بین الاقوامیتنقید و تبصرہفلمی دنیاگوشہ خواتین

پاکستانی ڈرامہ سیریل: غلطی فہمیاں اور ازالے (قسط اول)

تحریر: بنت مفتی عبدالمالک مصباحی، جمشیدپور

آج ایک عزیزہ نے میسیج کیا کہ "ذرا پاکستانی سیریل دیکھنے والیوں کی خوش فہمیوں اور باطل تاویلات پر روشنی ڈال دی جائے کیوں کہ اس میں اپنے آپ کو دیندار سمجھنے والیوں کا بڑا طبقہ بھی شامل ہیں” – اس بات کو میں نے بھی حقیقت سے بہت قریب پایا تو سوچا کہ آج پاکستانی سیریلز دیکھنے والیوں کی چند غلط فہمیوں کو اس مختصر سی تحریر میں دور کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ اس عظیم دھوکے اور فریب کو سمجھیں اور اس مہلک حرکت سے دور ہوں –

پہلیغلطفہمی: سیریل میں کیا ہوتا ہے بس ایک سبق آموز کہانی ہوتی ہے ہم اسے دیکھ کر سبق سیکھتے ہیں –

ازالہ : یہ نہ بولیں کہ سیریل میں کیا ہے یہ بولیں کہ سیرل میں کیا نہیں ہوتا ہے؟ کون سی فحاشی سیریل میں نہیں ہوتی ہے؛ رہی سبق سیکھنے کی بات تو پہلے یہ بتائیں کہ سبق کب سکھایا جاتا ہے؟ اسی وقت نہ جب ہر طرح سے اور مختلف طریقوں سے فتنہ پھیلانے، دھوکہ دینے، دغابازی کرنے کا ایک ایک طریقہ سکھا دیا جاتا ہے؛ اب آپ بتائیں کہ آپ دھوکہ دہی، دغابازی اور فتنہ و فساد پھیلانے کے طریقوں کو زیادہ اچھے سے سیکھتی ہیں یا سبق؟
اور ویسے بھی انسانی فطرت ہے کہ برائی کی طرف جلد راغبت ہوتی ہیں اور اچھائی (سبق) کو جلدی محو ہو جاتی ہے؛ لہذا یہ بڑی غلطی فہمی ہے کہ ہم سیریلز سے سبق سیکھیں گے!

دوسریغلطفہمی : بس ہم دل بہلانے کے لیے سیریل دیکھتے ہیں کوئی ویسے ہی تھوڑی بن جائیں گے!

ازالہ : یہ بھی بڑی غلط فہمی ہے کہ ہم دیکھیں گے اور ہمارے اخلاق و کردار پر کچھ اثر نہیں کرے گا، ہم ویسے نہیں بنیں گے وغیرہ وغیرہ؛ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ_ ہم جو کچھ بھی دیکھتے ہیں وہ ہماری یادداشت اور دماغ کے ایک گوشے میں محفوظ ہو جاتے ہیں، پھر وہ سب ہمارے دل و دماغ پر دھیرے دھیرے اثر کرنا شروع کر دیتے ہیں، قلوب و اذہان اسے قبول کرنے اور اچھا سمجھنے لگتے ہیں، مزاج پھر ویسا ہی بننے لگتا ہے اور اخیر میں اخلاق اور فطرت بھی زیر اثر آ جاتی ہے اور ایک دن آتا ہے کہ وہی خرافات ہمارے اخلاق میں بھی سما جاتے ہیں اور یہ سب اتنی خاموشی سے ہوتا ہے کہ ہمیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا –
واقعی_ابھی آپ کو لگ رہا ہے کہ ہم ویسے نہیں بن جائیں گے لیکن اگر یہی سلسلہ رہا تو آپ ویسی ہی بن جائیں گی اگر چہ آپ کو اس کا احساس نہ ہو؛ یہی وجہ ہے نا کہ اسلام نے برائیوں کی طرف دیکھنے سے منع کیا ہے –

تیسریغلطفہمی: پاکستانی سیریلز کے رائٹرز اور ایکٹرز مسلمان ہوتے ہیں، اسلامی ماحول دکھایا جاتا ہے اسی لیے ان سیریلز کو دیکھنا کچھ خاص برا نہیں ہے –
ازالہ: یہ بڑی حماقت اور بھول ہے کہ ان سیریلز کے رائٹرز مسلمان ہوتے ہیں تو اسلامی تعلیمات کا خیال رکھا جاتا ہے! حقیقت تو یہ ہے کہ ان جاہل نام نہاد مسلمانوں نے بھی وہی کچھ لکھا ہے جو غیروں نے لکھا ہے، وہی اسلامی تعلیمات کی دھجیاں اڑائی ہیں، اب چاہے عقائد کے معاملے میں ہو مسائل کے متعلق ہر جہات سے ان سیریلز میں اسلام کی مخالفت ہی نظر آتی ہے –
رہے ایکٹرز تو ان کو آپ مسلمان جان کر غلط فہمی میں ہرگز مبتلا نہ ہوں؛ جب کہ؛ ع
یہ مسلماں ہیں! جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود!
جب یہ مسلمان خود حقیقت میں مسلمان کہلانے کے لائق نہیں ہیں تو انھیں دیکھ کر خوش ہونا کہ مسلمانوں کا سیریل ہے تو اس میں فحاشی و بے حیائی نہیں ہوگی بڑی بھول ہے – اللہ اکبر! آپ یہ سوچ رہی ہیں کہ ان سیریلوں میں اسلامی تعلیمات کا خیال رکھا گیا حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ انھیں کم بختوں کی وجہ سے لوگ اسلام سے دور ہو رہے ہیں کہ ان میں اور غیروں میں فرق ہی کیا ہے – المختصران پاکستانی سیریلز کی وجہ سے کبھی دھوکے میں نہ پڑیں؛ ان کے بڑے خرافات ہیں؛ ان شاء اللہ اگلی قسط میں مزید کچھ غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جائے گا؛ اللہ رب العزت عمل کی توفیق عطا فرمائے –

جاری

ہما اکبر آفرین

محترمہ ہما اکبر آفرین صاحبہ گورکھ پور(یو۔پی۔) کے قدیم ترین قصبہ گولا بازار سے تعلق رکھنے والی بہترین قلم کار ہیں۔ فی الحال موصوفہ ہماری آواز کے گوشہ خواتین و اطفال میں ایڈیٹر ہیں۔ ہماری آواز

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button