از قلم: خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786
آج ہم اور آپ جس ماحول میں رہتے ہیں اس میں ہر طرح کا انسان پائے جاتے ہیں
ہر انسان کی اپنی اپنی ذہنیت اور اپنی اپنی سوچ ہے
کچھ انسان وہ ہیں جو اپنی پوری زندگی شریعت کے دائرے میں رہ کر گزارنا چاہتے ہیں ؛
اور کچھ انسان وہ ہیں جو اپنی اس دنیاوی مختصر سی زندگی میں من مانی کرتے ہیں ؛ نہ ان کو شریعت کی کوئی پروا ہوتی ہے اور نہ ان کو سماج کا کوئی خیال و خوف ہوتا ؛
ان کو اس چیز کی پرواہ نہیں کہ ان کے ان اقدام سے سماج اور معاشرہ پر کتنا برا اثر پڑتا ہے؛ وہ تو وہی کرتے ہیں جو ذہن میں آتا ہے؛ جو دماغ کام کرتا ہے ؛ (یعنی من مانی کرتے ہیں) اس کو ایک طرح کی دماغی بیماری بھی کر سکتے ہیں ؛ اور
اس میں ملوث کچھ ہمارے بھائی اور کچھ ہمارے بہنیں بھی ہیں
مثلاً۔ کچھ ہماری بہنیں ؛ بیٹیاں اور بھائی ہیں ؛
ان کی سوچ اتنی قبیح اور بے ہودہ ہو چکی ہے کہ شادی سے پہلے ان کو لڑکا مالدار چاہیے ؛ دولت والا چاہیے ؛ اس کے پاس ڈھیر ساری زمین ہو؛ ٹریکٹر ؛ ٹرولی ؛ گاڑی؛ موٹر سائیکل ؛چار پہیہ گاڑی اور ٹرک ؛ بس وغیرہ ہو ؛اگر اس طرح کا لڑکا مل گیا تو بہتر ہے ؛ اور اگر کوئی نہیں مل پا رہا ہے ؛ تو اپنی بہن؛ بیٹی کو ایسے ہی بیٹھائے ہوئے ہیں ؛
کچھ ہماری بہنوں کی؛ بیٹیوں کی سوچ ہو چکی ہے ؛ کہ ان کو صرف پڑھا ؛ لکھا ہوا لڑکا ہی چاہیے ؛اگر پڑھا ؛لکھا لڑکا نہیں مل رہا ہے ؟ تو بہن ؛ بیٹی کو ایسے ہی بیٹھائے ہوئے ہیں؛ اور کچھ ہماری بہنیں؛ بیٹیاں ایسی بھی ہیں جو صرف اور صرف انگریزی پڑے ہوئے ہی لڑکے کو پسند کرتی ہیں ؛ پینٹ شرٹ پہننے والے ہی کو پسند کرتی ہیں ؛ معاذ اللہ بعض بہنیں ؛ بیٹیاں ایسی بھی ہیں جو داڑھی منڈوانے والے ہی کو پسند کرتی ہیں ؛اگر کسی داڑھی والے لڑکے کا رشتہ آبھی جاتا ہے تو اس کو بعض بعض لڑکیاں خود منع کردیتی ہے بعض اپنی ماں کے ذریعہ منع کروا دیتی ہیں "
لیکن الحمد للہ آچ بھی بعض لڑکیاں ایسی ہیں جو پینٹ شرٹ پہننے والے کو پسند نہیں کرتیں؛ جو داڑھی منڈوانے والے کو پسند نہیں کرتیں؛ جو شریعت کے خلاف کام کرنے والے کو پسند نہیں کرتیں؛ پسند کرتی ہیں تو صرف شریعت پر چلنے والے کو؛ چہرے پہ داڑھی سجانے والے کو ؛کرتا پاجامہ پہننے والے کو؛ حلال روزی کمانے اور کھانے اور کھلانے والے کو
ایک نظر لڑکوں اور ان کے گھر والوں پر بھی ڈال لیتے ہیں
بعض لڑکوں کا حال یہ ہے کہ
جب شادی کا وقت آتا ہے تو لڑکا ازخود یا کسی کے ذریعہ سے اپنے گھر والوں کو کہلواتا ہے
کی لڑکی خوبصورت دیکھنا؛
اس کی کتنی دولت ہے وہ دیکھنا؛
اس کے بھائیوں کے کتنے کتنے بڑے کاروبار ہیں ؛ اور لڑکی کم عمر کی دیکھنا؛انگریزی پڑھی ہوئی دیکھنا؛اور آج کے دور میں تو کہتا ہے کہ انٹر نیٹ چلا لیتی ہو (یعنی فیس بک ؛ واٹس اپ ؛ انسٹاگرام ؛گوگل اور یوٹیوب چلا لیتی ہو) ؛اور بعض لڑکے تو یہ دیکھتے ہیں کہ اس کے بال بھی کٹے ہوئے ہونا چاہیے؛ بھؤ ؛ پلک بنے ہوئے ہونا چاہیے ؛ (معاذ اللہ)اور بعد میں کہتا ہے کہ
ان سے کہنا کہ چار پہیہ والی گاڑی دیں؛ مجھے فلاں جگہ گاڑی مل رہی تھی ؛فلاں جگہ گاڑی مل رہی تھی ؛ آپ بھی گاڑی دیجئے گا ؛ معاشرے میں؛ سماج میں؛ لوگ میری بہت قدر کرتے ہیں ؛
اور گاؤں دیہاتوں میں تو ان چیزوں پہ زیادہ دھیان دیتے ہیں کہ
اگر لڑکی تھوڑی سی کالے رنگ میں ہے؛ تو اس سےرشتہ نہیں کریں گے؛ اگر لڑکی تھوڑی سی لمبی ہے؛ تو سے رشتہ نہیں کریں گے؛ اگر لڑکی تھوڑی سی موٹی ہے تو رشتہ نہیں کریں گے؛
اگر لڑکی تھوڑی ناٹی (پست قد) تو اسے رشتہ نہیں کریں گے؛ اگر لڑکی اردو پڑھی ہوئی ہے تو رشتہ نہیں کریں گے؛ صرف کلام پاک پڑھی ہوئی ہے تو رشتہ نہیں کریں گے ؛
کالی ہونے کی وجہ سے رشتہ نہ کرنا ؛لمبی ہو نے کی وجہ سے رشتہ ٹکھرادینا ؛ پست قد ہونے کی وجہ سے رشتہ کرنے سے انکارکردینا ؛ تھوڑی بہت موٹی ہونے کی وجہ سے رشتے سے انکار کر دینا ؛ اردو یا کلام پاک پڑھی ہوئی لڑکی سے رشتہ کرنے سے گریز کرنا ؛یہ شرعی عذر نہیں ہیں؛ شریعت نے اس طرح کی لڑکیوں سے رشتہ کرنے کو منع نہیں کیا ہے ؟
اس طرح کی لڑکیوں سے شادی کرنا خلاف شرع نہیں ہے بلکہ اس طرح کی لڑکیوں سے رشتہ کرنا ؛شادی کرنا ؛ عین شریعت کے مطابق ہے ؛ شریعت میں کہیں بھی اس طرح کی کوئی ممانعت نہیں آئی ہے؛ کہ لمبی لڑکی سے شادی نہ کرو ؛ ناٹی لڑکی سے شادی نہ کرو ؛ کالی لڑکی سے شادی نہ کرو؛ غریب کی لڑکی سے شادی نہ کرو؛ قرآن شریف پڑھی لڑکی سے شادی نہ کرو ؛ اردو پڑی ہوئی لڑکی سے شادی نہ کرو ؛
بلکہ ممانعت تو مندرجہ ذیل لڑکیوں سے شادی کرنے کی ملتی ہے
جو لڑکی اپنے ماں باپ کا احترام نہ کرتی ہو ؛ جو لڑکی بے پردہ گھومتی ہو ؛ جو لڑکی شریعت کے خلاف لباس پہنتی ہو ؛ جو لڑکی بغیر بتائے گھر سے کہیں وہ باہر جاتی ہو؛ جو لڑکی نماز نہ پڑھتی ہو؛ جو لڑکی غلط خیالات رکھتی ہو؛ جو لڑکی اپنا حلیہ شریعت کے خلاف بنائے پھرتی ہوں ؛ جو لڑکی زبان دراز ہو ؛جو لڑکی دست دراز ہو ؛
جو لڑکی خلاف شرع کام کرنے کی عادی ہو ؛ وغیرہ وغیرہ
نعوذ باللہ ایسے حالات ہو چکے ہیں لڑکے والوں کے
اسی وجہ سے آج بہت سی لڑکیاں تیس سال ؛چالیس سال؛ اور بعض پچاس سال عمر تک کی کنواری اپنے گھروں میں بیٹھی ہوئی ہیں
اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ وہی لمبی چوڑی مانگ والے جن کی لمبی چوڑی مانگ نےلڑکیوں کو گھر میں بیٹھنے پر مجبور کر دیا ہے ؛ لڑکی والے کے پاس اتنا ہو ہی نہیں پاتا ہے جو وہ ان کی مانگ کے مطابق دے سکے؟
اور اس کے ذمہ دار ماں ؛باپ ؛ بھی ہیں
اب نبی پاکﷺ کے اسوہ حسنہ پر نظر ڈالتے ہیں پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب پہلا نکاح فرمایا تو اس وقت آپ کی عمر شریف 24 سال تھی اور آپ کی شریک حیات ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالی عنہا کی عمر شریف اس وقت چالیس یا چوالیس سال تھی اور آپ بیوہ تھیں (پہلے آپ کے دو شوہر انتقال کر گئے تھے)
اسی طریقے سے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں زیادہ تر ہر بیویاں یا تو بیوہ تھیں یا طلاق شدہ ؛ کنواری صرف ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا تھیں
میں نے ماقبل میں کہا تھا کہ کچھ چیزوں کے ذمہ دار ماں ؛ باپ ؛ بھی ہیں اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اگر کوئی رشتہ مناسب ہے لیکن اس کی پہلی شادی ہو چکی تھی تو اس کے ساتھ شادی کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور کہتے ہیں یہ تو دوجیا ہے اس کو کون اپنی لڑکی گا – یہ تو وہ رسم لے کر کے چل رہے ہیں جو زمانہ جاہلیت میں تھی اور دور حاضر میں کچھ کفار مشرکین کے ہاں پائی جاتی ہے
اللہ تعالی تمام اسلامی بہنوں کو مناسب رشتے عطا فرمائے