اشعاروغزل

غزل: دل کہیں اور فدا کیا کرنا

خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان

اب تجھے خود سے جدا کیا کرنا
دل کہیں اور فدا کیا کرنا

اک تمہیں سے یہ دل لگایا ہے
سوچ کے اچھا برا کیا کرنا

بس یہی بات میں کہوں تم سے
اب وفا ہو یا جفا کیا کرنا

کیوں ہو تم دور دور اب مجھ سے
اب ہو میرے تو حیا کیا کرنا

یونہی کرتے رقیب ہیں سارے
جا کے ان سے گلہ ہے کیا کرنا

زندگی میں وفا نہیں ملتی
طول عمری کی دعا کیا کرنا

اپنے فیضان کا دل بسا لو تو
ہجرتیں پھر یہاں سے کیا کرنا

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button