مذہبی مضامین

فرقہ بجنوریہ کی سازشیں

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ

چند ماہ قبل فرقہ بجنوریہ کی طرف سے ایک کتاب بنام”مسئلہ تکفیر و متکلمین”شائع کی گئی ہے۔میں نے کتاب تو نہیں دیکھی ہے,لیکن احباب نے چند صفحات کے فوٹو بھیجے تھے۔

چوں کہ فرقہ بجنوریہ مسلک دیوبند کےاشخاص اربعہ کو مومن ثابت کرنے کے واسطے مسلسل سعی لا حاصل کر رہا ہے تو اس کتاب کا مقصد بھی وہی ہو گا کہ کسی طرح اشخاص اربعہ کو مومن مان لیا جائے اور جس طرح فرقہ بجنوریہ خود ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے,اسی طرح دوسروں کی دولت ایمان لوٹ کر ان سب کو بھی جہنم کی طرف لے بھاگنا چاہتا ہے۔

مذکورہ کتاب کے صفحہ 351 پر مکتوبات صدی میں مرقوم حضرت شیخ مخدوم یحیی منیری قدس سرہ العزیز کی درج ذیل عبارت نقل کی گئی ہے۔
"اگر خواہد در ہر لحظے صد ہزار چوں محمد بیافریند۔وہر نفسے از انفاس قاب قوسین دہد۔در جلال او ذرہ زیادت نہ گردد”

یعنی اگراللہ تعالی کی مشیت ہو تو ہر لمحہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لاکھ مثیل ونظیر پیدا فرمائے اور ہر نفس کو مقام قاب قوسین عطا فرما دے۔تو اس سے اللہ تعالی کی عظمت میں ذرہ برابر فرق نہیں آئے گا۔

اس عبارت کو نقل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ امام اہل سنت حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی قدس العزیز نے جو امتناع نظیر کا نظریہ پیش فرمایا ہے,وہ غلط ہے اور فرقہ بجنوریہ کے دادا دہلوی اسماعیل نے جو امکان نظیر کا عقیدہ پیش کیا,وہ صحیح ہے۔

حضرت علامہ خیر آبادی قدس سرہ القوی نے حضرت مخدوم علیہ الرحمۃ والرضوان کی منقولہ بالا عبارت کی تشریح اپنے رسالہ بے نظیر یعنی امتناع النظیر (ص368 تا 372 )میں تفصیل کے ساتھ بیان فرما دیا ہے۔

در حقیقت مکتوبات کی عبارت میں ان صفات میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے مماثلت مراد ہے,جن میں مماثلت ممکن ہے۔جن میں مماثلت اور اثنینیت ممکن نہیں,مثلا ختم نبوت وغیرہ تو ایسی صفات مراد نہیں۔کوئی عاقل ان صفات میں اشتراک کیسے مراد لے گا جن میں اشتراک محال ہو۔

اسماعیل دہلوی کی تقویۃ الایمان میں جو اسی کے مشابہ متنازعہ عبارت ہے,اس کے اجمالی رد میں”تقریر اعتراضات بر تقویت الایمان”میں علامہ خیرآبادی قدس سرہ القوی نے آیت ختم نبوت کو رقم فرما کر دہلوی پر اعتراض فرمایا تھا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی مثل کا پیدا ہونا ممکن تسلیم کیا جائے تو آیت ختم نبوت کا کذب لازم آئے گا اور کذب باری تعالی محال ہے۔

اگر دہلوی یہ جواب دیتا کہ ہم نے صفات مشترکہ ممکنہ میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے مماثل کی تخلیق مراد لی ہے تو دہلوی پر کوئی اعتراض نہ ہوتا,لیکن دہلوی نے تقریر اعتراضات کے جواب میں رسالہ یک روزہ لکھا اور اس میں امکان کذب باری تعالی اور امکان نظیر کا قول کیا اور کذب باری تعالی کے امکان وقوعی کا انکار کیا۔اسی طرح حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے مماثل و نظیر کے امکان وقوعی کا انکار کیا۔

الحاصل دہلوی نے صفات خاصہ غیر مشترکہ میں مماثلت کو بھی صحیح قرار دیا,اسی سبب سے دہلوی کا قول غلط ہوا,اور مکوبات کی عبارت صحیح ہوئی۔

دوسری بات یہ کہ مکتوبات صدی وغیرہ کی نسبت حضرت مخدوم کی طرف متواتر نہیں۔

ایسے نسخے کہیں مخطوط شکل میں دستیاب ہوتے ہیں,اس کو شائع کر دیا جاتا ہے۔ممکن ہے کہ کسی نے نسخے میں تحریف کر دی ہو۔

ایسے نسخوں کا تفصیلی حکم امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کے رسالہ "حجب العوار عن مخدوم بہار”میں بیان کر دیا گیا ہے۔

جس طرح بی جے پی بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کے لئے سرتوڑ کوشش کر رہی ہے,اسی طرح فرقہ بجنوریہ مرتدین اربعہ کو اقطاب اربعہ بنانے کے لئے اپنی قوت سے زیادہ کوشش کر رہا ہے۔وہ مرتدین کو تومومن بنا نہیں سکتے,لیکن خود مرتد ضرور ہو سکتے ہیں۔

جب کفر کلامی کا صحیح فتوی کسی پر عائد ہو تو جو اس فتوی کا علم ہونے کے بعد اس ملزم کو مومن کہے,وہ بھی کافر ہے۔ہم نے اپنے سلسلہ وار مضمون بعنوان "مسئلہ تکفیر کس کے لئے تحقیقی ہے”میں وضاحت کی ہے کہ کفر کلامی کے صحیح فتوی میں اختلاف کی گنجائش نہیں۔اس کی انیس(19)قسطیں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی جا چکی ہیں۔ان شاء اللہ تعالی اس قسم کے مزید سلسلہ وار مضامین یکے بعد دیگرے پیش کئے جاتے رہیں گے۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

ایک تبصرہ

  1. دوسروں کے ذریعہ سنی باتوں اور کٹ پس صفحات و عبارات کی جگہ اگر توفیق ملے تو پہلے پوری کتاب پڑھ کر ہی تبصرہ کریں ورنہ اس طرح کے لاکھوں تبصرے ردی کی ٹوکری میں اپنا وجود گم کیے بیٹھے ہیں. شاید اس کا بھی شمار اسی میں ہو.

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button