شعر و شاعری منقبت

منقبت: تم سا نہیں ہے سخا غوث اعظم

نتیجۃ فکر: شمس الحق علیمی، مہراج گنج

کرو تم ہمیں بھی عطا غوث اعظم
کہ تم سا نہیں ہے سخا غوث اعظم

فقیروں کے حاجت روا غوث اعظم
اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم

‏‎ ہمیشہ کیا ہے مدد آ کے تم نے
دیا ہے جہاں سے صدا غوث اعظم

‏‎ادا اِک وضو سے کرو تم نمازیں
خدا نے وہ طاقت دیا غوث اعظم

‎‏‎کہ حسنی حسینی یہ شجرہ تمھارا
ہے دونوں طرف سے ملا غوث اعظم

مصیبت میں چاروں طرف سےگھرا ہوں
کرو تم مصیبت،،،،،،، فنا غوث اعظم

یہ شمسی زمانے میں تنہا پڑا ہے
حمایت تری ہو سدا غوث اعظم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے