ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت نوح ؑکا شکر، حضرت ابراہیم ؑ کی خلت، حضرت موسیٰ ؑ کا اخلاص، حضرت اسماعیل ؑ کے وعدے کی سچائی، حضرت یعقوب ؑ اور حضرت ایوب ؑ کا صبر،حضرت داؤدؑ کا عذر، حضرت سلیمان ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کی عاجزی اور ان کے علاوہ تمام انبیاء کرام ؑ کے اخلاق عطا فرمائے اور یہ وہ مقام ہے جو تمام انبیاء کرام ؑ میں سے صرف حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوا۔ علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمی ؒ لکھتے ہیں،حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم محاسن اخلاق کے تمام گوشوں کے جامع تھے،یعنی حلم و عفو، رحم و کرم، عدل و انصاف، جود وسخا، ایثار و قربانی، مہمان نوازی، عدم تشدد، شجاعت، ایفاءِ عہد، حسنِ معاملہ، صبروقناعت، نرم گفتاری، خوش روئی، ملنساری، مساوات، غمخواری، سادگی و بے تکلُّفی، تواضع واِنکساری اور حیاداری کی بہت بلند منزلوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فائز و سرفراز ہیں۔حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ عالیہ کی عظمت و بزرگی کا ایک پہلو اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی امت کو بھی اَخلاقِ حَسنہ اپنانے کی تعلیم اور ترغیب دی ہے،حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمانوں میں سب سے زیادہ اچھا وہ ہے جس کے اَخلاق سب سے زیادہ اچھے ہیں۔حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ حسنِ اخلاق کی وجہ سے دن میں روزہ رکھنے اور رات میں قیام کرنے والوں کا درجہ پا لیتا ہے۔حضرت ابودرداء ؓ سے روایت ہے،حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا،میزان عمل میں حسن اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی چیز نہیں۔حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے، حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ ارشاد فرمایا،کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو قیامت کے دن تم میں سب سے زیادہ مجھے محبوب اور سب سے زیادہ میری مجلس کے قریب گا۔ہم نے عرض کیا،یارسول اللہ! کیوں نہیں! ارشاد فرمایا،یہ وہ شخص ہو گا جس کے اَخلاق تم میں سب سے زیادہ اچھے ہوں گے۔مولانا ممشاد پاشاہ نے مزید کہا کہ حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کبھی کسی پر ظلم کیا اور نہ کرنے کا حکم دیا،دوسروں کے جان اور مال کی حفاظت کرنا سکھایا، عورتوں کا مرتبہ بلند ترین سطح پر پہنچا دیا جو ان کا اصل مقام تھا، بیویوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا،پڑوسیوں کے حقوق بتلائے، غلاموں کیساتھ احسن سلوک کرنے کی تاکید کی، مسکینوں اور محتاجوں کی حاجت روائی کرنے پر اکسایا، یتیموں پر شفقت کرنے والے کو جنت کی بشارت دی۔ہماری ذمہ داری ہے ہم اپنے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کو مستحکم کریں اور حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو صرف درس و تدریس تک ہی محدود نہ رکھیں،بلکہ ان تعلیمات کے فیضان سے دنیا کو جگمگانے کی ضرورت ہے۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button