اشعاروغزل

غزل: جب بھی آئیں گے وہ خیالوں میں

خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان

جب بھی آئیں گے وہ خیالوں میں
اشک آتے ہیں میری آنکھوں میں

چاندنی رات کے اجالوں میں
بات کرتے ہیں وہ مثالوں میں

یاد محبوب کی جب آتی ہے
زلزلے آتے ہیں خیالوں میں

عکس اُنکا ہی بس جھلکتا ہے
میری تحریر کے حوالوں میں

جب تیرا تذکرہ ہو محفلِ میں
رت بدل جائے گی سوالوں میں

اپنی کرنی کا پھل ملا ہے مجھے
قہر نازل ہوا ہے سالوں میں

ہوش گم ہوتے ہیں میرے فیضان
جب وہ آتے میرے خیالوں میں

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button